بجلی کی غیرعلانیہ لوڈشیڈنگ: ضلع مہمند کے عوام کا قصور کیا ہے؟

بجلی کی غیرعلانیہ لوڈشیڈنگ: ضلع مہمند کے عوام کا قصور کیا ہے؟

    حيران مومند

ضلع بھر میں غیراعلانیہ طویل لوڈشیڈنگ جاری، ایک طرف شدید گرمی دوسری جانب بجلی مکمل طور پر غائب ہونے کی وجہ سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، پوچھنے والے کوئی نہیں، جس سے بھی بات کی جائے تو عبث ہے۔
ضلع مھمند کے دیہاتوں میں گزشتہ تین چار دن سے بجلی غائب ہے جس کے سبب پینے کا پانی دستیاب نہیں اور اہل علاقہ پانی کی تلاش میں در بدر گھوم رہے ہیں، مقامی آبادی کی جانب سے بار بار شکایات، چیخ و فریاد کی گئی مگر کسی قسم کی شنوائی نہ ہو سکی، کوئی بھی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں اور نہ ہی کسی کو عوام کی فکر ہے۔ 

 

ضلع مھمند کی مختلف تحصیلوں میں بجلی نہ ہونے سے مساجد میں وضو کے لیے پانی نہیں، مویشی اور چرند پرند اس شدید گرمی کی وجہ سے مر رہے ہیں، علاقہ اٹوخیل، شاہ بیگ، ہزارہ، خویزئی،  کونگ، آٹا بازار، غازی بیگ بازار، نحقی، غازی بیگ بازار، دانشکول، اتمانزئی، دویزئی، حدکور امبار، کوگ پنڈ، باروخیل، سلطان خیل، غیرڈھنڈ، چناری، سوران درہ، شندرہ، قنداری،  لکڑو بازار، خاخ بازار، صافی اور دیگر علاقوں اور بازاروں میں پینے کے پانی کی شدید قلت ہے اور یہ مشکل روز بروز بڑھ رہی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ ماربل فیکٹریز اور دیگر چھوٹے بڑے کارخانوں کو بجلی سپلائی کی جاتی ہے مگر عوام کو یکسر محروم رکھا گیا ہے۔ ڈی سی، انتظامیہ، واپڈا اور ٹیسکو اہلکاروں کی مجرمانہ غفلت نے عوام کی زندگیوں کو اجیرن کر رکھا ہے جبکہ ایم این اے اور ایم پی اے بھی غفلت کی گہرے نیند میں چلے گئے ہیں، غلنئی بازار، چاندہ بازار، میامنڈی بازار، یکہ غنڈ بازار اور دیگر بازاروں سمیت علاقہ کے عوام جوہڑوں کا گندا پانی پینے پر مجبور ہیں یا جن مخصوص لوگوں کو سولر سکیمیں ہو چکی ہیں جو آبنوشی کے لیے مختص ہیں ان کے مالکان پانی فروخت کر رہے ہیں اور فی ٹینکر پانی دو ہزار سے تین ہزار روپے پر فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ پانی کے حصول کے لیے تین چار دن اپنی باری کیلیے انتظار کرنا پڑتا ہے۔

 

یاد رہے کہ گندا تحصیل حلیمزئی وغیرہ کے زیادہ تر علاقوں کے لیے شبقدر ضلع چارسدہ سے پانی کا میگا پروجیکٹ پر خطیر سرمایہ دو2  ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں مگر پینے کے پانی کا مسئلہ حل نہ ہو سکا جبکہ گزشتہ دس سالوں میں ایم این ایز فنڈز سے تقریباً ایک ہزار ڈگ ویلز اور ٹیوب ویلز منظور ہو چکے ہیں مگر مخصوص لوگوں کو نوازا گیا اور غریب عوام کو پھر بھی پینے کا پانی نہ مل سکا۔ اکثر یہ سکیمیں فروخت کی گئیں۔ یاد رہے کہ محکمہ پبلک ہیلتھ نے بھی ضلع مھمند کے عوام کو پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے درجنوں ٹیوب ویلز منظور کیے اور مکمل کیے مگر عوام کو پانی نہ مل سکا۔ پبلک ہیلتھ کی زیادہ تر سکیمیں بند ہو کر ناکارہ ہوچ کی ہیں۔ 

