رحیم اللہ یوسفزئی: یہ دھرتی ایک توانا آواز سے محروم ہو گئی

رحیم اللہ یوسفزئی: یہ دھرتی ایک توانا آواز سے محروم ہو گئی

تحریر: شمیم شاہد

محترم رحیم اللہ یوسفزئی کے ساتھ راقم کی پہلی ملاقات دسمبر1984  کو اسلام آباد  کے ایک ہوٹل میں منعقدہ کانفرنس میں ہوئی تھی۔ اس وقت نہایت خوش لباس رحیم اللہ یوسف زئی ریجنل سٹڈیز سنٹر میں ریسرچ آفیسر  کے طور پر کام کر رہے تھے جبکہ راقم کو رحیم اللہ یوسف زئی کے 'میڈیکل نیوز' نامی جریدے میں چند دنوں کے لئے رپورٹر کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملا تھا۔ بہرحال اس مختصر ملاقات میں رسمی تعارف کے علاوہ صحافتی زندگی اور پیشے  پر بھی مختصر بات چیت ہوئی تھی۔ بعدازاں اکتوبر 1986 میں جب راقم نے پشاور کے مقبول ترین اخبار 'دی فرنٹیئر' پوسٹ میں کام شروع  کیا تو اس وقت رحیم اللہ یوسفزئی اسلام آباد سے شا ئع ہونے والے انگریزی اخبار 'دی مسلم' کے بیوروچیف تھے تو ملاقاتوں اور تبادلہ خیال کا یہ سلسلہ تقریباً روزانہ کی بنیادوں پر شروع ہوا۔ اس دوران رحیم اللہ یوسفزئی صاحب کی قیادت میں پشاور کے صحافیوں نے خیبر یونین آف جرنلسٹس کی اصلی حیثیت بحال کی۔ وہ خود صدر بن گئے اور قاضی محمد پرویز جنرل سیکرٹری۔ بہرحال رحیم اللہ یوسف زئی کی قیادت میں پشاور کے ساتھیوں نے اپنے جائز حقوق اور آزادی صحافت کے تحفظ کے لئے جو سفر شروع کیا تھا وہ نہ صرف فرنٹیئر پوسٹ کی چاردیواری میں ہونے والے انتخابات اور ایک شہر کے ایک ہوٹل میں ایک مختصر اجلاس تک محدود تھا بلکہ بعد میں جب محترم فیض الرحمن صاحب خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر اور راقم  جنرل سیکرٹری بنا تو رحیم اللہ یوسفزئی کے مشوروں اور ہدایت کے مطابق پشاور پریس کلب کے دروازے  بھی کارکن صحافیوں کے لیے کھول دیئے گئے اور یہ سلسلہ ابھی تک  رواں دواں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کسی بھی انسان کو یا کسی دوست کو اگر  پرکھنا ہے تو اس کے ساتھ یا تو تجارتی اور معاشی کاروبار میں شریک ہو جاؤ یا اس کے ساتھ کسی سفر پر چلے جاؤ اور اللہ تعالی نے مجھے یہ موقع نومبر1987  کے اواخر میں فراہم کیا۔ افغانستان کے مرحوم صدر شہید ڈاکٹر نجیب اللہ نے ببرک کارمل کے بعد اقتدار ملنے پر نا صرف افغانستان سے روسی افواج کے انخلا کا فیصلہ کیا تھا بلکہ انہوں نے مزید تباہی اور بربادی سے ملک کو بچانے کی خاطر قومی مصالحتی پالیسی کا اعلان  بھی کیا تھا۔ اس اعلان کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر شہید ڈاکٹر نجیب اللہ نے29-30  نومبر1987  کو لویہ جرگہ بلایا تھا، اور اسی لویہ جرگہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ اس دوران پشاور میں قائم افغان قونصلیٹ نے رحیم اللہ یوسف زئی اور راقم کو بھی لویہ جرگہ میں شرکت  کا موقع فراہم کیا تھا۔ لہذا27  نومبر 1987 کو عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں، جن میں مرحومہ بیگم نسیم ولی خان، مرحوم محمد افضل خان، مرحوم رسول بخش پلیچو، مرحوم ارباب ہمایون خان، مرحوم خیال اکبر آفریدی، مرحوم ارباب نجیب الرحمان کے علاوہ لطیف آفریدی، فرید طوفان اور میاں افتخار حسین نمایاں تھے، کے ساتھ قافلے میں رحیم اللہ یوسف زئی اور راقم بھی صحافیوں کی حیثیت سے شامل ہو گئے۔ طورخم کی سرحدی گذرگاہ کو عبور کرنے کے بعد اردگرد کے پہاڑوں میں روپوش افغان مزاحمت کاروں اور افغان مجاہدین نے جب  جدید اور خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کا سلسلہ شروع کیا تو حفاظتی اقدامات کے تحت  وفد میں شامل تمام افراد کو بکتر بند گاڑیوں میں بٹھا کر لنڈے خیبر کے اس پار مہمند درہ کے ضلعی ہیڈ کوارٹر تک پہنچایا گیا اور بعد میں روسی ساختہ موٹروں میں بٹھا دیا گیا۔ رحیم اللہ صاحب اور راقم ایک ہی موٹر کی پچھلی نشست پر براجمان تھے کہ ایک بار پھر مزاحمت کاروں نے راکٹ لانچروں سے حملہ کر دیا۔ ہماری موٹر کار سے ایک فٹ سے بھی کم فاصلے پر  بھی ایک راکٹ گزر گیا حتی کہ ڈرائیور اور اس کے ساتھ ہماری حفاظت کے لیے مامور افغان فوجیوں نے بھی راکٹ سے بچانے کی کوشش کی۔ اسی طرح دن بھر جلال آباد دیکھنے کے بعد رات کے وقت جلال آباد سے کابل کا سفر بھی کسی ایڈونچر سے کم نہیں تھا۔ اس سفر کے دوران رحیم اللہ صاحب اور راقم تقریباً دس دن تک ایک ہی ہوٹل کے ایک ہی کمرے میں  قیام پذیر تھے اور ایک ہی کار میں سفر کیا کرتے تھے۔ اس کے بعدنائن الیون سے قبل جون، جولائی 2001 میں راقم ان صحافیوں میں شامل تھا جو رحیم اللہ یوسفزئی کی قیادت میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ گئے تھے۔ اسی طرح سیفما کی ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سلسلے میں بنگلہ دیش کے سرحدی /ساحلی شہر کاکس بازار بھی جانے کا موقع ملا تھا۔ ان بیرونی دوروں کے علاوہ کئی بار اکٹھے کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دیگر شہروں اور علاقوں میں جانے کا موقع ملا ہے۔ اس دوران میں نے رحیم اللہ یوسف زئی صاحب کو انتہائی مخلص، شریف اور دیانتدار و ایماندار پایا۔ اس طویل سفر کے دوران رحیم اللہ یوسف زئی کی خصوصیات کو خیر چند سطروں میں بیان نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس پرکئی کتابیں بھی لکھی جا سکتی ہیں۔ یقیناً کہ رحیم اللہ یوسف زئی کوصحافت کے شعبے میں ایک درسگاہ کی حیثیت حاصل رہی۔ انہوں نے پشتون معاشرے، غربت و افلاس اور جنگ اور آپس کی محاذ آرائیوں سے تباہ حال اس خطے کی قسمت تبدیل کرنے کے لئے قلم اور زبان کے ذریعے بہت کاوشیں کی ہیں۔ ان کی بے وقت رحلت سے یقیناً پاکستان اور افغانستان باالخصوص پختونخوا کی دھرتی ایک بہت بڑی اور مضبوط و توانا آواز سے محروم ہو گئی ہے۔ رحیم اللہ یوسفزئی کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ کبھی بھی پر نہیں ہو سکے گا۔رحیم اللہ یوسف زئی کی وفات سے نہ صرف اس کا خاندان بلکہ یوں سمجھ لیں کہ اس پورے خطے سے تعلق رکھنے والے صحافی متاثر ہوئے ہیں۔