عوامی نیشنل پارٹی کے 34 سال اور ہم

تحریر:ایمل ولی خان

آئیے آج کے دن اپنے گھر، دفاتر، دکان، اور گاڑیوں پر سرخ جھنڈے لہرائیں اور سب مل کر یہ عہد کریں کہ اپنے اسلاف کے مشن کو جاری رکھیں گے

تحریر شروع کرنے سے پہلے مجھے یہ بات تسلیم کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہو رہی کہ میں ایک لکھاری، ادیب یا تخلیق کار نہیں ہوں بلکہ باچا خان کے قافلے کا ایک ادنی سا سپاہی یا مسافر ہوں۔ سیاست کے طالبعلم کی حیثیت سے میں اوپر ذکر شدہ موضوع تک ہی محدود رہنے کی کوشش کروں گا۔ مجھے کئی ساتھیوں نے حکماً کہا تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے 34ویں یوم تاسیس کے موقع پر بحیثیت صوبائی صدر اپنے خیالات کا اظہار کروں۔


عوامی نیشنل پارٹی کی سیاسی جدوجہد کا آغاز فخرافغان باچا خان کی زندگی اور جدوجہد ہی سے شروع ہوتا ہے۔ باچا خان نے اپنی زندگی میں ہمیشہ امن پسندی، عدم تشدد اور اجتماعیت کے اصولوں پر رہتے ہوئے اپنی زندگی آزادی کے حصول کیلئے، ناانصافی، استحصال، جبر، غیرمساوی سلوک اور ظلم کے خلاف جدوجہد میں گزاری۔ باچا خان اور خدائی خدمتگار تحریک کے دیگر ساتھیوں نے جنوبی ایشیا کی آزادی کیلئے انگریز سامراج کے خلاف ہراول دستے کا کردار ادا کیا جس کے لئے انہیں جان و مال کی قربانیاں بھی دینی پڑیں اور ظاہر ہے کہ کسی بھی منزل کی جانب سفر کے دوران کئی مشکلات کے ساتھ ساتھ جان و مال کی قربانیاں دینا پڑتی ہیں جس کے لئے باچا خان سمیت خدائی خدمتگار تحریک کا ہر فرد ہر وقت تیار رہتا تھا۔ اس وقت جنگ صرف انگریز سامراج سے آزادی کیلئے ہی نہیں بلکہ یہ جنگ غربت، جہالت، فرسودہ روایات اور غیرسیاسی ذہنیت و رویوں کے خلاف بھی تھی۔ خدائی خدمتگار تحریک کا ہر رکن معاشرتی و سیاسی انصاف کا طلبگار اور متمنی تھا۔ ان کی خواہش تھی کہ اس خطے میں بسنے والا ہر فرد اور ہر قوم آزاد فضا میں سانس لے سکے، پر امن رہیں اور عالمی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔


باچا خان کے نظریے کے مطابق سیاست اور عوامی خدمت ایک سکے کے دو رخ تھے اور اسی نظریے کو زندہ رکھنے کے لئے عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے قائدین (نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی) نے وہی راستہ اپنایا جو باچا خان کا تھا۔ مختصراً یہ کہ عوامی خدمت کے بغیر عوامی نیشنل پارٹی کا کوئی تصور ہی نہیں کیا جا سکتا اور یہی وجہ تھی کہ عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے قیام 26 جولائی 1986 کے ساتھ ہی اپنے منشور کے مطابق روز اول سے جمہوریت کی ترویج، غربت اور جہالت کے خاتمے، صوبائی خودمختاری کے حصول، بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ اور ہر مکتبہ فکر کے جائز خواہشات کی تکمیل اور نچلے طبقے کو ان کے حقوق دینے کیلئے جدوجہد جاری رکھی جس کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا گیا۔
عوامی نیشنل پارٹی نے اب تک کیا کیا ہے؟


یہ سوال عوام کے ذہنوں میں ضرور موجود ہو گا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے ان34 سالوں میں کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے اور یہ ایک جائز سوال بھی ہے۔ ایک سوال یہ بھی کیا جاتا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے پاس مستقبل کیلئے کیا پروگرام اور منصوبہ بندی ہے؟ عوامی نیشنل پارٹی اپنے قوم و ملک کی ترقی کیلئے کیا پروگرام رکھتی ہے؟ ان تمام سوالات کے جوابات دینے سے پہلے میں عوامی نیشنل پارٹی اور اس سے جڑی تحریکوں پر مختصر سی روشنی ڈالنا چاہوں گا۔


