”تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آ گئی ہے“

”تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آ گئی ہے“

پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی حکومت نے دارالحکومت اسلام آباد میں اپنے مطالبات کے حق میں پرامن احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات یا ان کے مسائل کے حل کے لئے کسی طرح کے آئینی، قانونی، جمہوری اور سب سے بڑھ کر انسانی و اخلاقی اقدامات کرنے کی بجائے ان کے خلاف ریاستی قوت کا استعمال کر کے اپوزیشن خصوصاً پی ڈی ایم کے ان الزامات کو تقویت بخشی ہے کہ موجودہ حکومت فسطائیت و آمریت کے راستے پر چل نکلی ہے اور وہ اس ملک میں عوام سے ان کا حق حکمرانی چھیننے کے درپے ہے۔ اپوزیشن جماعت ن لیگ کے صوبائی صدر امیر مقام کے بقول عمرن خان نے ملازمین پر تشدد کر کے ملک کو ”ریاستِ مدینہ“ کی بجائے ”کوفہ کی ریاست“ بنا دیا ہے۔ بدھ کو پولیس کی جانب سے جس طرح اسلام آباد کو میدان جنگ میں تبدیل کیا گیا، ملازمین پر جس طرح کا لاٹھی چارج اور شیلنگ کی گئی اور جس طرح ان کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں، وہ تمام مناظر دیکھتے ہوئے ایسے دکھائی دے رہا تھا جیسے یہ مملکت خداداد پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر کا کوئی علاقہ ہے، سری نگر ہے، جہاں بھارت کی غاصبانہ حکومت نہتے کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہی ہے۔ افسوس تو اس بات کا بھی ہے، ملک کی تمام تر سیاسی جماعتوں کی قیادت جس کا واشگاف الفاظ میں اظہار بھی کر رہی ہے، کہ یہ سب اس سیاسی جماعت کے دور حکومت میں ہوا اور ہو رہا ہے جس نے خود چھ سات سال قبل 126 دنوں تک اسلام آباد میں دھرنا دیا اور جس کا ذکر آج بھی حکمران جماعت کے قائد بڑے فخر سے کرتے ہیں، وہی دھرنا جس نے ملک کو قوم کو اندرون ملک ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی سیاسی، معاشی غرض ہر طرح کا ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تھا، عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان کے بقول آج ان سے چند گھنٹے کا احتجاج برداشت نہیں ہو رہا نا ہی انہیں یہ توفیق نصیب ہوئی کہ ان مظاہرین کے ساتھ بات کر سکیں۔ افسوس کہ پرُامن مظاہرین پر تشدد اس جماعت کی حکومت نے کیا ہے جس کے قائد کبھی صبح و شام قوم کو آئین کی وہ شقیں یاد دلاتے رہتے تھے جن کے تحت پرامن احتجاج اس ملک کے ہر طبقے اور ہر شہری کا حق ہے، موجودہ وزیر اعظم کل کے وہی رہنماء اور قائد ہیں جو عوام کو محولہ بالا حق نہ ملنے پر یا ان کی جماعت کے کسی ایک کارکن کی گرفتاری پر تھانوں کے سامنے بنفس نفیس پہنچنے کی دھمکیاں دیا کرتے تھے۔ آج وہی جماعت اور اس کے وہی قائد عوام کو ان کا جمہوری حق دینے کو تیار نہیں ہیں بلکہ وہ اپنے ہر مخالف کو، اپنی حکومت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو سیاسی ہتھکنڈوں، پراپیگنڈوں یا پھر عدالت اور یا پھر ننگی طاقت سے دبانے پر تلے ہوئے ہیں اور ہر قیمت پر ایک بے لگام اختیار حاصل کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ مقامِ افسوس تو یہ بھی ہے کہ انہی سرکاری ملازمین کی ایک واضح اکثریت موجودہ حکمرانوں کو اس مقام تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کر چکی ہے، بہ الفاظ دیگر یہی ملازمین دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات سے قبل بڑی شدومد کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کو سپورٹ کرتے تھے، آج انہیں یقینااس تبدیلی کا احساس ہو چکا ہے جو آ نہیں رہی بلکہ آ چکی ہے اور وہ تبدیلی کچھ اور نہیں بس یہی ہے کہ سٹیٹس کو کے خلاف اٹھنے والی اِکا دُکا آوازوں کو بھی بذریعہ طاقت خاموش کرنے کا سلسلہ چل نکلا ہے، یہ بات کہاں تک پہنچے گی یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا تاہم تب تک ملک و قوم کی کیا حالت ہو گی یا کر دی جائے گی اس کا تصور ہی رونگٹے کھڑے کردینے کے لئے کافی ہے۔ لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ عنقریب منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی صورت قوم کے پاس اپنا پیغام واضح کرنے اور ذمہ داروں تک پہنچانے کے لئے ایک نادر موقع ہے جسے کسی بھی صورت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ ملک و قوم کے بہی خواہ کون ہیں اور بدخواہ کون، قوم کو اب تو سمجھ آ جانی چاہئے۔