تحریک تحفظ حقوق قوم عیسی خیل جڑوبی درہ کی کامیابیاں

تحریک تحفظ حقوق قوم عیسی خیل جڑوبی درہ کی کامیابیاں

خیبر پختونخواہ کے قبائلی ضلع مہمند میں افغانیوں کو پاکستانی شناختی کارڈز دلوانے اور قوم عیسی خیل جڑوبی درہ کی معدنیات کی ممکنہ لیز اونے پونے داموں حاجی حامد نامی ایک افغانی کو دینے کے خلاف ایک تحریک چل پڑی جس کا پہلا اجلاس (جرگہ) وزیر باغ پشاور میں 12 فروری کو ہوا جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے یہ بات ثابت کر دی کہ قوم عیسی خیل اب جھوٹے خداؤں سے تنگ آ چکی ہے۔ اسی اجلاس میں قوم کی تضحیک میں ملوث عناصر پر مشتمل لیز کمیٹی اور ایم ایس عیسی خیل بیزئی مہمند کمپنی کے خلاف تحریک تحفظ حقوق قوم عیسی خیل جڑوبی درہ کی بنیاد رکھی گئی جس کو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پذیر آرائی ملتی رہی۔ تحریک ننھے پودے سے تناور درخت کی شکل اختیار کرنے لگی جس کے سایہ سے قوم عیسی خیل اب بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے۔ تحریک تحفظ حقوق قوم عیسی خیل جڑوبی درہ کی قیادت حضرت خان مہمند، حاجی لائق شاہ، ملک محمد انور، حاجی شاہ مونڈ، حاجی علی اکبر، حاجی لطیف، محمد یوسف، حاجی میجر خان آف تورہ تیگہ، حاجی تسلیم خان، خان محمد، مسلم خان، حاجی شیر زمان، افضل خان، حاجی عالم، سعد اللہ، حاجی غفار حسن بیک خیل نیاز محمد تورہ تیگہ، حاجی فضل الرحمان، گل رحمان عرف گلک ماما، حبیب الرحمان، گل افضل، سابقہ ڈسٹرکٹ کونسلر عارف مہمند، جلال خان مہمند، فضل امین، سفیر خان، ولی خان، قاسم خان، صالح محمد، حاجی محمد اور عبدالحق پسران تاج محمد ملنگ، حاجی غلام اور ان کے بھائی وزیر، حاجی رحمت اللہ، بہادر میم خیل، احسان اللہ خان، امان شاہ عرف مانے، حاجی زرماش خان، حاجی نواب، حاجی ظاہر شاہ خیبر خان اور دیگر قائدین نے سنبھالی۔ تحریک کی سرگرمیاں جب عروج پر تھیں تو وزیر اس دار فانی سے رخصت ہوئے تاہم ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں۔ ان کے فرزند فیصل نے ان کی جگہ لے لی۔ تحریک کے ساتھ سابق ڈسٹرکٹ کونسلر نعمت اللہ، سلیم خان، یاسین خان میم خیل، صالح ملا اور کئی دیگر کی وابستگی رہی تاہم بعدازاں وہ الگ ہوئے۔ وہ ایک الگ کہانی ہے۔ تحریک تحفظ حقوق قوم عیسی خیل جڑوبی ایک شاندار اور مثالی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے، ابتدا میں تحریک کو افغان مہاجر عاشق ولد بادام کے پاکستانی شناختی کارڈ بلاک کرانے کی کامیابی نصیب ہوئی جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ عاشق نہ صرف خود افغانی ہے بلکہ وہ بھاری معاوضہ پر دوسرے افغانیوں کیلئے بھی پاکستانی شناختی کارڈز بنواتا رہا، اس مکروہ دھندے میں اس کے ساتھ قوم عیسی خیل جڑوبی درہ کے نام نہاد مشران ملک غازی احمد ولد ملک شیر، نور محمد ولد سید امین، جہانزیب ولد باغی شاہ عرف باغوان، جان شیر ولد فیض طلب، حاجی سبز علی ولد سپین ملک سعداللہ ولد محمد جان، ستانہ گل شندرہ اور دیگر ملوث تھے۔ تحریک کی کوششوں سے نہ صرف افغان صوبہ کنڑ کے عاشق کا شناختی کارڈ بلاک ہوا بلکہ چھ ملک حضرات بھی شناختی کارڈز فارموں کی تصدیق کیاختیار سے محروم ہوئے۔ اس وقت کے ڈپٹی کمشنر مہمند افتخار عالم نے9 جون2020 کو ایک نوٹیفیکشن کے ذریعے ان سے ڈومیسائل اور شناختی کارڈز کی تصدیق کرنے کا اختیار واپس لے لیا اور اس کے ساتھ ہی جعلی شناختی کارڈز حاصل کرنے والوں کے خلاف جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنائی جس کی سربراہی اسسٹنٹ کمشنر اپر حامد اقبال کے سپرد کی گئی۔ ٹیم میں آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی بی اور سپیشل برانچ کے نمائندوں کو شامل کیا گیا جنہیں 2 ماہ کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تاہم ٹیم مقررہ وقت کے دوران تحقیقات مکمل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی اور ہنوز تحقیقات جاری ہیں۔ جے آئی ٹی کی جانب سے تحقیقات بروقت مکمل کرنے میں ناکامی پر تحریک کے سربراہ کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں رٹ پیٹیشن دائر کی گئی جس کا فیصلہ آنے کا انتظار ہے۔ تحقیقات میں تاخیر کی بنیادی وجہ انٹلی ایجنسیاں کا عدم تعاون رہا ہے، عاشق اور اس کے ساتھی ملکان کے ڈی نوٹیفائی ہونے سے ان کی ناجائز آمدنی کا ذریعہ بند ہوا۔ یہ تحریک عاشق نامی افغانی کی امان شاہ عرف مانے اور احسان اللہ کے ساتھ توتو میں میں سے شروع ہوئی تھی، بعدازاں تلخی بڑھتی رہی، بسیار جدوجہد کے باوجود غازی احمد کی کمپنی اور کمیٹی ناکامی سے دوچار ہے۔ جن ملک حضرات کی تصدیق بند ہے انہوں نے عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے اور ان کی رٹ پٹیشن زیر سماعت ہے۔ پشاور ہائی کورٹ میں لیز کمیٹی کو تحلیل کرانے کیلئے تحریک نے رٹ پٹیشن دائر کی ہے جس پر عدالتی فیصلہ آنے کا انتظار ہے۔ عیسی خیل کمپنی کے مشران انتقام میں اس حد تک اندھے ہو چکے ہیں کہ انہوں نے تحریک کے قائدین کے خلاف آرمی چیف، کور کمانڈر پشاور، آئی جی پولیس، ڈی پی او مہمند اور ڈی سی مہمند کو درخواستیں دیں جن میں ان پر طرح طرح کے الزمات عائد کئے گئے تاہم ناکامی درخواست دہندگان کا مقدر رہی۔ قوم عیسی خیل کی لیز کمیٹی اور کمپنی کے خلاف تحریک کیوں چل پڑی یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے؟ تحریک کو شروع ہوئے سال بیت چکا ہے۔12 فروری2020 کو تحریک شروع ہو چکی تھی، لیز کمپنی اور کمیٹی نے فرعونیت کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا، اس نے قوم سے30 لاکھ روپے اکٹھے کئے تھے، اس رقم سے ایک کمانڈنگ آفیسر کیلئے ساڑھے سات لاکھ روپے کا تحفہ خریدا گیا۔ اسی طرح اس وقت کے ایک اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کو ساڑھے سات لاکھ روپے کی رشوت دی گئی۔ علاوہ ازیں قوم کے چندے کو مادر شیر سمجھ کر اس پر مزے اڑائے جاتے رہے۔ لیز کمیٹی کے مشران کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ قوم میں ایک ایسی تحریک اٹھے گی جو ان سے حساب مانگے گی۔ اب یہی تحریک ان مشران کا احتساب کرنے میں مصروف ہے۔ لیز کمپنی نے حاجی حامد نامی ایک افغان مہاجر کی لیز کمپنی الحامد منرل اینڈ جیمز کے ساتھ خفیہ معاہدہ کیا جس کی رو سے کاپر فی ٹن3200 روپے پر طے کیا حالانکہ اب ملک سلطان نے سات ہزار روپے فی ٹن بولی دی ہے، ٹھیکیدار کے ساتھ عیسی خیل لیز کمپنی کے بعض مشران کیلئے حصہ مقرر کیا گیا ہے جو خفیہ رکھا گیا ہے۔ تحریک نے الحامد منرل اینڈ جیمز اور عیسی خیل لیز کمیٹی کے درمیان ہونے والے خفیہ ڈھیل کو بے نقاب کیا اور لیز نہیں ہونے دی۔ قوم عیسی خیل کی مشترکہ معدنیات سے ماہانہ کروڑوں روپے ہڑپ کرنے کا مجوزہ منصوبہ ناکام بنانے پر تحریک کے مشران لائق تحسین ہیں، ان کے کردار کی وجہ سے غاصب قوت کو شکست فاش ہوئی۔ اب پوری قوم عیسی خیل پر یہ بات آشکارہ ہو چکی ہے کہ قوم کے خیر خواہ اور بد خواہ کون ہیں۔ تحریک نے اپنے قول و فعل سے یہ بات ثابت کر دی کہ وہ قوم کے مفادات کی جنگ لڑ رہی ہے۔ عیسی خیل لیز کمیٹی قوم کا اعتماد کھو چکی ہے۔ ٹھیکیدار سے لئے گئے پچاس لاکھ روپے پر غازی احمد گزشتہ چار سالوں سے کاروبار کر رہا ہے۔ وہ رقم قوم میں تقسیم کرنے سے انکاری ہے۔ تحریک نے قوم میں بیداری پیدا کی ہے جس کی زندہ مثال جڑوبی درہ میں تباہ شدہ گھروں کی بحالی ہے۔ قوم عیسی خیل کے بندوبستی اضلاع میں رہائش پذیر لوگوں کے دلوں میں وطن سے محبت کا جذبہ ابھارنا ہے۔ تحریک نے نہ صرف جعلی شناختی کارڈز کو فوکس کیا بلکہ ترقیاتی کاموں پر بھی توجہ دی جس کے نتیجے میں شندرہ سے اوغز، شندرہ سے درگئی اور اوغز سے تورہ تیگہ تک سڑک کی تعمیر کرانے کا مجوزہ منصوبہ ہے۔