نوجوان نسل اور نشے کا بڑھتا ہوا رجحان

نوجوان نسل اور نشے کا بڑھتا ہوا رجحان

تحریر: ہدایت ساغر 

خیبر پختون خواہ میں تعداد کے لحاظ سے مردوں عورتوں کی بہ نسبت نوجوان زیادہ ہیں مگر یہ زیادتی کوئی نیک شگون نہیں رہی کیونکہ یہ نوجوان ایسی لت کا شکار ہو چکے ہیں جس کا دوسرا نام موت ہے۔ یہ زہر بہت تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے حالانکہ اس کے سدباب کیلئے نام نہاد پروگرامات اور دوسرے سیمینار تو منعقد ہوتے رہتے ہیں مگر کوئی خاطر خواہ رزلٹ ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ ایک زمانے میں عام سگریٹ پینا بڑا معیوب سمجھا جاتا تھا، کبھی کبھار نوجوان پارٹی میں یا خوشی کے تہوار میں چوری چپکے خالی سگریٹ پیتی رہتی تھی، جو کوئی بھی یہ عمل کرتا تو پورا معاشرہ اس متعلقہ شخص کو لعنت ملامت کرتا مگر کچھ عرصہ بعد چرس آئی، یہ نشہ پہلے بڑی عمر کے افراد میں مقبول ہونے لگا مگر کچھ وقت بعد یہ نوجوانوں کے ہاتھ لگ گیا اور یوں معاشرے میں یہ زہر تیزی سے سرایت کرنے لگا اور دھڑا دھڑ یہ ہاتھوں ہاتھ بکنے لگا اور ایک طرح کی مقابلہ بازی ہونی لگی اور غالباً پختونخواہ میں ہر دسواں نوجوان اس بیماری میں مبتلا ہو چکا ہے۔ اب نئی نئی نشہ آور چیزیں دستیاب ہو رہی ہیں اس لئے گھروں کے بڑے چرس کو اب قابل جرم نہیں سمجھتے کیونکہ صمد بونڈ، پٹرول اور آئس کے ساتھ اب نشہ آور گولیاں بھی مختلف شکل میں دستیاب ہیں جس سے معاشرے میں قابل نوجوان متاثر ہو رہے ہیں اور علاج کر کے بھی دوبارہ اس زہر کو گلے لگا رہے ہیں۔ ہمارے بونیر کا ایک نوجوان آئس پی کر اپنے ہاتھوں سے خود کو پھانسی کا پھندہ لگوا کے اپنی زندگی کا چراغ گل کر چکا ہے۔ ہمارے گاؤں کا ایک تگڑا نوجوان عجب خان گزشتہ سولہ سال سے افیون کا شکار ہو کر پشاور میں نجانے کہاں دربدر کی ٹھوکریں کھا کر زندہ درگور ہو رہا ہے، اس کا24  سالہ بیٹا بھی آئس کا عادی ہو کر کئی دنوں تک گھر سے غائب رہتا ہے جبکہ اس کی ماں اور نوجوان بہن رو رو کے خود کو اذیت دے رہی ہیں۔ ایک اور بات جو مشاہدے میں  آئی ہے وہ یہ کہ  تعیلم کیلئے دیہاتوں سے شہروں میں جانے والے نوجوانوں میں یہ رجحان بہت زیادہ ہے۔ مجھے یاد ہے کہ کلاس سیکنڈ ائیر کا نوجوان طالب علم جب پیپر دینے کیلئے اسلام آباد سے پہنچا تو نشے کی خالت میں تھا اور آئس پی کر تین دن سے جاگ رہا تھا، جب پیپر دینے بیٹھ گیا تو اساتذہ کو گالیاں دینے لگا اور اول فول بکنے لگا جس کے سبب اس کو پیپر سے اٹھا لیا گیا اور یوں اس کا قیمتی سال ضائع ہو گیا۔ اب چونکہ آئس پر کچھ پابندیاں لگی ہیں تو مافیا نے دوسرا طریقہ کار ڈھونڈ لیا ہے، گولیوں کی شکل میں  اب یہ نئی وباء نوجوانوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ یہ لوگ یہ سب کیسے کرتے ہیں، کہاں کرتے ہیں کچھ پتہ نہیں چلتا۔ جب مردوں پر سختیاں ہوئیں تو اب عورتیں بھی یہ کالا دھندہ سنبھال رہی ہیں۔ اگر اس کاروبار کو  سرکاری سرپرستی حاصل نہیں تو یہ لوگ کیسے اس عمل کے مرتکب ہو کر ہمارے قیمتی اثاثوں کو برباد کر رہے ہیں، گھروں کے گھر اجاڑ رہے ہیں اور کوئی بھی ٹس سے مس نہیں ہو رہا۔ ہم مانتے ہیں کہ کچھ غفلت ہماری بھی ہے مگر ایک ہاتھ سے تالی نہیں بجتی۔ اس میں سرکار بھی ملوث ہے۔ اگر سرکار عزم کر لے تو خدا کی قسم یہ مہلک زہر بیچنے والے تین دن کے اندر اندر یا تو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوں گے یا یہ دھندہ چھوڑ کر کسی اور ملک بھاگ جائیں گے مگر کوئی تو غمخوار ہو۔ خدارا! میرے ملک کے نوجوانوں کو مزید برباد ہونے سے بچائیں، مزید اس عالمی سازش کو روکیں اور ہمارے اثاثوں کو جینے دیں۔