سینیٹ انتخاب، ریفری کی غیرجانبداری ضروری ہے

سینیٹ انتخاب، ریفری کی غیرجانبداری ضروری ہے

ملک عزیز میں آباد خلقِ خدا خصوصاً پسماندہ و غریب طبقات کے ساتھ ساتھ متوسط طبقہ بھی تشویش و پریشانی میں مبتلا ہے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے مسلسل تین دن تک بجلی کی قیمتوں اور مسلسل چوتھے ہفتے مہنگائی میں اضافہ کر دیا ہے۔ بجلی، آٹا، چینی، گھی اور اس طرح کی دیگر اشیائے ضروریہ سب ایسی چیزیں ہیں جن کے بغیر عام و غریب آدمی کی زندگی کا تصور ممکن نہیں، یہ سب ان کے روزمرہ استعمال کی چیزیں ہیں جو آہستہ آہستہ ان کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔

امن عامہ کے مسائل کے بعد مہنگائی اور بے روزگاری ہی وہ بنیادی مسائل ہیں قوم جن کے حل کے لئے ہر حکومت سے توقعات وابستہ کر لیتی ہے لیکن بدقسمتی سے ہر بار قوم کے ساتھ ہاتھ کر دیا جاتا ہے۔دوسری جانب ملک میں سینیٹ انتخاب کی آمد آمد ہے اور اپوزیشن و حکمران جماعت جس کے لئے اپنے اپنے امیدواروں کے نام فائنل کر چکی ہیں، امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ الیکشن کمیشن نے امیدواروں کی سہولت کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ میں 2دن کی توسیع کردی ہے جبکہ ریکارڈ کی چیکنگ کے لئے نیب کا خصوصی سیل بھی قائم کر دیا گیا ہے جو امیدواروں کی کلیئرنس الیکشن کمیشن کو جاری کرے گا۔ اس حوالے سے ذرائع نے کہا ہے کہ نیب سے سزایافتہ کوئی امیدوار انتخاب میں حصہ نہیں لے سکے گا۔ سینیٹ انتخاب کے حوالے سے حکمران جماعت خصوصاً وزیر اعظم کی پریشانی یا بوکھلاہٹ کسی سے پوشیدہ نہیں جو ہر قیمت پر ایوان بالا میں اپنی اکثریت قائم کرنا چاہتے ہیں، کیوں؟ اس کا جواب بڑا سادہ اور واضح ہے۔ حکمران جماعت اور اس کے قائد کے اپوزیشن کے بیشتر رہنماؤں سے متعلق خیالات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں جبکہ حکومت کی اب تک کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھنا بھی ہرگز مشکل نہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کس ’’ایجنڈے‘‘ پر گامزن ہے۔

حکمران جماعت کے اسی طرزعمل کو مدنظر رکھتے ہوئے اپوزیشن کے تحفظات اور خدشات بجا ہیں، سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد حکمران جماعت کو مکمل چھوٹ مل جائے گی اور اسے قانون سازی میں کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سینیٹ انتخابات حکمران جماعت اور اپوزیشن دونوں کے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں، اگر ایک طرف وزیر اعظم کو اپنے ساتھیوں کے انحراف کا خوف ہے تو دوسری جانب اپوزیشن کو غیرسیاسی قوتوں کی جانب سے مداخلت کا خدشہ ہے، چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کا تجربہ وہ بھولی نہیں ہے جبکہ اسے ہر قیمت پر حکمران جماعت کا راستہ روکنا ہے۔ ہمارے نزدیک سینیٹ کے ان انتخابات کو ایک ٹیسٹ کیس بنا لینا چاہئے، خفیہ یا اوپن بیلٹ انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ کی جو بھی رائے ہو، اس کے نتیجے میں اس سلسلے میں جاری کردہ آرڈیننس نافذالعمل ہو یا غیرموثر، دونوں صورتوں میں حکمران جماعت اور اپوزیشن کو یہ میچ کھیلنے دینا چاہئے اور مقتدر حلقوں کو سیاست میں عدم مداخلت اور کسی قسم کے ڈور بیک رابطوں کے حوالے سے اپنے حالیہ دعوے یا اعلان برات کا عملی مظاہرہ کرنا چاہئے۔