پی ٹی ایم احتجاج، روئیے بدلنے ہوں گے

پی ٹی ایم احتجاج، روئیے بدلنے ہوں گے

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے زیراہتمام 7فروری کو پشاور میں جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا تھا لیکن جس میدان میں انہوں نے جلسہ کرنا تھا وہاں پر انہیں اجازت نہیں دی گئی۔ جلسہ منتظمین کے مطابق انہوں نے باقاعدہ اجازت بھی طلب کی تھی لیکن بعد میں انہیں جلسہ موٹروے ناردرن بائی پاس پر منعقد کرنا پڑا۔ اتوار کے روز منعقدہ جلسے کے موقع پر پشاور بھر میں موبائل سروس معطل رہی حالانکہ حکومت یا انتظامیہ کی جانب سے سروس معطلی بارے کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔ پشتون تحفظ موومنٹ سے اختلاف بالکل ممکن ہے لیکن انکو اس طرح نشانہ بنانا اور جمہوری و آئینی حقوق سے محروم رکھنا کیا آئین اور قانون کی خلاف ورزی نہیں؟ پی ٹی ایم سے اختلاف اپنی جگہ لیکن گزشتہ اڑھائی سال سے وہ جو مطالبات کررہے ہیں، کیا ان مطالبات کے ساتھ اختلاف کیا جاسکتا ہے؟ وہ بار بار حکومتی اراکین سے ملاقاتوں اور تقاریر میں اس امر کا اعادہ کررہے ہیں کہ انکے تمام مطالبات آئین پاکستان کے مطابق ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے رویوں سے تلخیاں مزید بڑھیں گی۔ ان نوجوانوں کو نفرت کی نظر سے نہیں محبت کی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے اور تلخیوں کو کم کرنے کیلئے انہیں مشکلات نہیں آسانیاں دی جائیں۔