ضلعی دفاتر کی ٹانک سے وانا عدم منتقلی ،عوام کا احتجاج

 ضلعی دفاتر کی ٹانک سے وانا عدم منتقلی ،عوام کا احتجاج

وانا(دین محمد وزیرنمائندہ شہباز)جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں ضلعی انتظامیہ کے خلاف اور ضلعی دفاتر کو ضلع ٹانک سے جنوبی وزیرستان منتقل کرانے کے سلسلے میں ریلی اور جلسے کا انعقاد کیا گیا۔ 

 

جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں نے انتظامیہ کے رویے کے خلاف ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی ریلی کے شرکاء نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر انتظامیہ کی عدم دلچسپی اور دفاتر کو جنوبی وزیرستان منتقل کرنے کے حق میں نعرے درج تھے۔

 

ریلی کے بعد وانا بازار میں پی پی پی نے ایک بڑا جلسہ منعقد کیا، پی پی کے علاوہ تمام مکاتب فکر کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ، پی پی پی کے سابقہ ضلعی صدر اور قومی اسمبلی کے امیدوار امان اللہ وزیر نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ نے دفاتر کی منتقلی کے حوالے سے جو روایہ اختیار کیا ہے قابل افسوس ہے جنوبی وزیرستان کی آبادی سات لاکھ سے زائد ہے لہٰذا جیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کو چاہئے کہ پشاور ہائیکورٹ میں دفاتر کی منتقلی کے متعلق جو کیس پڑا ہے اس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائیں کیونکہ یہ فرد وحد کا مسلہ نہیں یہ پورے وزیر ستان کا مسلہ ہے ۔

 

انھوں نے کہا کہ اگر ان کا یہ دیرینہ مسلہ ٹھوس بنیاد پر حل ہوا تو وزیرستان کی غریب عوام سکھ کا سانس لیں گے، سابقہ صوبائی اسمبلی کے امیدوار نے کہا کہ جنوبی وزیرستان ایک وسیع علاقہ ہے یہ ضلع قدرتی وسائل سے مالامال ہے لیکن بدقسمتی سے اس ضلعے کے تمام دفاتر ایک سو بیس کلومیٹر دور ضلع ٹانک میں واقع ہیں جن کی وجہ سے نہ تو یہاں کے قدرتی وسائل سے استفادہ کیا جاسکا اور نہ دوسرے بنیادی مسائل حل ہوسکے۔

 

انھوں نے موجودہ حکومت سے مطالبہ کہ ضلع ٹانک سے تمام محکموں کے دفاتر سرویکی،لدھا اور وانا ڈویڑن میں منتقل کئے جائیں جلسے سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا انھوں نے کہا کہ سیشن جج کو فوری طور پر وانا میں کام شروع کرنے کے احکامات جاری کریں۔