عام طور پر ہم سنتے چلے آرہے ہیں کہ عوامی نیشنل پارٹی باچا خان کی خدائی خدمتگار تحریک کا تسلسل ہے اور ایسا بھی نہیں کہ میں اس بات کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن ہم یہاں ایک پورا دور جو انجمن اصلاح الافاغنہ سے شروع ہوا تھا، بھول رہے ہیں۔ باچا خان نے 1910 میں تحریک اصلاح الافاغنہ کی بنیاد رکھی جس کا بنیادی مقصد پشتونوں کے معاشرے سے غلط رسوم و رواج کا خاتمہ تھا۔ وہ ایک ایسا دور تھا جہاں پشتون تعلیم سے دور تھے، ان میں تعلیم بارے شعور نہیں تھا نہ ہی اپنے حقوق کے بارے ان میں سیاسی شعور اجاگر کیا گیا تھا۔ اس تحریک میں باچا خان نے حاجی صاحب ترنگزئی جیسے آزادی کے متوالوں کو اپنے ساتھ ملایا۔ پھر 1928 میں تحریک اصلاح الافاغنہ کو خدائی خدمتگار تحریک میں تبدیل کیا گیا۔ خدائی خدمتگار تحریک کے مقاصد میں انجمن اصلاح الافاغنہ کے ساتھ ساتھ دیگر مقاصد بھی شامل کئے گئے۔ پہلی بار باچاخان نے اسی سال ایک لاکھ خدائی خدمتگاروں کا ایک اجتماع منعقد کیا۔ دیکھا جائے تو سینکڑوں کتابیں خدائی خدمتگار تحریک پر لکھی گئی ہیں لیکن اس تحریر میں ہم عوامی نیشنل پارٹی کی تاریخ کا ذکر کریں گے۔


خدائی خدمتگار تحریک بلاشبہ پشتونوں کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے جنہوں نے انگریز سامراج کے خلاف اور آزادی کے حصول کیلئے انتھک جدوجہد کی۔ پاکستان بننے کے بعد 1955 میں پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی اور پھر 1957 میں نیشنل عوامی پارٹی وجود میں لائی گئی۔ نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) نے پاکستان کی تمام مظلوم قومیتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا اور سقوط ڈھاکہ کے وقت بھی پاکستان کو بچانے کیلئے پوری پوری کوشش کی۔ باچا خان کے فرزند رہبر تحریک خان عبدالولی خان نے پاکستان کے آئین بنانے میں جو کردار ادا کیا اسے کوئی بھی فراموش نہیں کر سکتا جس کی پوری تفصیل خان عبدالولی خان کی شاہکار کتاب ”باچاخان او خدائی خدمتگاری” کی دوسرے جلد میں موجود ہے۔ ریاست نے 1975 میں نیپ پر پابندی لگائی تو نیشنل ڈیموکریٹگ پارٹی وجود میں آتی ہے اور پھر 26 جولائی 1986 کو خان عبدالولی خان کی قیادت میں عوامی نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھی گئی جو اسی خدائی خدمتگار تحریک کا تسلسل ہے اور یہ تسلسل آج بھی جاری ہے۔


عوامی نیشنل پارٹی کی موجودہ قیادت اور بالخصوص اسفندیار ولی خان کو کچھ چیزیں باچا خان، ولی خان اور خدائی خدمتگاروں سے وراثت میں ملی ہیں جو ان کے خواب تھے اور اس کی تعبیر کیلئے اسفندیار ولی خان سمیت اے این پی کی باقی قیادت نے پوری محنت کی اور اسے اپنی اولین ذمہ داری سمجھ کر پوری کرنے کی بھرپور کوشش کی اور اب بھی کر رہی ہے۔ ان ارمانوں اور خوابوں میں ایک پاکستان کے پشتون خطے کو اپنا نام یعنی صوبے کا نام یا شناخت دینا، پشتونوں اور دیگر محکوم و چھوٹی قومیتوں کو ان کے وسائل پر اختیار دلانا اور امن کا قیام تھا۔ اسفندیار ولی خان اور ان کے ساتھیوں یعنی موجودہ عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت نے اپنے اسلاف کے خوابوں کو تعبیر 2008 میں دی جب صوبہ سرحد کا نام پختونخوا رکھا گیا، یہ عوامی نیشنل پارٹی کی تمام قیادت اور بالخصوص اسفندیار ولی خان کا بڑا کارنامہ تھا۔ آج اگر پشتون اور پاکستان کی دیگر محکوم و چھوٹی قومیتوں کو اپنے وسائل پر آئینی طور پر اختیار حاصل ہے تو یہ انہی خدائی خدمتگاروں کے خواب کی تعبیر ہے جسے اسفندیار ولی خان کی سربراہی میں حقیقت کا روپ دیا گیا۔

