زندگی کیا ہے؟

زندگی کیا ہے؟

تحریر: محمد ظاہر

برج نرائن چکبست صاحب نے کیا خوب کہا تھا، ع 
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشان ہونا
زندگی تو فرعون کو بھی حاصل تھی مگر وہ حقیقت سے ناواقف تھا، اسے جو حاصل تھا وہ دراصل لاحاصل تھا۔ سکندر کی بھی آ خری خواہش ادھوری رہ گئی تھی، نپولین بوناپارٹ پارٹ بھی غفلت میں گئے، روم اور فارس والوں کا جاہ وجلال بھی نہیں رہا، دندناتے منگول بھی نہیں رہے، قیصر اور قصریٰ کے تخت کہاں گئے؟ وہ جو اقبال نے کہا تھا، ع
نہ وہ عشق میں رہی گرمیاں، نہ وہ حسن میں رہی شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں
اس فانی دنیا میں مگن لوگ اکثر اوقات حقیقت کی سنگینیوں سے نالاں نظر آتے ہیں، اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ لاپرواہی کی حیات کو دوام بخش رہے ہیں۔ کیا خوب کہا ہے اقبال نے، ع
تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی
دراصل زندگی وہ مشکل نغمہ ہے جو ہر ساز پہ گایا نہیں جاتا، وہ فلسفہ ہے جو ہر ذی شعور کو حاصل نہیں ہوتا، وہ غزل ہے جو ہر کسی کی سمجھ میں نہیں آتا، وہ پوشیدہ راز ہے جو ہر کسی کو معلوم نہیں ہوتا، وہ آیت ہے جو ہر کسی کو یاد نہیں ہوتا، وہ فاتحہ ہے جو ہر کسی پہ پڑھا یا پڑھایا نہیں جاتا، وہ دعا ہے جس کا ہر لفظ قبول نہیں ہوتا، وہ گل دستہ جس کا ہر گلاب نایاب نہیں ہوتا، وہ کھیت جس کا ہر حصہ سیراب نہیں ہوتا، وہ بھوک جس کا ہر لقمہ ازالہ نہیں ہوتا، بلکہ زندگی خود ایک سزا ہے۔ کیا خوب کہا ہے منیر نیازی نے، ع
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
اس جہان میں انسان کی زندگی واحد شے ہے جو ہر کسی کی سمجھ میں نہیں آتی، کوئی غافل ہے تو کوئی اطاعت گزار، کوئی حقیقت میں مگن  تو کوئی غفلت سے سرشار، کوئی صراطِ مستقیم پر تو کوئی شیطانیت کا پیروکار، جس کسی کو بھی دیکھیے غفلت میں ڈوبا صرف سر باقی ہے۔ یہی حال رہا تو پھر عذاب ہی کے منتظر رہیں گے۔ واپس آ نا ہو گا۔ حکم اللہ، قانون قرآن، راستہ رسول پر جو ایک آ فاقی نظام ہے، جس کی اطاعت کرنے والی قوموں نے عروج پایا جو بدقسمتی کے ساتھ آ ج کہیں نظر نہیں آ رہا بس ہر طرف نحوست پھیلی ہوئی، جو زوال کی ایک بدصورت داستان ہے۔ بقولِ شاعر، ع
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہو ئے تارک قرآں ہو کر
جہاں تک فلسفہ حیات کا تعلق ہے تو وہ سرورِ کونین کے اسوہ حسنہ، ہدایات میں پوشیدہ ہے۔ جس کسی نے بھی اس راز کو پا لیا وہ زندگی کے معراج پر پہنچ گیا۔ بقولِ اقبال، ع
آ جائے گا تجھے اقبال جینے کا قرینہ
تو سرورِ کونین کے فرمان پڑھا کر

ٹیگس