نئے اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کی حقیقت

نئے اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کی حقیقت

تحریر: مولانا خانزیب

ماضی میں خیبر پختونخوا کے حوالے سے دن رات ریڈیو پاکستان سے ان علاقوں کی ترقی کے حوالے سے صرف زبانی جمع خرچ ہوتا تھا اور ریڈیو پاکستان کی خبریں ان علاقوں کی ترقی کے حوالے سے سن کر باہر کے لوگ یہ گمان کرتے تھے کہ قبائلی علاقوں کے لوگوں کے گھروں میں ایک پتھر سونے اور ایک چاندی کا لگا ہو گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اول تو ان علاقوں میں ستر سالوں میں مثالی ترقی تو کیا روایتی ترقی کا بھی کوئی نام ونشان نہیں جبکہ رہی سہی کسر آئینی قدغنیں ایف سی آر کے جبر کے نیچے پولٹیکل انتظامیہ کا شتر بے مہار اور نہلے پہ دہلا مراعات یافتہ طبقے کی بلاچوں چرا اپنے مفادات کی خاطر ہر جائز وناجائز کام میں انقیاد و اطاعت پورا کرتی تھی۔ اب وہ آئینی قدغنیں سیاسی اور قومی سیاسی شعور کے زور پر تو توڑ دی گئی ہیں مگر یہ علاقے اب بھی تزویراتی گہرائیوں کے خول سے نہیں نکالے جا رہے اور اے ڈی آر جیسے متنازعہ قوانین لا کر ایسا تاثر دینے کی ناکام کوششیں ہو رہی ہیں کہ ان علاقوں کو ایک بار پھر ماضی کی طرح قید تنہائی میں علیحدہ مخصوص فریم ورک میں رکھا جائے۔ خیبر پختونخوا کے نئے اضلاع کیلئے آئین کے تحت وفاق اور صوبہ دونوں کو مختلف حیثیتوں میں پابند کیا گیا تھا کہ دونوں ترقیاتی امور کیلئے فنڈز بھی جاری کریں گی اور اس کی نگرانی اور دیکھ بھال بھی تاکہ کئی دہائیوں تک پسماندگی کے شکار ان علاقوں کو ترقی کی راہ پر تیزی کے ساتھ ڈالا جا سکے مگر پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت خیبر پختونخوا کے نئے اضلاع کی ترقی کے حوالے سے مجرمانہ کردار کی مرتکب ہو رہی ہے، سالانہ سو ارب کا وعدہ عدم ایفا ہے، این ایف سی کی مد میں تین فیصد کے اجرا کو ابھی تک عملی جامہ نہیں پہنایا گیا ہے جبکہ جو تھوڑی بہت سالانہ رقم مختلف امور کیلئے جاری ہوتی ہے بدقسمتی سے انتظامی نااہلی وبددیانتی، صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی اور وفاق کی بے حسی کی وجہ سے جاری شدہ رقوم کا حصہ بھی مالیاتی سال کے آخر میں واپس کیا گیا ہے جس کا زندہ ثبوت موجودہ سال میں ان اضلاع کے ترقیاتی پروگرام اے ڈی پی کیلئے جاری کی گئی رقم مختلف ترقیاتی منصوبوں میں استعمال ہونے کے بجائے صوبے کو واپس ہوئی ہے۔
ان اضلاع سے منتخب آٹھ قومی اسمبلی اور اٹھارہ پی ٹی آئی کے ممبران شائد ان علاقوں کے نمائندے نہیں ہیں جو اس امتیازی سلوک پر تقریبا تین سال سے مکمل طور پر چپ اور لا تعلق بنے بیٹھے ہیں۔ میرے خیال میں ان اضلاع سے پی ٹی آئی کے نام پر نمائندگی سابقہ ادوار اور مراعات یافتہ طبقے کے لوگوں سے ذرہ بھر بھی مختلف نہیں۔ کسی بھی علاقے کے ترقیاتی امور اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے ترجیحات مختلف سول محکموں کی ذمہ داری ہوتی ہے مگر ان نئے اضلاع میں اب بھی سول محکموں کو اختیارات کی تفویض میں کافی مشکلات حائل کی گئی ہیں، ترقیاتی پروگراموں کی انجام دہی براہ راست فوج کے ماتحت ہو رہی ہے جس پر چند ماہ پہلے اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے نہایت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ مرجڈ اضلاع میں فی الفور عملا اختیارات اور ترقیاتی منصوبوں کی منظوری اور دیکھ بھال سول محکموں کو حوالہ کئے جائیں۔
