طورخم بارڈر، پشتون خواتین اور بزرگوں کا خیال لازم ہے

طورخم بارڈر، پشتون خواتین اور بزرگوں کا خیال لازم ہے

پاک افغان مشترکہ جرگہ نے حکومتِ پاکستان اور افغانستان دونوں سے ویزہ پالیسی میں نرمی سمیت تجارت و آمدروفت کی مد میں سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ گذشتہ روز کے اخبارات میں شائع رپورٹس کے مطابق لنڈی کوتل میں مقامی مشران اور افغان ننگرہار قومی مشران کا ایک گرینڈ جرگہ ہوا جس میں تجارت سمیت مختلف مسائل اور امور زیربحث آئے۔ افغان وفد نے اس موقع پر جو جو شکایات کیں بدقسمتی سے ان میں سے کوئی ایک بھی ایسی شکایت یا گلہ نہیں کہ جس سے اختلاف کیا جا سکے۔ بدقستی یہ بھی ہے کہ طورخم بارڈر کے دونوں اطراف آباد پختون، جن کی آپس میں رشتہ داریاں اور بیشتر ایک ہی قبیلہ اور ایک ہی خاندان سے تعلق بھی رکھتے ہیں، بارڈر حکام یا دیگر اہلکاروں کے ہاتھوں غیرانسانی سلوک اور تضحیک آمیز رویے کا شکار ہوتے ہیں تو دوسری جانب مختلف حیلوں بہانوں سے انہیں دونوں ہاتھوں لوٹا بھی جاتا ہے۔ کچھ دن قبل طورخم سرحد پر ایک خاتون کے ہاں ہسپتال پہنچنے سے قبل سرحدی گزرگاہ میں ہی بچے کی پیدائش، اور اس ضمن میں خود خاتون اور ان کے شوہر ہی نہیں بلکہ پورے خاندان کو جس طرح کی تکلیف دہ صورتحال کا سامنا ہوا ہو گا، اور تاابد رہے گا اس کا اندازہ پختون یا پختونوں کی ذہنیت اور نفسیات سے واقفیت رکھنے والے ہی لگا سکتے ہیں لہٰذا اس طرح کے واقعات پر صرف افسوس یا معذرت سے ہی کام نہیں چلے گا بلکہ اس سلسلے میں ایسے ٹھوس اقدامات اٹھانا ہوں گے کہ آئندہ اس طرح کی واقعات کبھی پیش نا آئیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس امر یا حقیقت سے نا صرف پورا پاکستان بلکہ پوری دنیا واقف ہے کہ پختون اپنی خواتین اور بزرگوں کے حوالے سے بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ بسااوقات یہ اپنے ہی بے حس یا ”پشتو“ سے عاری و نابلد سرکاری اہلکار ہی ہوتے ہیں جن کے ہاتھوں پشتونوں کی خواتین اور بزرگ ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ محولہ بالا مشترکہ جرگہ کے مابین کمیٹیوں کی تشکیل پر اتفاق ایک خوش آئند امر ہے تاہم جب تک دونوں جانب کی حکومتوں کی طرف سے اس جرگہ کو کسی طرح کی کوئی قانونی یا آئینی اٹھارٹی نہیں دی جاتی یا بصورت دیگر جرگہ کے شرکاء کی جانب سے پیش کردہ مطالبات اور تجاوز پر سنجیدگی سے غور اور ممکنہ حد تک عملدرآمد نہیں کیا جاتا تب تک یہ کوششیں غیرموثر اور بے نتیجہ ہی رہیں گی۔ تاہم اس کے باوجود ننگرہار کے عمائدین کی اس کاوش کو سرہنا چاہیے، یہ اقدام ہر لحاظ سے قابل تحسین ہے۔ دوسری جانب ان کے معاشی مسائل و دیگر مشکلات کو دیکھتے ہوئے یہ ان کی مجبوری بھی قرار دی جا سکتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ حکومت پاکستان باقاعدہ اس عمل کی سرپرستی کرے، ساتھ ہی خیبر پختونخوا کی نمائندہ سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے نا صرف ضلع خیبر بلکہ ضم اضلاع سمیت پورے صوبے کا نمائندہ ایک وفد افغانستان کی طرف بھیجنا چاہئے اور ”پیپل ٹو پیپل“ اس رابطہ کاری کو مستقل بنیادوں پر دوام دینا چاہیے اور انہی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کو ایک مشترکہ بارڈر پالیسی وضع کرنی چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بارڈر کے دونوں اطراف سرحد کے قریب قریب آباد لوگوں کو مفت راہداری کی سہولت دینا چاہیے اسی طرح خواتین، بزرگ اور مریضوں کے حوالے سے بھی، جانبین کے لئے قابل قبول، کوئی لائحہ عمل تشکیل دینا چاہیے جس کے ساتھ، ہم سمجھتے ہیں، دونوں ممالک اور ان کے عوام کے درمیان برادرانہ تعلقات کو فروغ ملے گا اور دوطرفہ تجارت میں بہتری آئے گی تو دوسری جانب عسکریت پسندی اور دہشت گردی جیسے سنگین مسائل پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