 

پبلک ہیلتھ کا محکمہ تو موجود ہے اور لاکھوں روپے ہر ماہ تنخوا کی مد میں نکالے جاتے ہیں مگر کام مکمل صفر ہے اور یہی وجہ ہے کہ عوام کو پانی دستیاب نہیں۔ عوام کو پینے کا پانی نہ ملنے میں فوجی اور ایف سی کے ادارے بھی اس گناہِ کبیرہ میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ سیکیورٹی اداروں نے جن لوگوں کو عوام کو پانی فراہم کرانے کیلیے سولر ٹیوب ویلز دیئے ہیں ان سے عوام کو ایک قطرہ پانی بھی نہیں ملتا اور اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے رہے ہیں۔ تحصیل حلیمزئی میں فورسز اور خصوصاً فوجی اہلکار جا کر خود جائزہ لے سکتے ہیں کہ اجتماعی سکیمیں کس طرح انفرادی فائدے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں، ان کی انکوائری ٹیموں کے اہلکار بھی شاید بِک گئے ہیں کہ درست صورتحال اپنے اداروں کو نہیں دے پائے۔

 

ضلع مھمند میں بجلی کی طویل اور غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ اور غیرمنصفانہ تقسیم کی وجہ سے دیہاتوں اور دوردراز علاقوں میں بجلی نام کی چیز ہی نہیں۔ ہیڈکورٹر تحصیل حلیمزئی کے مختلف علاقوں غازی بیگ،  شاہ بیگ، بوشاخیل، اٹوخیل، نحقی،  حیدرکورونہ، ہزارہ اور یاسین کور میں تین تین چار چار دن تک بجلی نہیں ہوتی۔ ٹیسکو اور واپڈا کے اہلکار فقط ماربل فیکٹریز کو بجلی فراہمی کا بندوبست کرتے ہیں کیونکہ ان سے ماہانہ بھتہ لیتے ہیں اور یہ مکروہ دھندہ اور ظالمانہ طریقہ کار انضمام سے پہلے بھی موجود تھا اور اب اس میں اور بھی اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ پہلے پولیٹیکل ایجنٹ یا اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ تو عوامی شکایات پر ایکشن لے کر اور مشکلات کے حل کے لیے کردار ادا کرتے تھے اور اب تو ان کی اپنی مرضی ہے۔ عوام مجبور ہو کر سڑکوں پر احتجاج کرنے نکلیں گے اور ان کا ساتھ سماجی تنظیموں کے کارکنان اور تعلیم یافتہ افراد اور دکاندار بھی دیں گے کیونکہ وہ بھی بجلی نہ ہونے سے دکانداری اور دیگر کام کاج نہیں کر سکتے۔ 

 

ضلع مہمند کے عوام ایک طرف بجلی اور شدید گرمی سے پریشان ہیں اور دوسری جانب پینے کے پانی کے حصول کے لیے سرگرداں ہیں، جن کا یہ مطالبہ ہے کہ آرمی انجینئرنگ کور، سیکرٹری پبلک ہیلتھ، ٹیسکو اور واپڈا چیئرمین، ڈی سی مھمند، کمشنر پشاور،  آئی جی ایف سی، کورکمانڈر پشاور اور بریگیڈیئر مھمند ڈیم سمیت تمام ذمہ داران سے، کہ عوام کے اس اجتماعی مسئلہ کے حل کے لئے اقدامات کریں، اپنی ذمہ داریوں میں غفلت برتنے والے لوگوں کے خلاف ایکشن لیں، انکوائری کر کے ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے اور سرکاری خزانہ کو نقصان پہنچانے والے اور کرپشن میں ملوث لوگوں کے خلاف اقدامات اٹھائے جائیں۔