قبائلی اضلاع کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے25  مئی کو جی ایچ کیو راولپنڈی میں کور کمانڈرز اجلاس بھی بلایا گیا۔ آرمی چیف جنرل باجوہ نے، جو اس اجلاس کی سربراہی کر رہے تھے، نئے اضلاع کی معاشرتی و اقتصادی ترقی کے لیے تیز تر اقدامات اٹھانے پر زور دیا اور کہا کہ ان اقدامات سے بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہونے والے امن کو استحکام مل سکے گا۔ مبصرین کے مطابق فوج کی جانب سے ان اضلاع کی ترقی پر دوبارہ زور سرحد پار افغانستان کی تیزی سے تبدیل ہوتی صورت حال بھی ہے جس سے مستقبل قریب میں یہ خدشات ایک بار پھر جنم لے رہے ہیں کہ ان علاقوں کو تزویراتی گہرائی کیلئے فرنٹ لائن کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان نئے اضلاع کے ساتھ صرف وعدے تو کئے جاتے ہیں مگر عملدارمد میں مشکلات ہیں جس سے ان پسماندہ علاقوں کی محرومیاں مزید بڑھیں گی۔ پچھلے سال سے حکومت کی جانب سے ضم شدہ اضلاع کیلئے تین سالہ منصوبہ جات کی مد میں 152  ملین روپے مختص کئے گئے تھے مگر ان رقوم کا بہت کم حصہ فراہم کیا گیا ہے جس میں باجوڑ کیلئے 16، مہمند کیلئے 11، خیبر کیلئے 23، کرم کیلئے 19، اورکزئی کیلئے 9، جنوبی وزیرستان کیلئے11  اور شمالی وزیرستان کیلئے24  ارب روپے کے منصوبے رکھے گئے ہیں،261  اسکیموں میں سے فقط131  سکیموں کی منظوری دی گئی ہے۔ آئی ڈی پیز کیلئے24  ارب روپے مختص کیے گئے تھے جس میں صرف14  ارب روپے دیئے گئے ہیں۔ ان اضلاع میں اے ڈی پی کی مد میں تین سالوں کیلئے232  ارب کی سکیمیں رکھی گئی ہیں مگر برسرِ زمین حقائق ایسے نہیں ہیں۔ ضلع مہمند میں سولر ٹیوب ویل اور گریوٹی بیس ڈی ڈبلیو ایس ایس کا201  ملین کا منصوبہ جو مئی2019  میں منظور ہو ا جس میں 41  اسکیمیں تھیں، اس کیلئے رواں برس15  ملین مختص جبکہ7  ملین جاری ہوئے ہیں،41  سکیموں میں سے17  پر کام ہو رہا ہے،8  اسکیمیں ناقابل عمل ہیں اور16  سکیموں پر جھگڑے ہیں۔ قبائلی اضلاع سولر ٹیوب ویل اور گریوٹی بیس ڈی ڈبلیو ایس ایس قائم کرنے کے حوالے سے421  ملین کے منصوبے ہیں جن کی منظوری نومبر2019  کو دی گئی تھی۔ گزشتہ برس19  ملین جاری کیے گئے تھے۔ رواں برس60  ملین مختص اور11  ملین جاری ہوئے۔ کل40  سکیمیں ہیں،23  پر کام ہو رہا ہے اور17  سکیمیں تنازعات کی نذر ہیں۔ ضم شدہ اضلاع کے حوالے سے یہ قومی اتفاق رائے ہے کہ انضمام کے بعد ضم شدہ اضلاع کو فنڈ مہیا کیا جائے تاکہ علاقے کو ترقی دی جائے، آئی ڈی پیز کو واپس لایا جائے، علاقے کی سیکورٹی کی صورتحال کو بہتر کیا جائے اور نوجوانوں کو بہتر روزگار کے مواقع مہیا کیے جائیں یہی وجہ ہے کہ آئی ڈی پیز کی واپسی کیلئےPSDP  نے سال 2019۔2020  کیلئے32.5  ارب روپے مختص کئے جبکہ سیکورٹی کیلئے بھی32.5  ارب روپے مختص کیے گئے جبکہ دس سالہDevelopment Plan  کی مد میں سال 2019۔2020 کیلئے 48 ارب روپے رکھے گئے تھے۔ وفاق اور خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کی وجہ سے جہاں پورا ملک معاشی ابتری کا شکار ہے وہاں ضم شدہ اضلاع پر بھی اثر پڑا ہے۔ گزشتہ سال کے بجٹ میں جو اعلان کیا گیا تھا اسے پھر سے تبدیل کیا گیا اور Development بجٹ جو کہ آئی ڈی پیز کی آباد کاری، صحت اور تعلیم کیلئے مختص تھا اسے کاٹ لیا گیا اور مئی2020  تک50  فیصد فنڈ ہی مہیا کیا گیا ہے۔ ضم شدہ اضلاع میں امن وامان کی صورتحال خراب ہونے کی وجہ سے آئی ڈی پیز کیRelief  اورCompensation  کیلئے جو فنڈ مختص تھا اس فنڈ کا بڑا حصہ یعنی15.5  ارب جبکہ وزیراعظم کے یوتھ پروگرام اور ہنر مند پروگرام سے بھی5  ارب روپے کاٹ کر سیکورٹی کو دے دیے گئے ہیں جس کا کل حجم ہی محض 10  ارب روپے تھا۔ گزشتہ مالی سال کے دوران ان اضلاع کیلئے جاری ہونے والے اکثر فنڈز استعمال کے بغیر واپس کئے گئے ہیں، محکمہ صحت نے بجٹ میں مختص2  ارب36  کروڑ میں سے صرف35  فیصد رقوم خرچ کئے۔ محکمہ ماحولیات اور محکمہ ایکسائز نے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا۔ محکمہ بحالی و آباد کاری نے صرف ایک فیصد فنڈ کا استعمال کیا۔ محکمہ ایکسائز نے ساڑھے چھ کروڑ میں سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا۔ محکمہ ریلیف نے بجٹ میں مختص8  کروڑ میں سے صرف18  لاکھ روپے جبکہ محکمہ مذہبی امور نے14  کروڑ50  لاکھ میں سے1  کروڑ71  لاکھ ہی خرچ کئے۔ قبائلی اضلاع کے لیے بیرونی امداد کی مد میں 12  ارب64  کروڑ60  لاکھ روپے رکھے گئے تھے جن میں صرف58  کروڑ81  لاکھ روپے جاری کیے گئے۔ مجموعی طور پر گیارہ ماہ میں جاری رقم کا صرف53  فیصد حصہ خرچ کیا جا سکا۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) میں محکمہ زراعت، کھیل و سیاحت سمیت پانچ محکموں کو مختص رقم میں سے ایک پائی بھی نہیں دی گئی۔ اے ڈی پی میں قبائلی اضلاع کے لیے 24 ارب روپے مختص کیے گئے تھے محکمہ خزانہ نے18  ارب59  کروڑ روپے جاری کیے جس میں سے محکمہ نے گیارہ ماہ کے دوران 11  ارب67  کروڑ روپے ہی خرچ کئے۔ قبائلی اضلاع کے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے پیش نظر اور ترقیاتی منصوبوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کیلئے وفاقی حکومت نے مرجڈ ایریاز اینوول ڈویلپمنٹ پروگرام (اے ڈی پی) کے ساتھ ایکسلریٹڈ انٹیگریٹڈ پروگرام (اے آئی پی) بنایا تھا جس کے تحت وفاق صوبائی حکومت کو قبائلی اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی ہدایت کرتا ہے۔ وفاقی حکومت نے رواں سال ترقیاتی پروگرام کے لیے24  ارب روپے فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ترقیاتی پروگرام میں ضم شدہ اضلاع کے لیے طے شدہ بجٹ میں سے صرف67  فیصد یا16.4  ارب روپے ہی جاری کیے گئے۔ ترقیاتی پروگرام کے لیے7.95  ارب روپے جاری نہیں کیے گئے۔ محکمہ منصوبہ بندی کے مطابق وفاقی حکومت کو لکھے گئے خطوط میں قبائلی اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے مختص کردہ فنڈز جاری کرنے کا کہا گیا۔ تاہم کچھ حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت مختص کردہ فنڈز کو کم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ قبائلی اضلاع میں فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے زیادہ تر منصوبے نامکمل پڑے ہیں۔ محکمہ منصوبہ بندی کے مطابق وفاقی حکومت نے قبائلی اضلاع میں طالبات کو سکول ی جانب راغب کرنے کے لیے3.7  ارب روپے مختص کیے تھے، سکیم کے تحت70  فیصد حاضری برقرار رکھنے والی طالبات کو ماہانہ وظیفہ دیا جائے گا لیکن وفاق کی طرف سے منصوبے کے لیے کسی طرح کے فنڈز جاری نہیں کیے گئے۔