پاک فوج کا دشمن اس ملک کا دشمن، مگر۔۔۔

پاک فوج کا دشمن اس ملک کا دشمن، مگر۔۔۔

پاک فوج نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے فرار میں ایک سے زائد فوجی ملوث ہیں جن کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ بدھ کو ایک پریس بریفنگ کے دوران پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ طالبان کے سابق ترجمان کے موجودہ ٹھکانے بارے تاحال کسی قسم کی معلومات حاصل نہیں ہوئیں (تاہم) اس کی گرفتاری کے لئے کوششیں جاری ہیں (اور اس ضمن میں) پیشرفت جلد میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔ ترجمان نے سعودی عرب، یمن اور افغانستان سمیت عالمی سطح کی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی اور یہ باور کرایا کہ سعودی عرب کے ساتھ فوجی سطح پر تعلقات (گرچہ بہت) اچھے ہیں (تاہم اس کے باوجود) یمن تنازعہ سے (ہمارا یعنی پاکستان کا) کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے یہ یقین بھی دلایا کہ اس وقت ملک میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے نہیں رہے۔ پاک فوج کی جانب سے اس عزم کا بھی ایک بار پھر اظہار کیا گیا کہ پاکستان ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ پاک فوج کے اس عزم کے حوالے سے قوم میں کوئی دو رائے نہیں پائی جاتی کیونکہ گذشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصہ سے بالعموم اور باالخصوص گذشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصہ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان، پاکستانی قوم اور پاکستانی افواج کا جو کردار رہا ہے، جو قربانیاں دی گئی ہیں اور ان قربانیوں کے نتیجے میں جو تاریخی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں، یہ سب ملک کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا لیکن بدقسمتی سے پاکستان کو اپنے اس کردار اور اپنی ان قربانیوں اور کامیابیوں کو تاحال ملک و قوم کے لئے ایک خوشحال مستقبل کا ضامن بنانے میں تاحال ناکامی کا سامنا ہے، اس کی وجوہات جو بھی ہیں ان پر توجہ دینے اور انہیں دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جس طرح ملکِ عزیز کا دشمن پاک فوج کا دشمن ہے اسی طرح پاک فوج کا دشمن بھی اس ملک اور اس قوم کا دشمن ہے، بعض حلقوں کی جانب سے ملک کی قوم پرست قوتوں کے حوالے یہ تاثر دینے کی کوشش کہ اس ملک اور اس قوم کی ترقی و خوشحالی کے لئے ہر حد سے گزرنے والے محبان وطن خدانخواستہ پاک فوج کے دشمن ہیں درحقیقت قوم اور فوج کو آپس میں لڑانے کی ایک مذموم سازش ہے جس میں ان عناصر کو پہلے کامیابی ملی نا آج ملی اور نا ہی انشاء اللہ آئندہ ملے گی۔ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں بلکہ ہمیں یقین ہے کہ پاک فوج کو بھی بحیثیت ادارہ اس سازش کا بخوبی ادراک ہے اسی لئے امید کی جا سکتی ہے کہ فوج بھی بطور ادارہ قوم پرست قوتوں ہی کی نہیں بلکہ اس ملک میں آئین و قانون کی بالادستی اور اس کے نتیجے میں ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کی سوچ رکھنے والی قوتوں اور حلقوں کی پشت پر کھڑی رہے گی۔ اس وقت ملک خصوصاً خیبر پختونخوا اور ضم اضلاع میں امن و امان سمیت مجموعی صورتحال حوصلہ افزا نہیں، اس ضمن میں ملک کی سیاسی جماعتوں اور قوم کی حمایت کے ساتھ ایک بار پھر افواج پاکستان کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ساتھ ہی ضم اضلاع میں طاقت و اختیار منتخب نمائندوں یا حکومت اور انتظامیہ کے سپرد کرنا ہو گا۔ اس سلسلے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے شروعات کی جا سکتی ہیں، واضح رہے کہ موجودہ حکومت قوم کا اعتماد کھو چکی ہے، وزیر اعظم کو جلد یا بدیر اعتماد کا ووٹ لینا پڑ سکتا ہے۔ تاہم ملک میں جاری سیاسی بحران کے خاتمے کے لئے حکومت اگر دو قدم پیچھے ہٹے یا اگر ضرورت ہو تو دو قدم آگے آئے اور اس بے یقینی اور عدم استحکام کے خاتمے میں اپنا آئینی کردار ادا کرے تو اس کی اخلاقی پوزیشن کسی نا کسی حد تک بہتر ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ملک کے تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر ملک کی ترقی و خوشحالی میں اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