شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات (پہلا حصہ)

شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات (پہلا حصہ)

مترجم: نورالامین یوسفزئی 

بنگالیوں میں ابتداء سے یہ احساس محرومی چلا آ رہا تھا کہ پاکستان میں کوئی بھی اُن کی اکثریت تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے، اکثریت تو درکنار کوئی اُن کو اُن کا جمہوری اور قانونی حق دینے پر بھی آمادہ نہیں تھا۔ اور اس محرومی کی ابتداء سال 1948؁ء میں ہوئی تھی جب پاکستان کے پہلے گورنر جنرل قائداعظم نے ڈھاکہ میں اعلان کیا کہ پاکستان کی سرکاری زبان اُردو ہو گی۔ اس اعلان کا بنگالیوں نے بُرا منایا، وہاں ہنگامی شروع ہوئے، لوگ مارے بھی گئے اور بالآخر بعد از خرابی بسیار بنگالی کو اُردو کے ساتھ دوسری زبان کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ پھر جب 1951؁ء کو وہاں پر صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہوئے تو اُن لوگوں نے وہاں سے مسلم لیگ کا صفایا کر دیا یہاں تک کہ مسلم لیگ کے صوبائی صدر نورالامین کے مقابلے پر ایک طالب علم کو کھڑا کر دیا جس نے اُس کو شکست دی۔ جب ان انتخابات کے نتیجے میں صوبائی سطح پر ایک منتخب حکومت بن گئی تو اُسے مرکز نے توڑ دیا اور مشر اُستاد سکندر مرزا کو صوبے کا گورنر بنا دیا گیا۔ اس کے بعد مسلم لیگی اکابرین نے اس حوالے سے سر جوڑ لئے کہ اس مسئلے (بنگالی اکثریت) کا کوئی مستقل حل ڈھونڈنا چاہئے تو پھر انہوں نے ون یونٹ اور مساوی نمائندگی کی صورت میں اس مسئلے کا حل نکال لیا اور یوں اُن لوگوں نے ایک پنجابی اور مہاجر کیلئے بنگال میں حکمرانی کا ایک آئینی جواز پیدا کر دیا۔ یہاں سے مہاجر بنگالی چلے گئے اور اُن سرمایہ داروں نے وہاں کارخانے لگا دیئے، اس طرح اُن سرمایہ داروں نے وہاں کی تجارت اور صنعت پر قبضہ جما لیا۔ بنگال پٹ سن کا گڑھ تھا اور اُس کیلئے دنیا میں مارکیٹنگ کی بہت بڑی گنجائش موجود تھی، زرمبادلہ کمانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ بھی تھا۔ اور زرمبادلہ کمانے کیلئے کلکتہ کے کارخانوں کی جگہ یہاں مغربی پاکستان سے کارخانہ دار اُدھر (بنگال کو) شفٹ ہوئے اور اُن لوگوں نے وہاں کارخانے لگا دیئے۔ وہاں کی دوسری بڑی پیداوار چائے کے پتوں کی تھی جس میں بھی زرمبادلہ کمانے  کی کافی قوت موجود تھی۔ اب ان استحصالی قوتوں کے تحفظ کیلئے وہاں (بنگال میں) مغربی پاکستان کے بیوروکریٹ تعینات کر دیئے گئے اور اُن لوگوں نے ان مفادپرست سرمایہ داروں کیلئے بنگال میں ایسی سازگار فضا بنائی کہ بنگال اپنی سرزمین پر خود کو اجنبی سمجھنے لگے، زمین اُن کی تھی، سب کچھ اُن کا تھا مگر اس افسر شاہی کی بدولت وہ خود کو ان وسائل میں حصہ دار تو درکنار ایک نوآبادیاتی، کالونی کے باسی محسوس کرنے لگے۔ اندازہ لگائیے یہ سب کچھ اس ملک میں اُن لوگوں کے ساتھ ہو رہا تھا جن کی اس ملک میں اکثریت تھی۔ یہ احساس محرومی آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا اور سارے بنگال کو لپیٹ میں لے رہا تھا۔ اوپر سے 1965؁ء کی پاک ہند جنگ چھڑ گئی۔ اب تک تو وہ (بنگالی) اپنے جمہوری، آئینی اور سیاسی حقوق مانگ رہے تھے اور ملک کی آزادی کے ثمرات میں سے اپناحصہ مانگ رہے تھے، اپنی زبان، ثقافت اور تمدن کے حقوق کی جنگ لڑ رہے تھے مگر مذکورہ جنگ سے اُن کے ساتھ اپنی بقاء اور اپنے وجود کی فکر دامن گیر ہوئی، وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ اس طرح کی جنگ جب بھی لڑی جائے گی تو ہمارے ہاتھ میں اپنے دفاع کا کوئی وسیلہ اور ذریعہ ہی نہیں ہو گا، ہم تو مکمل طور پر دُشمن کے رحم وکرم پر ہوں گے کیونکہ مغربی پاکستان کے ساتھ ہمارا ہر قسم کا رابطہ کٹ جائے گا جبکہ ہمارے پاس مشرقی پاکستان میں مکمل فورس اور ہتھیار بھی نہیں ہیں ایسے میں تو ہندوستان جب بھی یہ ارادہ کرے گا کہ ہم نے مشرقی پاکستان کو فتح کرنا ہے تو ہم تو اُن کے لئے ایک تر نوالہ ہی ثابت ہوں گے۔ اور اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ جنگ کرنے اور نہ کرنے کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوتا ہے اُس میں بھی اُن کا (مشرقی پاکستان کا) کوئی کردارنہیں ہوتا، یہ فیصلہ مغربی پاکستان والے اپنی مرضی سے کرتے ہیں۔ ہم (مشرقی پاکستان والے) ہر حال میں اُن کے فیصلے کے ماتحت ہوں گے۔ ایسے میں اگر مسئلہ ہماری بقاء کا بھی ہو تب بھی وہ لوگ (مغربی پاکستان والے) اپنی سہولت کو دیکھتے ہیں۔ دراصل اس کی مثال بالکل ایسی تھی جب 1939؁ء کو دوسری عالمی جنگ چھڑ گئی تو ہندوستان کے حوالے سے بھی سلطنت برطانیہ، لندن سے اعلان جنگ کیا گیا۔ اب جب انسان اس سارے معاملے کو دیکھتا ہے اور اس حوالے سے تحقیق کرتا ہے تو اُس کی جڑیں بھی وہاں تک پہنچ جاتی ہیں۔ جب قیام پاکستان کے بعد آئین ساز اسمبلی بیٹھ گئی تو مسلم لیگی اکابرین کو یہ اندازہ ہوا کہ مشرقی پاکستان کی آبادی مغربی پاکستان کے تمام یونٹ کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے تو اُس وقت وحدت پاکستان کے تصور نے بھی اپنے وجودکو کھو دیا۔ اور پھر صوبوں کے نام پر سیاسی مسائل کے حل کی بنیادیں رکھ دی گئیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ملک کی متعدد حکومتوں نے اپنے اپنے انداز میں مشرقی پاکستان کی آبادکاری اور ترقی کیلئے بہت کچھ کیا خاص طور پر فیلڈ مارشل کے زمانے میں تو مشرقی پاکستان میں بہت سارے ترقیاتی کام ہوئے، کئی ایک کارخانے لگائے گئے، بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچائے گئے، پٹ سن، کاغذ اور بجلی کے کارخانوں نے کام شروع کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ متحدہ بنگال میں تو ڈھاکہ کی حیثیت ایک ہنڈ (گاؤں) کی تھی مگر آج وہ چھوٹا سا گاؤں ایک بہت بڑے شہرکا روپ دھار چکا تھا۔ یہ سب کچھ اپنی جگہ مگر ان تمام باتوں کے باوجود وہاں کے لوگوں میں ایک خاص قسم کا احساس محرومی اور احساس کمتری موجود تھا اور اُن کا خیال تھا کہ ملک میں آبادی کی حیثیت سے اکثریت رکھنے کے باوجود اُن کو وہ مقام نہیں دیا جا رہا جو کہ اُن کا آئینی اور جمہوری حق بنتا ہے۔ بنگال کے اپنے تاجر اور کارخانہ دار یہ چاہتے تھے کہ اُن کی سرزمین پر جو کارخانے بن رہے ہیں اور جو کچھ ترقیاتی کام ہو رہے ہیں وہ سب پنجابی اور مہاجر سرمایہ داروں کی بجائے اُن کے اپنے ہاتھوں میں ہو۔ دراصل وہ اپناحصہ مانگ رہے تھے صرف تجارت اور صنعت ہی میں نہیں وہ تو نوکر شاہی اور فوج میں بھی اپناحصہ مانگ رہے تھے۔