امن کیلئے عوامی نیشنل پارٹی کے کردار کو دشمن بھی مان رہے ہیں اور سراہ بھی رہے ہیں۔ ہمیں 2008 میں جب حکومت ملی تو ہمارے پاس دو راستے تھے، یا تو خاموشی کے ساتھ اپنے پانچ سال پورے کرتے، دہشتگردوں کے خلاف نہ بولتے تو شاید ہم آرام کے ساتھ اور بغیر کسی نقصان کے وہ پانچ سالہ دور حکومت گزار لیتے لیکن ہمیں اپنی نہیں بلکہ اپنے آنے والی نسلوں کی فکر تھی۔ ہم اس مٹی کے نگہبان تھے اور ہمیں اس مٹی کیلئے امن چاہئے تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ہم میدان میں کھڑے رہے اور کسی بھی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹے۔ دہشتگرد تھک گئے لیکن ہمارے سینے تب بھی حاضر تھے، آج بھی حاضر ہیں۔ ہمیں بہت نقصان اٹھانا پڑا لیکن ہمارے حوصلے خودکش دھماکوں، فتوؤں، الزامات اور تشدد پست نہ کر سکے۔


1986 میں جس عوامی نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تھی، ہم اس کے اغراض و مقاصد کے حوالے سے بھی کسی قسم کے ابہام کا شکار نہیں۔ اے این پی نے ہر قسم کے تشدد، انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خلاف واضح موقف اختیار کیا۔ ہمارا اجتماعی عقیدہ یہی ہے کہ مکالمہ اور مذاکرات سے تمام مسائل کا حل ڈھونڈا جاسکتا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی جمہوریت کے استحکام، سیاسی فکر کے فروغ، قانون کی بالادستی، انصاف کی رسائی ممکن بنانا اور عقیدے سے بالاتر ہر فرد کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔


عوامی نیشنل پارٹی مذہب، روایات اور رواج کے غلط تشریحات کی مخالفت کرتی ہے اور کسی سے بھی نفرت کی حمایت نہیں کرتی۔ ہم انتہا پسندی اور دہشتگردی جیسے رویوں کی نہ صرف مخالفت کرتے ہیں بلکہ اس کی مذمت کرتے ہیں اور تدارک کیلئے بھی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ہم یہ سب کچھ اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں اور ہمیشہ اس فرض عین کو ادا کرتے رہیں گے۔ عوامی نیشنل پارٹی باچا خان کے احترام انسانیت کے نظریے پر عمل پیرا ہے اور یہ سفر تب تک جاری رہے گا جب تک فخرافغان کا ایک پیروکار اس سرخ جھنڈے کے ساتھ زندہ ہو گا۔


سیاست میں عوامی نیشنل پارٹی کا موقف واضح ہے۔ دفاع، خارجہ امور، کرنسی، مواصلات، مشترکہ مفادات کونسل کے علاوہ تمام محکمے صوبوں کے پاس ہونے چاہئیں اور یہی اصل خودمختاری ہے۔ اسی خودمختاری کیلئے عوامی نیشنل پارٹی نے روز اول سے اپنی جدوجہد جاری رکھی ہے۔ اسی طرح اٹھارہویں آئینی ترمیم میں جو محکمے صوبوں کے سپرد کئے گئے ہیں، ان محکموں کو مزید مضبوط کرنے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔


آج 34ویں یوم تاسیس کے موقع پر عوامی نیشنل پارٹی اس عزم کا اعادہ کرتی ہے اور اپنے کارکنان کو واضح طور پر اپنا پروگرام پیش کرتے ہوئے ہدایات جاری کرتی ہے کہ اے این پی کی موجودہ قیادت نہ صرف باچا خان اور خدائی خدمتگار تحریک کو زندہ رکھے ہوئی ہے بلکہ ان کے تمام خوابوں کو تعبیر بھی دے چکی ہے۔ ”د سور بیرغ ورز” کے اس تاریخی دن کے موقع پر ہم اس عزم کا اعادہ بھی کرتے ہیں کہ تحریک کو مزید مضبوط بنانے کیلئے کوششیں مزید تیز کی جائیں گی۔ عوامی نیشنل پارٹی کارکنان کی پارٹی ہے اور ہر کارکن کی مشاورت سے ہم آگے جائیں گے۔ آئیے آج کے دن اپنے گھر، دفاتر، دکان، اور گاڑیوں پر سرخ جھنڈے لہرائیں اور سب مل کر یہ عہد کریں کہ اپنے اسلاف کے مشن کو جاری رکھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

بابا عبدالرحمان، ایک آفاقی شاعر

تحریر: نورالامین یوسفزے ہمارے بابا نے سینکڑوں سال پہلے مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم …

%d bloggers like this: