ضم اضلاع سمیت صوبہ بھر میں یکساں ترقی کا عمل ضروری ہے، سردار حسین بابک

 ضم اضلاع سمیت صوبہ بھر میں یکساں ترقی کا عمل ضروری ہے، سردار حسین بابک

پشاور۔۔۔عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ نئے ضم اضلاع سمیت  پورے صوبے میں یکساں ترقی کا عمل ضروری ہے۔ ضم اضلاع کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع دینے ہوں گے، تب ہی ہم ان کو ترقی کے سفر میں شریک کرسکیں گے۔

 

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ نئے اضلاع میں خالی آسامیوں پر ان اضلاع کے نوجوانوں کو ترجیحی بنیادوں پر بھرتی کرنا چاہئے۔ جنگ زدہ اور دہشت زدہ علاقے کے لاکھوں نوجوان روزگار کیلئے ترس گئے ہیں، ان کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے۔

 

انہوں نے کہا کہ جنگوں اور دہشت گردی نے پوری پختونخوا کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور کاروباری و تجارتی ماحول خراب ہوگیا ہے۔

 

سابق صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ حکومت ضم اضلاع کی ترقی کے لئے نظر آنے والے اقدامات کو یقینی بنائیں۔  صوبائی حکومت دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئیصوبے کے تمام حصوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم نہ رکھے۔ انہوں نے کہا کہ نئے ضم اضلاع میں نوجوانوں کو روزگار پہنچانے کی عرض شرائط میں نرمی بھرتی جائے تاکہ وہاں کے نوجوان اپنے گاں، محلے اور علاقے میں عزت و احترام کے ساتھ روزگار کر سکیں۔

 

انہوں نے کہا کہ حکومت نئے ضم اضلاع میں تمام 150 پروجیکٹس کے ملازمین کی مستقلی کو یقینی بنائے۔ ان نوجوانوں نیضم اضلاع میں جاری 150 پروجیکٹس میں خدمات سرانجام دی ہیں۔ حکومت کو ان سے استفادہ کرنا چاہیئے اور ان کے لئے مواقع پیدا کرنے چاہیئے۔

اے این پی کے پارلیمانی لیڈر کا کہنا تھا کہ  حکومت اپوزیشن کے ساتھ مل کر صوبے کے بقایاجات کے لئے مرکزی حکومت سے رابطہ کرے تاکہ صوبے کے مسائل کے حل میں مدد مل سکے۔ صوبائی حکومت کو مرکزی حکومت کے ذمے کئی سو ارب روپیہ بقایا جات کیلئے کھل کراور سنجیدگی کے ساتھ آواز اٹھانی ہوگی۔ تب ہی صوبے میں کھنڈرنما روڈز کی تعمیر ممکن ہوسکے گی۔اور عوام کو بنیادی سہولیات اور ضروریات زندگی بہم پہنچانے کا عمل تیز ترین ہوگا۔

 

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے کے حقوق لینے سے کترانے کے بجائے صوبے کے کروڑوں عوام کی نمائندگی کریں۔ صوبے میں اپوزیشن کے علاقوں کو نظر انداز کرنا انتہائی نامناسب ہے۔ وہاں کے عوام ملک  کے باشندے ہیں۔ صوبائی حکومت اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کے بجائے مرکزی حکومت پر زور ڈالیں تاکہ وہ صوبے کے مالی حقوق دینے کو فوری یقینی بنائے۔