کرک، 200سال قدیمی بہادر خیل ٹنل میں کمرہ نما سرنگ دریافت

کرک، 200سال قدیمی بہادر خیل ٹنل میں کمرہ نما سرنگ دریافت

کرک (نمائندہ شہباز) کرک میں 200سال قدیمی ٹنل میں کمرہ نما سرنگ دریافت ہوا ہے جس نے علاقے میں ہلچل مچادی۔

 

بہادرخیل کے قدیم ترین ٹنل جو کہ حکومت نے سن1990ء کے قریب لیکیج کے باعث ناقابل استعمال قراردے کر آمدروفت کیلئے بندکرکے متبادل ٹنل قائم کیاتھا چون کہ حکومت کوہاٹ تا بنوں جی ٹی روڈ کو دورویہ بنانے کا فیصلہ کرچکی ہے جس کیلئے 12 ارب روپے سے زائد فنڈز مختص کئے جاچکے ہیں اور ایف ڈبلیواو حکام کی جانب سے مذکورہ روڈپر تعمیراتی کام جاری ہے جس میں بہادرخیل کے قدیم ترین ٹنل کی دوبارہ بحالی بھی شامل ہے ۔

 

ذرائع کے مطابق ایف ڈبلیو او حکام قدیم ترین ٹنل کی تعمیرپر کام کاآغاز کرچکے ہیں لیکن گذشتہ شب زیادہ ہونیوالی بارش کے دوران ٹنل کا بیرونی حصہ منہدم ہوچکاہے جس کیساتھ ٹنل کے شمالی طرف قائم انٹری پوائنٹ کے عین اوپر ایک پر اسرار کمرہ نما سرنگ دریافت ہوا ہے جوکہ علاقہ مکینوں کے مطابق اس سے قبل کبھی بھی منظرعام پرنہیں آیا۔

 

 اس عجوبے کو دیکھنے کیلئے دوردراز علاقوں سے لوگوں کے آنے کاسلسلہ جاری ہوچکاہے مقامی لوگوں اور ضلع بھر کے عوام میں دریافت ہونے والے کمرہ نما سرنگ کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں لیکن فی الحال کسی بھی سرکاری ادارے یا ضلعی انتظامیہ کا اس معاملے پر کوئی موقف سامنے نہیں آسکا ۔

 

مگر اس ضمن میں مقامی باشندہ مصری خان نے میڈیا کوبتایا کہ بہادرخیل ٹنل بہت پرانا اور تاریخی ہے اسکی تعمیر1802ء میں شروع ہوئی اور 3 سال کے عرصہ1805 میں مکمل ہوئی پرانے زمانے میں یہ واحد راستہ تھا جسکو انگریز استعمال کرتے تھے فوجی کنوائے اسی راستے کو استعمال کرتے تھے جبکہ اس خفیہ سرنگ کے حوالے سے کسی کو کوئی معلوم نہیں کمرہ نما سرنگ کے دریافت ہونے کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مقامی لوگوں کے علاوہ دیگر علاقوں سے بھی لوگوں کی بڑی تعداد دیکھنے آئی اور مختلف رائے چہ مگوئیاں اور قیاس آرائیاں اور افواہوں کا بازار گرم ہے۔
 

ٹیگس