پڑوسی ممالک اور دنیا افغانستان کو باثبات اور خود مختار ملک تسلیم کرے

پڑوسی ممالک اور دنیا افغانستان کو باثبات اور خود مختار ملک تسلیم کرے

جب تک پرائیویٹ ملیشا ختم نہیں کئے جاتے، امن کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی

یہ خطے کے لئے خطرناک ہے امن کے لئے ہونے والے مذاکرات میں افغانستان کے عوام اور افغانستان کی دولت کی مساوی حیثیت کو تسلیم کیا جائے

پشاور(نمائندہ خصوصی) باچا خان ٹرسٹ ایجوکیشن فانڈیشن اور نیشنل انڈونمنٹ فار ڈیموکریسی کے جانب سے باچا خان مرکز میں ایک مذاکرہ (افغانستان میں رواں مذاکرات کی پیچیدگیاں اور اس کے اثرات)کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ بی کے ٹی ای ایف کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خادم حسین نے سیمینار کے اغراض و مقاصد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں جاری حالات کے حوالے سے یہ سیمینارز کی تیسری کڑی ہے۔

ان مذاکروں کے توسط سے افغانستان میں جاری حالات کے پس پردہ مختلف محرکات کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے اور امن کے لئے امکانات بڑھانے میں ایک کردار ادا کرنے کی سعی ہے۔یہ سیمینار اور سٹڈی سرکلز باچا خان ایجوکیشن کے نوجوانوں کی تربیت کے اس پروگرام کا حصہ ہیں جس میں جمہوریت اور تکثیریت کو آگے بڑھانا ہے۔

اس سیمینار کے پہلے حصہ میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈی سے محمد عامر رانا، سنٹر فار سیوک ایجوکیشن کے ڈائریکٹر ظفراللہ خان، سابق ہوم سیکرٹری خیبر پختونخوا سید اختر علی شاہ،جامعہ پشاور شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سابق چئیرمین پروفیسر اعجاز خان خٹک، سابق وائس چانسلر باچا خان یونیورسٹی پروفیسر داکٹر فضل رحیم مروت اور اے این پی خیبرپختونخوا کے سیکرٹری جنرل سردار حسین بابک نے متعلقہ موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

سیمینار میں ایک سیشن بھی رکھا گیا جس میں سامعین نے اپنا اپنا مئوقف پیش کیا۔سیمینار کے آخر میں اس مذاکرہ کے حاصل اور اس میں سامنے آنے والے مختلف خیالات کی روشنی میں تین نکات سامنے رکھے گئے

۱۔اگر اس منطقہ میں امن کی مخلص کوشش کرنی ہو تو دنیا کو چاہئے کہ افغانستان سے متعلق اپنی پالیسیوں کو مکمل طور پر تبدیل کریں۔ خطہ کے ممالک اور خصوصاً پاکستان اور ایران کے ریاستوں اور حکومتوں کو افغانستان کی باثباتی اور خود مختاری کو کھلے ذہن سے تسلیم کرنا ہوگا اور ہر قسم کے پرائیویٹ ملیشا کو ختم کرنے ہوں گے

۲۔اس سلسلے میں افغانستان سے متعلق ہونے والے تمام سرگرمیوں، مذاکرات اور فیصلوں میں افغانستان کے سول سماج اور وہاں کے لوگوں کی عملی شمولیت کو یقینی بنانا ہوگا

۔۳۔ان مذاکرات سے متعلق ڈیورنڈ لائن کے اس پار بسنے والے پختونوں اور پختون قیادت کو بھی اعتماد میں لینا ہوگاکیونکہ کوئی مانے یا نہ مانے مگر تاریخی، سماجی، نفسیاتی اور ثقافتی لحاظ سے ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ یہ جغرافیائی طور پر تقسیم یہ لوگ در اصل ایک ہی سول سماج کا حصہ ہیں

مذاکرہ کے آخر میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا کہ اس اہم مذاکرہ کے منتظمیں کا بہت مشکور ہوں کیونکہ انہوں نے ایک نہایت ہی اہم موضوع پر ایک ایسے سیمینار کا انعقاد کیا ہے جس میں ہمیں مختلف خیالات کو سننے اور سمجھنے کا موقع میسر ہوا۔ ایسے مسائل پر بات کرتے ہوئے یہ بہت اہم ہے کہ ہم ایک مختلف یہاں تک کہ مخالف نکتہ نظر سے بھی آشنا ہوتے ہیں۔

ایک بات جس میں کوئی اختلاف نہیں، وہ یہ ہے کہ خطہ مزید جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہاں ایک مستقل جنگ کی حالت ہے اور اس جنگ کو مزید جنگ لڑ کر مزید خونریزی کرکے ختم نہیں کیا جاسکتا بلکہ جنگ سے جنگ ہی جنم لیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی باچا خان کے عدم تشدد کے مفکورہ پر عمل پیرا ہے اور ہم دنیا میں کہیں بھی جنگ کی حمایت نہیں کرتے۔ خطے میں پائیدار امن کے لئے مذاکرات کے سوا کوئی آپشن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اے این پی نے افغانستان کے حوالہ سے ہمیشہ ایک واضح اور منطقی مقف اپنایا ہے۔ ہم نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ مذاکراتی عمل کی کامیابی یقینی بنانے کے لئے سیز فائر اور افغانستان حکومت کو پوری طرح اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس ماہ افغانستان میں امن کے حوالہ سے ایک کانفرنس ہونے والی ہے جس میں اسفندیار ولی خان شرکت کریں گے۔ ہم کسی بھی لمحہ امن کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوں گے اور نہ امن کے لئے اپنی آواز روکیں گے