شمالی وزیرستان میں چار پختون نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ افسوسناک ہے، ایمل ولی خان

شمالی وزیرستان میں چار پختون نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ افسوسناک ہے، ایمل ولی خان

عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں چار پختون نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ افسوسناک ہے۔ ایسے واقعات پختونوں میں احساس محرومی کو مزید پروان چڑھا رہے ہیں۔ ریاست سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ 

 

شمالی وزیرستان میں گزشتہ روز یوتھ آف وزیرستان کے سنید داوڑ، اسد داوڑ، وقار داوڑ اور حماد داوڑ کی الگ الگ مقامات پر ٹارگٹ کلنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ نامعلوم افراد پر ذمہ داری ڈال کر ریاست خود کوبری الذمہ نہیں کرسکتی۔ ریاست پاکستان ماضی سے سبق سیکھنے کی بجائے غلطیاں دہرانے پر تلی ہوئی ہے۔ 

 

ایک جانب دہشتگردوں سے مذاکرات کا ڈھونگ رچایا جارہا ہے تو دوسری جانب ہمارے نوجوانوں اور صاحب الرائے مشران کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ پہلے دہشتگردی میں لاکھوں پختونوں کا قتل عام کیا گیا اور اب ٹارگٹ کلنگ کے نام پر امن پسندوں کا خون بہایا جارہا ہے۔ وزیرستان سے لیکر باجوڑ اور کوئٹہ تک آئین و قانون کو چیلنج کیا جارہا ہے، ریاست حالات کو سدھارنے اور سدباب کرنے کی بجائے تماشہ دیکھ رہی ہے۔

 

 ان کا کہنا تھا کہ  وزیرستان سمیت دیگر علاقوں میں اس قسم کے واقعات دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے کے دعوں پر سوالیہ نشان ہے۔ عوام پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب ان علاقوں کودہشتگردوں سے کلیئر قرار دیا جاچکا ہے تو ان واقعات میں کون ملوث ہیں؟

 

 انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے اس ملک میں احسان اللہ احسان اورسینکڑوں شہریوں کے قاتل را انوار کو میڈیا پر ہیرو بنایا جاتا ہے لیکن امن کے خواہشمندوں کو راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ ابھی بھی وقت ہے، حکومت اور ریاست ہوش کے ناخن لے۔ دہشتگردی اور انتہاپسندی کو ختم کرنا ہے تو گوڈ اور بیڈ کی تفریق کو ختم کرنا ہوگا۔ اے این پی پورے خطے میں دیرپا امن کی خواہشمند ہے اور اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