پاکستان چلتا نہیں جلتا ہے

پاکستان چلتا نہیں جلتا ہے

122 ارب روپے صرف پٹرولیم کی مد میں قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا ہے مگر فائدہ کس کو ہوا؟ تفصیل سے آپ کو بتایا جائے گا کہ جانتے بوجھتے ایسے فیصلے کئے گئے جن کی کوئی منطق نہیں تھی۔ ملک کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے اور کابینہ وزیراعظم اور عوام کو سچ بتانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ میڈیا پر بیٹھ کر غلط بیانی کی جا رہی ہے اور ذمہ داری کسی اور پرڈال دی جاتی ہے۔ وزراء اور معاونین غلط فیصلوں کی ذمہ داری لینے کی بجائے کبھی میڈیا کبھی بیوروکریسی تو کبھی ماضی کی حکومتوں پر اور کبھی دیگر اداروں کے سر الزام دیتے ہیں۔ چینی اور گندم کی مد میں قوم اور خزانے کو چار سو ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا لیکن کسی وزیر کے خلاف ایکشن نہیں ہوا اور ہم آپ کو بتانے جا رہے ہیں کہ بجلی اور گیس کی مد میں غلط فیصلوں اور تاخیر کی وجہ سے 122 روپے کا نقصان پہنچایا گیا مگر فائدہ کس کا ہوا؟ آپ کو بتا دیں گے کہ ایک کے بعد ایک فیصلہ غلط کیا گیا اور کیسے ذمہ داری کسی اور پر ڈال دی گئی۔ صرف اگست اور ستمبر میں ایل این جی وقت پر نہ خریدنے کی وجہ سے لاکھوں ڈالرز کا نقصان کیا گیا۔ جولائی میں اگست کے لئے ایل این جی 5.7 فیصد پر مل رہی تھی مگر حکومت نے مکمل ڈیمانڈ کے مطابق ایل این جی کا ٹینڈر کرنے کی بجائے آخری وقت میں جا کر اگست کے مہینے میں دوسرا ٹینڈر کیا اور پھر 5.7 کی بجائے 9.3 فیصد پر ایل این جی ملی یعنی پانچ ملین ڈالرز زائد پر ملی اور پھر اگست کی یہی غلطی ستمبر کے لئے بھی دہرائی گئی اور پھر 6.9 فیصد پر ستمبر کے لئے ایل این جی مل رہی تھی مگر وقت پر ڈیمانڈ آرڈر نہیں کیا گیا اور پھر ستمبر میں ستمبر کے لئے اچانک کارگو لینے کا فیصلہ کیا گیا تو 6.9 فیصد کی بجائے 10.8 فیصد پر ملا یعنی وقت پر ڈیمانڈ نہ کرنے کی وجہ سے ملک کو ان دو کارگو کی وجہ سے ڈیڑھ ارب کا نقصان ہوا۔ جب اس نقصان کی وجہ عمران خان کے معاونین خصوصی ندیم بابر سے پوچھی گئی تو انہوں نے ذمہ داری کے الیکٹرک پر ڈال دی کہ اگست اور ستمبر کے مہینے میں اچانک کے الیکٹرک کی طرف سے گیس کی ڈیمانڈ آ گئی اور یہی جواب عمر ایوب نے بھی دیا کہ کے الیکٹرک کے ساتھ ہمارا گیس سپلائی کا کوئی معاہدہ نہیں ہے لیکن جب کراچی میں لوشیڈنگ حد سے بڑھی تو ہم نے کراچی کو گیس ریلیز کی اور ہم کو اچانک اور کارگو ہائی ریٹ پر منگوانا پڑا اور کراچی الیکٹرک کی پھر بھی ڈیمانڈ پوری نہ کر سکنے کی وجہ سے ساڑھے سات سو سے آٹھ سو میگاواٹ بجلی کے الیکٹرک کو فیول آئل سے مجبوراً بنانا پڑی لیکن ہم نہ صرف اعداد و شمار بلکہ ان کے دو ماہ کے بیانات بھی دکھاتے ہیں جو کہ اس کے بالکل برعکس ہیں۔ اگست اور ستمبر میں اپنے فیصلوں میں تاخیر اور ملک کو ڈیڑھ ارب روپے نقصان کی ذمہ داری کے الیکٹرک کی طرف سے اچانک ڈیمانڈ پر ڈال دی گئی مگر حقائق یہی ہیں کہ گزشتہ برسوں سے حکومت اور کے الیکٹرک کے درمیان نیا معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کے درمیان اختلاف رہا۔ کے الیکٹرک بار بار کہتی رہی کہ ہمیں ایس ایس جی سی الوکیشن کے مطابق گیس دی جائے مگر حکومت کہتی رہی کہ آپ کا اب معاہدہ نہیں ہے اس لئے گیس نہیں دی جا سکتی ہے۔ پھر کراچی میں گیس کا بحران آیا اور پھر 23 اپریل 2018 میں کابینہ کی تشکیل کردہ کمیٹی کی طرف سے فیصلہ آیا کہ کے الیکٹرک کو SSGC سے 130 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دی جائے گی اور 60 ایم ایم سی ایف ڈی ایل این جی دی جائے گی یعنی 190 ایم ایم سی ایف ڈی گیس حکومت دے گی اور اس وقت سے کے الیکٹرک کو 190 ایم ایم سی ایف ڈی گیس ملتی رہی مگر ندیم بابر اور عمر ایوب کا دعویٰ ہے کہ اگست اور ستمبر میں کے الیکٹرک کی طرف سے اچانک ڈیمانڈ آنے کی وجہ سے ایل این جی آخری وقت میں باہر سے ڈیمانڈ کی گئی جس کی وجہ سے ہمیں ایل این جی مہنگی لینا پڑی۔ ہم آپ کے سامنے مزید حقائق رکھتے ہیں۔ حکومت نے جون میں کے الیکٹرک کو 198 ایم ایم سی ایف ڈی دی تھی۔ جولاائی میں 121 ایم ایم سی ایف ڈی تھی۔ اگست میں اسے مزید کم کر کے صرف 73 ایم ایم سی ایف ڈی ایل این جی دی تھی اور ستمبر کے لئے مزید کم کر کے یعنی صرف 66 ایم ایم سی ایف ڈی ایل این جی دی تھی۔ اگست اور ستمبر میں کے الیکٹرک کی طرف سے اچانک ڈیمانڈ نہیں آئی تھی بلکہ حکومت نے جون اور جولائی کے مقابلے میں کے الیکٹرک کو اگست اور ستمبر میں کم ایم ایم سی ایف ڈی ایل این جی فراہم کی تھی مگر اگست اور ستمبر میں کے الیکٹرک کو اتنی بھی ایل این جی نہیں دی گئی تھی جتنی انہی مہینوں میں گزشتہ سال دی گئی تھی یعنی کچھ اچانک نہیں ہوا تھا جس کا دعویٰ عمر ایوب اور ندیم بابر کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم صاحب ان سے پوچھیں کہ کیوں دیر سے فیصلہ کر کے ملک کے خزانے کو ڈیڑھ ارب کا نقصان پہنچایا گیا جبکہ ستمبر میں ندیم بابر نے عمر ایوب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم کے الیکٹرک کو جون سے 100 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دے رہے ہیں بلکہ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آج سے تقریباً ہم 110ایم ایم سی ایف ڈی ایل این جی دے رہے ہیں تو پھر اگست اور ستمبر میں کے الیکٹرک کی طرف سے اچانک ڈیمانڈ کہاں سے آ گئی؟ فیصلے وقت پر نہیں کئے گئے۔ قوم کے پیسے ضائع کئے گئے۔ ذمہ داری خود لینے کی بجائے کے الیکٹرک پر ڈال دی گئی۔ جون میں جب پٹرولیم کا بحران آیا۔ سوال اٹھا کہ حکومت نے وقت پر تیل درآمد نہیں کیا۔ عمر ایوب اور ندیم بابر نے ذمہ داری تیل بیچنے والی کمپنیوں پر ڈال دی۔ تحقیقات کا اعلان کیا گیا مگر تحقیقات کا نتیجہ آج تک سامنے نہیں آیا۔ پھر کیونکہ ملک میں تیل وقت پر درآمد نہیں کیا گیا پھر ریفائنریز کے پاس کے الیکٹرک کو فرنس آئل نہیں تھا تو ذمہ داری کے الیکٹرک پر ڈال دی گئی کہ وقت پر انہوں نے اپنی فرنس آئل کی ڈیمانڈ نہیں بتائی تھی۔ جب 16 نومبر کو میڈیا نے عمر ایوب سے پوچھا کہ آپ ٹرمینلز کو 21 فیصد سے کم آپریٹ کر رہے ہیں جبکہ کے الیکٹرک آپ سے کہہ رہا ہے کہ ہمیں ایل این جی دیں مگر آپ ایل این جی کم منگوا رہے ہیں اور کے الیکٹرک کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے تو عمر ایوب نے کے الیکٹرک پر الزام عائد کیا کہ کے الیکٹرک کی ڈیمانڈ وقت پر نہیں آئی تھی لہذا ہمیں انہیں دینا پڑا کیونکہ انہوں نے اپنا فرنس آئل وقت پر نہیں منگوایا تھا۔ جون سے انہیں فرنس آئل کی کمی کا سامنا تھا لہٰذا ہم نے انہیں ایل این جی سے Compensate کیا لیکن حقائق یہی ہیں کہ حکومت نے جنوری 2019 سے پورے ملک میں فرنس آئل کی درآمد پر پابندی لگائی تھی اور وزیر اعظم نے احکامات دیئے تھے کہ ملک میں بجلی سستے ذرائع یعنی کوئلہ اور ایل این جی سے بنائی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر ملک کی ریفائنریز سے فرنس آئل کی خریداری کے لئے کہا گیا تو کے الیکٹرک کیسے خود باہر ملک سے فرنس آئل منگوتی۔ پھر کرونا آیا۔ ڈیمانڈ نیچے گر گئی۔ ریفائنریز کے پاس مطلوبہ فرنس آئل نہیں تھا۔ ملک میں پٹرولیم اور فرنس آئل کی کمی پر نظر رکھنے کی ذمہ داری خود حکومت پر تھی۔ ایل این جی بہت سستی مل رہی تھی اور جون میں دوسرا ایل این جی ٹرمینل صرف 269 ایم ایم سی ایف ڈی یعنی 45 فیصد کیپیسٹی پر چل رہا تھا مگر حکومت نے کچھ نہیں کیا اور کہہ دیا کہ پٹرول بیچنے والی کمپنیوں نے تیل چھپا لیا اور کے الیکٹرک نے وقت پر نہیں بتایا۔ اب ہم آپ کے سامنے مزید حقائق رکھتے ہیں مگر یہاں بھی حقائق حکومتی دعوؤں کے برعکس ہیں۔ کے الیکٹرک نے جون کی ایک لاکھ بیس ہزار ٹن فرنس ائل کی ڈیمانڈ حکومت کو اپریل میں بتا دی تھی۔ پھر جون میں ڈیمانڈ بڑھا کر ایک لاکھ تیس ہزار ٹن کر دی مگر پی ایس او نے صرف 69 ہزار ٹن فرنس آئل فراہم کیا کیونکہ ملک میں ریفائنریز کے پاس فرنس آئل ہی نہیں تھا حالانکہ گزشتہ سال جون کے مہینے میں پی ایس او نے کے الیکٹرک کو ایک لاکھ تیرہ ہزار ٹن فرنس آئل فراہم کیا تھا۔ پھر پی ایس او نے منسٹری کو کے الیکٹرک کی جون، جولائی اور اگست کی ڈیمانڈ کا بتایا اور منسٹری کو اس خط میں 19 مئی کے خط کا حوالہ دیا کہ آپ کی وزارت نے ریفائنریز کو زیادہ سے زیادہ فرنس آئل دینے کا کہا تھا مگر آج تک اس حوالے سے نہ کوئی کنفرمیشن آئی ہے اور نہ ہی الوکیشن بڑھائی گئی ہے۔ خط کے مطابق ہم آپ سے آج ایک بار پھر درخواست کرتے ہیں کہ ریفائنریز کو زیادہ سے زیادہ فرنس آئل دینے کے احکامات جاری کئے جائیں اور نہ ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں رہے گا کہ ہم فوری طور پر فرنس آئل درامد کریں تاکہ فرنس آئل کی ڈیمانڈ پوری کر سکیں خاص طور پر کے الیکٹرک کی ڈیمانڈ تاکہ کراچی میں لوشڈنگ کے بحران سے بچا جا سکے کیونکہ کے الیکٹرک کے پاس اس وقت صورتحال سے نمٹنے کے لئے اور کوئی چارہ نہیں ہو گا۔ پھر تین جون کو پی ایس او نے وزارت پٹرولیم کو دوبارہ خط لکھ کر یہ بتایا کہ کے الیکٹرک نے اپنی ڈیمانڈ ایک لاکھ بیس ہزار ٹن بتائی ہے جبکہ ہمارے پاس 53 ہزار ٹن فرنس آئل موجود ہے۔ اس خط میں پی ایس او نے وزارت پٹرولیم کو مزید لکھا تھا کہ ہم پہلے ہی آپ کی وزارت سے درآمد کی اجازت کی درخواست کر چکے ہیں کیونکہ فرنس آئل ہم آپ کی وزارت کی اجازت کے بغیر منگوا نہیں سکتے ہیں کیونکہ فرنس آئل کی درآمد پر پابندی ہے۔ ایسی صورت میں ایل این جی دینے کے آپشن پر غور کرنا چاہئے تاکہ ایسی اٹل صورت حال سے نمٹا جا سکے۔
(جاری ہے)

ٹیگس