تمباکو پر کسی قسم کا نیا ٹیکس ہرگز قبول نہیں کریں گے 'لیاقت یوسف زئی 

تمباکو پر کسی قسم کا نیا ٹیکس ہرگز قبول نہیں کریں گے 'لیاقت یوسف زئی 



پشاور(نیوز رپورٹر )تمباکوپر مرکزی حکومت کی طرف سے کسی قسم کا نیا ٹیکس قبول نہیں کرینگے 'مرکزی حکومت اور ایف بی آر کے غلط اقدامات کی وجہ سے تمباکوکی صنعت خیبر پختونخوا سے کشمیر اور پنجاب منتقل ہورہی ہے ،ایف بی آر کی جانب سے تمباکو پراضافی ٹیکسوں کی وجہ سے پختونخوا صنعتی قبرستان بن گیا ہے'،

 

ان خیالات کا اظہار تمباکو ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری لیاقت یوسفزئی نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ تمباکو خیبر پختونخوا کا سب سے زیادہ کیش کرافٹ ہے ،

 

تمباکو انڈسٹری سے اس وقت خیبر پختونخوا کے لاکھوں لوگوں کاروزگار وابسطہ ہے ،پاکستان کو سیگریٹ بنانے کیلئے دس کروڑ کلو گرام تمباکو کی ضرورت ہے جس میں بیشتر خیبر پختونخوکے ضلع صوابی،بونیر، مردان،اور مانسہر ہ سے پورا کیا جاتا ہے اگر خیبر پختونخوا تمباکو سیکٹر کے ساتھ حکومت کا یہی رویہ رہا تو مقامی سطح پر تمباکوکی کاشت نہیں کرینگے جس کی وجہ سے نہ صرف حکومتی خزانے کو سالانہ اس سیکٹر سے ملنی والی اربوں روپے کے محاصل ختم ہو جائیں گے بلکہ سیگریٹ انڈسٹری کیلئے تمباکو مہنگی داموں امپورٹ کرنا پڑیگی ،

 

فیڈرل بورڈ آف رونیو اس وقت تمباکو کی مد میں سالانہ 135 ارب روپے سے لیکر 150 ارب روپے تک ٹیکس وصول کرتا ہے ،مگر اس فصل سے تمام منافع مرکزی حکومت اور تمباکو کمپنیاں اٹھارہی ہیں جبکہ تمباکوکاشت سے وابسطہ افراد کا معاشی قتل عام ہورہا ہے ،

 

وفاقی حکومت ایک نیا ٹیکس عائد کرنا چاہتی ہے جو ناانصافی ہے' ہم مزید تمباکو پر مزید ٹیکس برداشت نہیں کرینگے ،18 ویں ترمیم کے بعد تمباکو خیبر پختونخوا کی ملکیت ہونی چاہئے مگر مرکزی حکومت نے اب تک اس کے تمام حقوق اپنی پاس رکھے ہیں اور سازش کے تحت خیبر پختونخوا سے تمباکو کی فصل اور صنعت کو ختم کیا جارہا ہے ،

 

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت خیبر پختونخوا میں سیگریٹ بنانے والے کارخانے بند ہوچکے  ہیں جس کی اصل وجہ یہی ہے کہ صوبائی اور وفاقی ٹیکس عائد کیا گیا ہے اور فصل کے وقت مختلف اداروں کی جانب سے بے جا چھاپے مارے جارہے ہیںجس کی وجہ سے زیادہ تر کمپنیاں کشمیر اور پنجاب منتقل ہوچکے ہیں ،

 

ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ تمباکو کے پتے یا خام تمباکو پر کسی قسم کا ٹیکس کا فیصلہ واپس لیں ،پہلے ہی سے خیبر پختونخوا میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے حکومت کو چاہیئے کہ اس صنعت کیلئے مزید آسانیاں پیدا کریں بصورت دیگر ہم صوبے بھر میں احتجا ج پر مجبورہونگے