بجٹ میں پنشنرز اور ریٹائرڈ ملازمین پر ٹیکس لگانے کی تجویز مسترد

بجٹ میں پنشنرز اور ریٹائرڈ ملازمین پر ٹیکس لگانے کی تجویز مسترد

پشاور ( ویب ڈیسک )  وزیر اعظم عمران خان نے پنشنرز اور ریٹائرڈ افراد پر ٹیکس لگانے کی تجویز کو مسترد کردیاہے،نجی نیوز چینل کے مطابق  وزیر اعظم عمران خان نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پنشنرز اور ریٹائرڈ افراد پر ٹیکس لگانے کے فیصلے کو مسترد کردیا۔ تمام پنشنرز پر 7.5 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز رد کردی گئی ہے۔

 

اس سے قبل خبر تھی کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے پنشنرز پر ٹیکس لگانے کی تیاری شروع کردی ہے، اور آئی ایم ایف کی تجویزپرتمام پینشنرز پرساڑھے 7 فیصد ٹیکس عائد کئے جانے کا امکان ہے۔وفاقی حکومت پنشن کی مد میں سالانہ 250 ارب روپے ادائیگی کرتی ہے، ساڑھے 7 فیصد فکسڈ ٹیکس کے بعد پینشنر پر 18 ارب سے زائد کا ٹیکس کا بوجھ عائد ہونا تھا، لیکن اب نئے مالی سال کے بجٹ میں پینشنر اور ریٹائرڈ بینیفٹ افراد پر ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔

 

دوسری جانب  سرمایہ کاری اور کاروبار میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کے حوالے سے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک معاشی لحاظ سے استحکام کی طرف جا رہا ہے، اس استحکام کو برقرار رکھنے اور تیز تر معاشی ترقی کے لیے سرمایہ کاری اہم ترین جزو ہے۔

 

اجلاس میں معاونین خصوصی ڈاکٹر معید یوسف، ڈاکٹر شہباز گل، متعلقہ وزارتوں کے سیکریٹریز شریک ہوئے، جب کہ چیئرمین نیپرا اور چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز و افسران نے بذریعہ ویڈیولنک شرکت کی۔

 

سیکرٹری سرمایہ کاری بورڈ نے اجلاس کو ان تمام اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا جو سرمایہ کاری اور کاروبار میں رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ ان اقدامات میں قوانین میں ترامیم، ٹیکس وصولیوں کے طریقہ کار میں آسانی، دیگر محکموں سے این اوسی کے جلدحصول کے طریقہ کار کو آسان بنانا، غیر ضروری اور پرانے ضابطہ کار میں ترامیم شامل ہیں۔

 

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس وقت ملک معاشی لحاظ سے استحکام کی طرف جا رہا ہے، اس استحکام کو برقرار رکھنے اور تیز تر معاشی ترقی کے لیے سرمایہ کاری اہم ترین جزو ہے، سرمایہ کاروں کو کاروبار کرنے کے لیے آسانیاں فراہم کی جائیں۔

 

وزیراعظم نے ہدایت جاری کی کہ تمام وفاقی وزارتیں اور صوبائی حکومتیں سرمایہ کاری کو فروغ دیں اور اس ضمن میں طے شدہ اہداف بروقت مکمل کریں۔