پابندیاں و اقدامات بجا لیکن وباء قابو میں نہیں آئے گی

پابندیاں و اقدامات بجا لیکن وباء قابو میں نہیں آئے گی

وطن ِعزیز میں کورونا وائرس کی تیسری لہر میں شدت آنے اور اس باعث آئے روز درجنوں افراد کی اموات اور ہزاروں کی تعداد میں نئے کیسز رپورٹ ہونے کی وجہ سے کاروبار کو ہفتے کے صرف پانچ دن کھلا رکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ پیر کو نیشنل اینڈ کمانڈ سنٹر (این سی او سی) کے اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کاروباری سرگرمیاں رات آٹھ بجے تک جاری رکھی جائیں گی جبکہ اس کے علاوہ سینما ہالز اور مزارات سمیت تمام انڈور تقریبات پر مکمل پابندی ہو گی۔ علاوہ ازیں ذرائع آمدورفت، سرکاری و نجی دفاتر میں عملے کی موجودگی اور بین الصوبائی نقل و حرکت سمیت ماسک کی پابندی کے حوالے بھی سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ تعلیمی اداروں کے حوالے سے بھی آج فیصلہ کیا جائے گا۔ محولہ بالا تمام فیصلوں کا اطلاق آئندہ ماہ کی گیارہ تاریخ تک نافذ العمل ہو گا۔ ہم سمجھتے ہیں اور اس امر کا اعادہ انہی صفحات پر بار بار کر بھی چکے ہیں کہ حکومت کے محولہ بالا اقدامات یا قسما قسم پابندیوں پر مبنی اعلانات عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور خودفریبی کے علاوہ اور کوئی معنی نہیں رکھتے نہ ہی ان اقدامات کا کوئی مثبت نتیجہ نکلے گا۔ گزشتہ سال فروری کے اواخر میں کورونا کا پہلا کیس رپورٹ ہونے کے بعد سے لے کر اب تک کے تمام حکومتی اقدامات کا نتیجہ کورونا کی وبائی صورتحال میں شدت کی صورت میں ہمارے سامنے ہے لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ محولہ بالا پابندیوں سے طرح طرح کے چیلنجز سے دوچار ملکِ عزیز کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔ ویسے بھی دیکھا جائے تو حکومت کے مذکورہ بالا فیصلوں میں صرف احتیاط کا پہلو ہی نمایاں ہے، کورونا ویکسینیشن، ٹیسٹنگ کی استعداد و صلاحیت، ٹریسنگ کی اہلیت اور اس طرح کی دیگر ضروریات و لوازمات کے حوالے سے حکومت نے مکمل طور پر خاموشی اختیار رکھی ہے باوجود اس کے کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں اس مقصد کے لئے ہماری قومی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اچھی خاصی رقم مختص کی گئی ہے لیکن یہاں بھی معنی خیز خاموشی سے کام لیا جا رہا ہے اور تاحال قوم کو اس فنڈ کے استعمال کے بارے میں کسی قسم کی کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ البتہ گزشتہ سال وزیر اعظم کی کابینہ کی ایک اہم شخصیت پر بیس ملین ماسک کو غیرقانونی طور پر سمگلنگ کرنے کے الزام کے بعد اب یہ دعوے یا الزامات بھی ضرور عائد کئے جا رہے ہیں کہ وزیر اعظم ہی کے ایک اور معتمد اور قریبی ساتھی کی کمپنی کو کورونا ویکسین کی درآمد کا اجازت نامہ جاری کر کے تقریباً ڈیڑھ ارب کا منافع پہنچانے کی راہ ہموار کی گئی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ کورونا ویکسینیشن کی جو مہم چلائی جا رہی ہے اور جس بارے کبھی کبھار ایک آدھ بیان بھی جاری کیا جاتا ہے وہ قوم کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق ہی ہے، بائیس کروڑ سے زائد آبادی کے حامل ملک کے لئے کبھی خیرات میں ملنے والی چند لاکھ ویکسین تو کبھی دس بارہ لاکھ خوراکوں کی خریداری سے متعلق طے پائے جا رہے معاملات کے اعلان سے یہ وباء قابو میں نہیں آئے گی۔ کورونا کی برطانوی قسم کی پاکستان میں موجودگی یقیناً ایک تشویش ناک امر ہے لیکن خدانخواستہ برازیل یا نیویارک میں پائی جانے والی کورونا کی اقسام یہاں پہنچتی ہیں تو پھر حالات انہائی خوفناک صورت اختیار کر سکتے ہیں کیونکہ یہ کورونا کی وہ اقسام ہیں خصوصاً نیویارک والی قسم جو کورونا ویکسین کو بھی غیرموثر بنا دیتی ہیں۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت محولہ بالا پابندیوں کے ساتھ ساتھ ٹیسٹنگ، ٹریسنگ کی استعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ کورونا ویکسینیشن کی بھرپور مہم چلانے کے لئے انتظامات اور اس سے بھی زیادہ ضروری عوام میں اس حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لئے اقدامات کو یقینی بنائے، نیز کورونا ایس او پیز پر خود حکمرانوں کی جانب سے عملدرآمد بھی نہایت ضروری ہے، بصورت دیگر سانپ گزر جائے گا اور لکیر پیٹنے کے لئے شاید ہم باقی بھی نہ رہیں۔