اصلاحِ معاشرہ میں مسجد کا کردار

اصلاحِ معاشرہ میں مسجد کا کردار

  مفتی غلام یسین نظام

اسلام میں مسجد کو عبادت، تعلیم و تربیت، ثقافت اور تہذیب و تمدن کے اعتبار سے مرکزی مقام حاصل رہا ہے بلکہ مسلمانوں کی تمام سرگرمیوں کا مرکز و منبع مسجد ہی تھی۔ اسلام کی تعلیم کا آغاز مسجد سے ہوا۔ حضور سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی تو مدینہ سے باہر ''مسجد قبا'' کی بنیاد رکھی جو سب سے پہلی مسجد ہے اور پھر مدینہ منورہ میں دوسری ''مسجد نبوی'' بنائی۔ اس میں دینی اور دنیاوی تعلیمات شروعات کیں۔ اسی مسجد نبوی سے علم و عرفان، تہذیب و تمدن، اتحاد و یگانگت، اجتماعیت، مساوات و اخوّت کے جذبات پروان چڑھے اور معاشرہ روز بروز منور ہوتا چلا گیا۔ موجودہ دور میں مسلمان معاشروں میں معاشرتی، اخلاقی، سیاسی اور انتظامی بگاڑ عام ہو چکا ہے۔ اس کی ابتدا اس وقت ہو گئی تھی جب مسلمان کا تعلق مسجد سے کمزور ہوا۔ آج اگر ہم آرزومند ہیں کہ معاشرہ کی اصلاح ہو اور وہ امن و آشتی کا گہوارہ بن جائے تو ہمیں مسجد کے اس بنیادی کردار کو فعال کرنا ہو گا۔ اصلاحِ معاشرہ میں مسجد کا نمایاں کردار درج ذیل پہلوؤں کا حامل ہے:

 

1۔ روحانی تربیت میں کردار

مسجد مسلمان کی روحانی تربیت میں مندرجہ ذیل صورتوں میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ مسلمان جب نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد کا رُخ کرتا ہے تو وہ اپنی طہارت کا اہتمام کرتا ہے۔ اگر غُسل واجب ہے تو غُسل کرتا ہے ورنہ وضو کرتا ہے اور پھر کپڑوں کی صفائی کا جائزہ لیتا ہے کہ کہیں کوئی گندگی تو نہیں لگی ہوئی۔ ظاہری صفائی کے ساتھ وہ باطنی گندگی یعنی شرک، کینہ، حسد، بغض وغیرہ سے بھی اپنے آپ کو بچاتا ہے اور جب پانچ دفعہ مسجد میں جا کر ا للہ کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے تو اس عمل سے مسلمان کا ا للہ سے تعلق مضبوط تر ہو جاتا ہے۔ اور نماز جیسے اہم اور بنیادی فرض کی ادائیگی سے دوسرے تمام فرائض کو ادا کرنے کا جذبہ خود بخود پیدا ہو جاتا ہے۔ اور باجماعت نماز ادا کرنے سے روح کی تطہیر ہو جاتی ہے، کامل توجہ اللہ کی طرف ہونے سے دل شیطانی وسوسوں اور خیالات سے پاک ہو جاتا ہے اور وہ اس عربی مقولہ کا مصداق بن جاتا ہے: مؤمن مسجد میں ایسے ہوتا ہے جیسے مچھلی پانی میں اور منافق مسجد میں ایسے ہوتا ہے جیسے پرندہ پنجرے میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی اس خوبی کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: بلال! ہمیں نماز کے ذریعے راحت پہنچاؤ۔ مسجد کا یہ کردار دنیا کی تمام عبادت گاہوں سے اعلیٰ اور پاکیزہ ہے۔ اس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا تمام دوسرے تصورات، شخصیات اور محسوسات سے پاک و صاف ہوتا ہے۔

 

2۔ معاشرتی کردار

مسجد مسلم معاشرے کا مرکز و مرجع ہے، اس لیے بہت سے معاشرتی اُمور اس سے وابستہ ہیں جن میں سے چند یہ ہیں: مسلمان جب نماز کے لیے مسجد میں جاتا ہے تو اسے تمام مسلمان اسلام کے رشتہ اخوت سے جُڑے دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ مسجد میں ذات پات، رنگ و نسل، علاقے اور ملک، امیر اور غریب میں کوئی امتیاز نہیں ہوتا بلکہ بقول اقبال
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
اور جب مسلمان مسجد میں اکٹھے ہوتے ہیں تو آپس میں تمام حقوق و فرائض اَدا ہو جاتے ہیں جیسے ایک دوسرے کو سلام و جواب کرنا، بیمار کی عیادت کرنا، باہم ایک دوسرے کا احترام اور حاجت مندوں کی مدد کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ دیگر حقوق العباد کا احساس بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ اور معاشرے میں مسجد کے ذریعے سے معاشرتی مسائل کا ادراک حاصل ہوتا ہے، مسجد میں وہ ایک دوسرے سے بلارکاوٹ ملتے ہیں اور درپیش مسائل پر گفتگو کرتے ہیں اور ایسے ہی انفرادی مسائل کا اندازہ بھی ان کے ذریعے سے ہوتا ہے۔

 

3۔ مسجد اور تعمیر کردار

مسجد میں ہر طرح کے لوگ بوڑھے، جوان، بچے آتے ہیں اور ایک دوسرے سے میل ملاقات ہوتی ہے تو ایک دوسرے کی اخلاقی حالت سامنے آتی رہتی ہے۔ مسجد میں پابندی کے ساتھ پانچ وقت حاضری دینے سے مؤمن کے اخلاق اور کردار کی تعمیر ہوتی ہے۔ تعمیر کردار میں مندرجہ ذیل باتیں نمایاں ہیں: نماز کو باقاعدگی سے وقت پر ادا کرنے سے انسان وقت کا پابند بن جاتا ہے اور وہ اپنے وعدہ کو پورا کرنے اور نبھانے کا شعور پاتا ہے۔ اگر انسان معاشرے میں ان باتوں کا عادی ہو جائے تو اس کے اثرات بہت اچھے ہوتے ہیں اور نماز انسان کو بے حیائی اور بُرے کاموں سے روکتی ہے مثلاً مسجد میں انسان جھوٹ، غیبت، دھوکہ، ٹھگی، چغلی، رشوت، چوری اور بے حیائی وغیرہ سے جزوی طور پر رُک جاتا ہے اور آخرکار مکمّل طور پر ان معاشرتی برائیوں اور لعنتوں سے اپنے آپ کو بچانے کا عادی ہو جاتا ہے اور آدابِ مسجد کو ملحوظ رکھ کر مسجد میں جانے والا اس تباہ کن عادت سے بچا رہتا ہے کیونکہ نشہ اور حواس باختگی کے عالم میں اسلام نے نماز کی ادائیگی سے منع کیا ہے اس لیے نمازی منشیات اور نشہ آور اشیاء سے بچتا ہے۔

 

4۔  ثقافتی کردار

مسجد کا ایک کردار ثقافتی ہے۔ اسلامی ثقافت مسلمان کی زندگی کی عکاس ہوتی ہے۔ اس سے مراد وہ اعمال و افعال ہیں جو اسلام کی آمد کے بعد وجود میں آئے اور ان کا تعلق مسجد سے ہے: مسجد میں نمازِ جمعہ، رمضان المبارک اور عیدین کے موقع پر، زکوٰة و صدقات اور خیرات دینے کا جذبہ مزید بڑھ جاتا ہے جس سے بہت سے لوگ مستفید ہوتے ہیں اور مسلمان جب بھی مسجد کا رُخ کرتا ہے تو وہ اپنے لباس، وضع قطع اور دیگر اُمور کا اہتمام ضرور کرتا ہے، اس طرح مسلمانوں کی ایک ثقافت باقی رہتی ہے جو صرف مسجد کی بدولت ہے اور مسلمان جب مسجد میں جمع ہوتے ہیں تو ایک دوسرے سے مصافحہ اور معانقہ ضرور کرتے ہیں، خاص طور پر عیدین اور جمعہ کے موقع پر تو ناراض لوگ بھی آپس میں شیر و شکر ہو جاتے اور ایک دوسرے کو عیدین کی مبارک باد دیتے ہیں جو معاشرے میں نفرتوں کے خاتمہ کا ذریعہ ہے اور مسجد ایک ایسا ادارہ ہے جو تعلیم و تربیت میں بنیادی اور اہم کردار کا حامل ہے۔ ابن خلدون نے لکھا ہے کہ پہلی تین صدیوں میں مسجد ہی وہ درسگاہ تھی کہ تمام علوم و فنون اس میں پڑھائے جاتے تھے اور پہلی درسگاہ ''اصحاب صفہ'' کے نام سے مسجد نبوی میں قائم ہوئی تھی۔ مسجد میں درسِ قرآن و حدیث کے ساتھ فقہ کے مسائل بیان کرنے کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔ علم و عرفان کا بہت سا حصّہ مسلمان مسجد سے ہی سیکھتے ہیں اور ایک زمانے میں پاکستان میں مسجد ِسکول کا قیام بھی ہوا تھا جو بعض علاقوں میں آج تک چل رہا ہے۔

