تین سالوں میں541 کمسن بچوں کیساتھ جنسی زیادتی،13 کو قتل کیا جا چکا ہے، پولیس رپورٹ

تین سالوں میں541 کمسن بچوں کیساتھ جنسی زیادتی،13 کو قتل کیا جا چکا ہے، پولیس رپورٹ

خیبرپختونخوا میں گزشتہ تین سالوں کے دوران کمسن بچوں اور بچیوں کیساتھ جنسی زیادتی کے 541 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں 13 بچوں کو جنسی زیادتی کے بعد بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا۔

 


اب تک 202 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے تاہم صرف 13 ملزمان کو سزا دی گئی ہے۔

 

جنسی تشدد کے الزام میں گرفتار 18 ملزمان کو عدالت نے بری کیا ہے۔ جنسی زیادتی کے سب سے زیادہ 120 واقعات پشاور میں رونما ہوئے ہیں۔ اپوزیشن ارکان نے بچوں پر جنسی تشدد سے تحفظ کے قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے پر شدید تحفظات کااظہار کیا۔


صوبائی اسمبلی میں پیش کردہ رپورٹ کے مطابق صوبے میں 2019 تا 2021 کے دوران صرف14 اضلاع میں 541 بچوں اوربچیوں کیساتھ جنسی واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 13 بچوں کو تشددکے بعد قتل کیاگیا۔ پشاورمیں اس عرصہ میں 120 بچے / بچیاں درندہ صفت ملزمان کے حوس کانشانہ بنے۔

 

سرکاری دستاویزات کے مطابق 2019 میں پشاورمیں 42 مقدمات میں 71 ملزمان کوگرفتارکرکے چالان عدالت کئے گئے ہیں، ان میں سے چار ملزمان کو تین سال ایک ملزم کودس سال اورایک کوسزائے موت دی جا چکی ہے۔ چار مقدمات سزا، نومقدمات میں بری اور29 مقدمات عدالت میں زیرسماعت ہیں۔ 2020 میں 33 مقدمات میں 90 ملزمان کوگرفتارکرکے چالان عدالت کئے گئے،

 

ان ملزمان میں سے تین کوسات سال، دوکودس سال اوردس دس لاکھ روپے جرمانہ جبکہ پانچ کو سزا، پانچ بری اور23 مقدمات عدالت میں زیر سماعت ہیں۔ 2021 میں چارمقدمات میں 44 مقدمات میں 61 ملزمان گرفتارکرکے چالان عدالت کئے گئے، جن میں سے دوملزمان کوبالترتیب پانچ اور دس سال قید اوردس دس لاکھ روپے جرمانہ، دوکوسزا، تین کوبری اور39 مقدمات عدالت میں زیرسماعت ہیں۔