پاک بھارت تعلقات،خوش آئند اشارے

پاک بھارت تعلقات،خوش آئند اشارے

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے پاکستان کیساتھ اچھے اور خوشگوار دوستانہ تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور ساتھ ہی کہاہے کہ اس کے لیے دہشت گردی اور دشمنی سے پاک ماحول کا ہونا ضروری ہے وزیراعظم عمران خان کے نام اپنے خط میں انہوں نے گزشتہ روز یوم پاکستان پروزیراعظم اور پوری قوم کو مبارک باد دی ہے۔ یہ خط اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن نے دفترخارجہ کے ذریعے وزیراعظم کو پہنچایا ہے۔بھارتی وزیراعظم نے کہاہے کہ وہ انسانیت پر اس مشکل وقت میں کورونا کی وبا کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے پاکستانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار اور اپنی طرف سے مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہیں۔اسی طرح گزشتہ روز نئی دہلی میں پاکستان کے قائم مقام ہائی کمشنر آفتاب حسن خان نے بھی یوم پاکستان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک بھارت سمیت اپنے تمام ہمسایہ ملکوں کیساتھ اچھے اور دوستانہ تعلقات کا خواہش مند ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا کو اس وقت امن کی سخت ضرورت ہے۔پاکستانی ہائی کمیشن کی طرف سے گزشتہ روز جاری کیے گئے بیان میں پاکستانی قائم مقام ہائی کمشنر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیرسمیت تمام معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے ضرورت پر زور دیا ۔25 فروری کو دونوں ملکوں کے درمیان کنٹرول لائن پرامن کے لیے2003ء کے سیزفائرمعاہدے کی پابندی کے اعلان کے بعد پاکستان اور بھارت میں باہمی تعلقات کے حوالے سے برف پگھلنے لگی ہے اور دونوں طرف سے ہی خیرسگالی کے پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔پاک بھارت تعلقات میں بہتری کی ایک علامت سندھ طاس کمیشن کے مذاکرات بھی ہیں جو ڈھائی سال کے وقفہ کے بعد گزشتہ دنوں نئی دہلی میں شروع ہوئے ہیں۔دوسری جانب دنیا کے بااثرامریکی میڈیا کا یہ دعویٰ کہ متحدہ عرب امارات کی درپردہ کوششوں اور صدر جوبائیڈن کی نئی امریکی انتظامیہ کی دلچسپی کے باعث پاکستان اور بھارت کے درمیان معمول کے تعلقات کی بحالی اور کشمیرسمیت تمام باہمی تنازعات کے حل کے لیے دوطرفہ مذاکرات شروع کرنے کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔برصغیر ہی نہیں اس خطے اور عالمی امن کے مفاد میں بھی یہ ایک انتہائی خوش آئند پیش رفت ہے۔مذاکرات کے ایجنڈے میں تنازع جموں وکشمیر کا حتمی حل،تجارت کی بحالی اور دونوں ملکوں میں سفیروں کا دوبارہ تقرر بھی شامل ہوگا جسے امریکی نشریاتی ادارے نے پاک بھارت امن کے وسیع تر روڈ میپ کا آغاز قراردیاہے۔پاک بھارت کے مابین تمام تنازعات باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی یہ تمام باتیں اور اشارے انتہائی خوش آئند قرار دیے جاسکتے ہیںکیونکہ تقسیم ہند کے بعد یعنی دونوں ملکوں کے قیام سے لے کر تاحال دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین تعلقات اکثراوقات کئی نشیب وفراز سے گزرے ہیں یہاں تک کہ باہمی جنگیں بھی ہوئیں جس سے دونوں ملکوں کو ناقابل تلافی جانی ومالی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔بہرحال دیرآئد درست آئد کے مصداق یہ امر انتہائی خوش آئند ہے کہ دونوں طرف سے تعلقات کی بحالی اور تمام تر تنازعات پرامن طریقے سے باہمی بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا جارہاہے اور ہونا بھی چاہیئے کہ تمام تصفیہ طلب مسائل کا سب سے بہترین حل پرامن مذاکرات ہی میں پنہاں ہے۔اور یہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر نہ صرف پاک بھارت بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں امن،ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیرہوسکتا ہے ۔ویسے بھی آج کی دنیا جنگ وجدل اور زور زبردستی کی دنیا نہیں رہی بلکہ آج دنیا کے تمام ممالک پرامن بقائے باہمی کے ذریعے اپنے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کے متمنی ہیں۔پاکستان اور بھارت کے عوام کی بھی یہی مشترکہ خواہش ہے کہ دونوں ہمسایہ ملک ایک دوسرے کیساتھ اچھے ہمسائیوں کی طرح رہے ۔ایک دوسرے سے اچھے اور خوشگوار دوستانہ تعلقات قائم رکھے تاکہ دونوں ملکوں کی خطیر رقم ایک دوسرے کے خلاف دفاع کے نام کے بجائے اچھی انسانی معیاری زندگی گزارنے پر خرچ کی جائے جس سے دونوں ملکوں میں پائی جانے والی غربت،بے روزگاری،مہنگائی اور افلاس پرکافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