پے درپے واقعات ضم اضلاع میں دہشتگردی کا قلعہ قمع کرنے پر سوالیہ نشان ہے، میاں افتخار

پے درپے واقعات ضم اضلاع میں دہشتگردی کا قلعہ قمع کرنے پر سوالیہ نشان ہے، میاں افتخار

نوشہرہ: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخارحسین نے کہا ہے دہشتگردوں کاپے درپے واقعات کرنا ضم اضلاع میں دہشتگردی کا قلعہ قمع کرنے پر سوالیہ نشان ہے۔ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ثبوت ہیں کہ دہشتگردی ختم نہیں ہوئی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کئی بار اس خدشے کا اظہار کرچکی ہے کہ دہشتگرد منظم ہورہے ہیں ان کو روکا جائے  لیکن موجودہ حکومت دہشتگردی کے واقعات روکنے میں ناکام ہوئی ہے۔

 

میاں افتخار حسین نے کہا کہخیبر پختونخوا اور بلوچستان کے پختون خطے میں جبری گمشدگی کے واقعات لوگوں میں احساس محرومی کو پروان چڑھا رہے ہیں ۔ضم اضلاع میں لینڈ مائنز کی صفائی کےدعوے کئے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود عوام روزانہ اس کا نشانہ بن رہے ہیں ۔

 

نوشہرہ پریس کلب کے سامنے احتجاج کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک میں آج بھی دہشتگرد تنظیمیں فعال ہیں،  انتہا پسندی اور دہشتگردی کو روکنےکا واحد راستہ  نیشنل ایکشن پلان  ہے۔ جب تک نیشنل ایکشن پلان پر  من و عن عملدرآمد نہیں کیا جاتا،  دہشتگردی کے واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔

 

ملک کے موجودہ صورتحال بارے میاں افتخار حسین نے کہا  کہ  باہر کی دنیا سے فنڈز آرہے لیکن کوئی نہیں جانتا کہ کہاں جارہے ہیں  ۔ لوڈ شیڈنگ نے عوام کا جینا محال کردیا ہے۔ ریلوے ٹریک ٹرین چلانے کے قابل نہیں ہیں اور روزانہ حادثات میں عوام کی جانیں ضا‏ئع ہورہی ہیں لیکن وزیراعظم اور ان کے وزراء اور مشیر حکومت کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں۔

 

تعلیمی صورتحال بارے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں طلباء اور اساتذہ دونوں سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ کورونا کی وبائی صورتحال میں حکومت کو چاہیئے کہ طلباء کو خصوصی رعایت دی جائے اور مارکنگ میں ان کے لئے گریس مارکس رکھیں جا‏ئیں تاکہ طلباء کا مستقبل تاریک ہونے سے محفوظ ہوسکے۔

 

افغان امن مذاکرات بارے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ دونوں ممالک  کو دیرپاامن کے قیام کے لئے موجود حالات میں انتہائی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور سفارتی سطح پر ایسی باتوں سے گریز کرنا ہوگا جو امن کی راہ میں رکاوٹ بنے۔  امید پیدا ہوئی تھی کہ افغانستان امن مذاکرات کی کامیابی سے خطے کے حالات سازگار ہوجائیں گے اور امن کا قیام ممکن ہوجائے گا۔ لیکن جس انداز سے افغان امن مذاکرات کا عمل جاری ہے امید کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بین الافغان مذاکرات کے لئے ضروری ہے کہ تمام فریقین مل بیٹھ کرمتفقہ لائحہ عمل تشکیل دے اور مذاکرات کا عمل پورے ہونےتک مکمل سیزفائر کا اعلان کرے۔ پاکستان ، چین، روس، امریکہ، ایران اور ترکی کو افغانستان میں امن کے قیام کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ موجودہ حالات میں اگر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا تو سب سے زیادہ نقصان ڈیورنڈ کے دونوں جانب پختونوں کاہی ہوگا۔

 

مردان میں دوران ڈیوٹی  پولیس اہلکاروں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اے این پی متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اس غم میں شریک ہے۔ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کو شہداء پیکج دیا جائے تاکہ ان کے بال بچوں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچ جائے۔