 

5۔ معاشی اور مالی کردار

مسجد ہی معاشرے کے تمام اسلامی اور فی سبیل اللہ مالی معاملات کا مرکز ہوتی ہے۔ مثلاً زکوٰة، صدقات و خیرات وغیرہ وغیرہ۔ یہ نظام مسجد سے وابستہ رہا ہے اور آج بھی اسے جاندار بنایا جا سکتا ہے۔

 

خلاصہ کلام

مسجد دعوت و تبلیغ کا مرکز اور اسلامی معاشرے کا محور رہی ہے۔ مسجد ہی مسلمانوں کی ظاہری، باطنی اور مادی آبیاری اصلاح کرتی رہی ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر خلفائے راشدین اور بعد کے دور میں بھی ایسا ہی کردار ادا کرتی رہی۔ دشمنوں نے اس کی اہمیت، مرکزیت اور ہمہ گیریت کو سمجھ کر اس کے خلاف گہری اور پوشیدہ سازشیں شروع کر دیں تاکہ اس کے کردار کو ختم یا کم از کم کمزور ضرور کر دیا جائے۔ مسجد کے کردار کو مسخ کرنے والے عزائم دبیز اور رنگین پردوں میں چھپے ہوئے ہیں جن کا ادراک ضروری ہے۔ 

 

دورِ حاضر میں ہماری اجتماعی زندگی کا شیرازہ بکھر چکا ہے جو اُمت مسلمہ کے لئے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ یہ اُمت واحدہ اب مختلف فرقوں، گروہوں، گروپوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ مسلم معاشرہ بگاڑ، انتشار، خلفشار، گمراہ کن افکار، رذیلہ اخلاق و کردار کا بھیانک نمونہ پیش کر رہا ہے۔ اخلاقی جرائم بے حیائی، فحاشی کا طوفانِ بدتمیزی ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لیتا۔ معاشرے میں بے چینی، بدامنی، بے سکونی، وحشت و دہشت گردی عام ہے۔ قتل و غارت، ڈاکہ زنی، رہزنی، بددیانتی، بدعہدی، رشوت، دھوکہ دہی، ملاوٹ، جھوٹ، فریب کا چلن ہے۔ ان مفاسد کو ختم کرنے کے لئے ایسے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جو قرونِ اولیٰ میں کئے گئے تھے کہ جن کی بدولت وہ معاشرہ امن و سکون، محبت و آشتی اور خوشحالی کا ایسا بے مثال نمونہ بن گیا تھا کہ یمن کے دارالخلافہ ''صنعائ'' سے ایک اکیلی عورت حج کے لیے تمام زیب و زینت اور زیورات پہن کر چلی تو مکّہ تک اس کی طرف کوئی نظر اُٹھا کر دیکھنے کی جرأت نہیں کر سکا۔ وہ معاشرہ اس قدر مصلح، تربیت یافتہ اور خوشحال بن گیا تھا کہ لوگ زکوٰة دینے کے لیے نکلتے تھے لیکن کوئی وصول کرنے والا مستحق نہیں ملتا تھا۔