باتیں ہمارے باچا خان کی ۔۔۔ ڈاکٹر سردار جمال

میرے سامنے جو کتاب پڑھی ہے اس کا نام ہے ’’باتیں ہمارے باچا خان کی‘‘۔ اس کتاب کے مولف ڈاکٹر یحییٰ وردک ہیں اور پروفیسر سمیع الدین ارمان نے اس کا پشتو سے اردو ترجمہ کیا ہے۔ کتاب 104صفحات پر مشتمل ہے۔ کتاب کا ٹائٹل باچا خان بابا ؒ کی خوب صورت تصویر سے مزین کیا گیا ہے۔ تمام کتاب باچا خان بابا ؒ کے اقوال زریں پر مشتمل ہے۔ کتاب کے آخر میں بابا ؒ کی مختصر کرونولوجی بھی بیان کی گئی ہے۔ اس کتاب کی ہمارے ہاں موجودگی ہمارے لیے قیمتی اثاثے سے کم نہیں ہے۔ میں ڈاکٹر یحییٰ وردک صاحب اور پروفیسر سمیع الدین ارمان صاحب کا بے حد مشکور ہوں جنہوں نے بابا ؒ کے قیمتی اقوال اس کتاب کی صورت میں ہم تک پہنچا دیئے ۔ میں مناسب سمجھتا ہوں کہ فخر افغان بابا ؒ کے چند قیمتی اقوال آپ کی خدمت میں پیش کروں تاکہ پڑھنے والے اس عظیم لیڈر کے مشاہدات اور تجربات سے فائدہ اٹھا کر اپنے لیے مشعل راہ بنائیں اور قوم و ملک کے لیے سود مند ثابت ہو سکیں۔ اگر چہ ایک طرف ہم جس خطے میں رہتے ہیں تو یہ ہماری بد قسمتی رہی ہے کہ یہ خطہ ہمیشہ حملہ آوروں کا راستہ رہا ہے تو دوسری طرف ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ اس یلغار کی بدولت پشتون قوم نے بڑے بڑے لیڈر پیدا کیے ہیں۔ پیر روخان سے لے کر خوشحال خان بابا تک اور خوشحال خان بابا سے لے کر باچا خان باباؒ تک کئی اور لیڈرز بھی اس زمرے میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ ہمارے تمام لیڈرز اپنی جگہ لیکن باچا خان بابا ؒ کا کردار اس وجہ سے مختلف ہے کیونکہ انہوں نے اپنا ہتھیار عدم تشدد کو بنا رکھا تھا۔ پشتون قوم میں عدم تشدد کا عملی نمونہ پیدا کرنا معجزے سے کم نہیں ہے۔ دوسری جو عجیب بات ہے وہ یہ ہے کہ دنیا میں واحد خدائی خدمتگار تحریک ہے جو دیہاتوں سے آکر شہروں میں پھیل گئی۔ دنیا کی تمام تحریکیں شہروں سے شروع ہو کر دیہاتوں میں پھیل جاتی ہیں ۔ خدائی خدمتگار تحریک کی دیہاتوں سے پذیرائی کی اصل وجہ باچا خان بابا ؒ کا عملی کردار ہے۔ آپ گاؤں گاؤں جاتے، لوگوں میں گھل مل جاتے، ان کو سمجھاتے کہ اٹھو اپنے آپ میں آزادی کا جذبہ پیدا کرو۔ زمین ہمارا ہے اور حکمران کئی سمندر پار کر ہم کو غلام بنائے رکھے ہوئے ہیں۔ آپ فرماتے تھے ’’میں اک خواب دیکھتا ہوں میری اک دیرینہ آرزو ہے! میری قوم کی حالت صحرا کے ان پھولوں کی طرح ہے جو کھل اٹھیں لیکن تربیت و پرورش کے فقدان کی وجہ سے کچھ دن بعد مر جائیں اور پھر خا ک میں خاک! میں چاہتا ہوں میری قوم ایک دوسرے کی خوشی غمی میں شریک ہو۔ میں چاہتا ہوں میری قوم اپنی خوشی کے لیے انسانی مساوات کی اساس پر ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کام کریں اور اپنا قومی کردار ادا کریں۔ اللہ اور اس کی مخلوق کے سامنے اقوام عالم میں خدمت خلق کے جذبے سے سرشار اپنا مقام پیدا کریں۔ آپ فرماتے تھے۔ یہ میرا عقیدہ اور ایمان ہے کہ اسلام عمل، یقین اور محبت کا مجموعہ ہے۔ مسلمانی کسی بھی غرض سے پاک ہوتی ہے ۔ قرآن نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ ایک اللہ پر ایمان اور عمل ِ صالح انسان کی نجات کے لیے کافی ہے ۔ جناب رسول اکرم ؐ نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ وہ شخص کامل مومن ہے جو اللہ کی مخلوق کے فائدے اور نفع کے لیے کام کرے۔ اللہ پر ایمان کا تقاضا ہے کہ بندہ انسانوں سے محبت کرے۔ بابا عدم تشدد کے بار ے میں فرماتے تھے۔ ’’میرے مطابق ایک پشتون اور مسلمان کے لیے عدم تشدد کے فلسفے کو اپنانا کسی اچھنبے کی بات نہیں۔ یہ کوئی نیا عقیدہ نہیں ہے۔ یہ تو وہی عقیدہ ہے جو آج سے چودہ سو برس قبل رسول ؐ نے مکہ میں اپنی زندگی میں اپنایا اور اس وقت سے ہی ہر کوئی جو اپنے آپ کو ظلم سے بچانا چاہتا ہے اسے اپنی زندگی میں اپناتا ہے۔ میں ادھر خدائی خدمتگار تحریک کی اشاعت کے سلسلے میں آیا ہوں۔ میرا کام اپنی تحریک کے پیغام اور فلسفے کو پہنچانا اور سمجھانا ہے۔ قبول کرنا ان لوگوں کی اپنی مرضی ہے۔ رہ گیا فساد تو میرا نظریہ عدم تشدد کا فلسفہ ہے۔ اگر کوئی ہم سے فساد کرنے کا اقدام کرتا بھی ہے تو ہم فساد نہیں کرتے۔ ہمارے اذہان تشدد سے بھر چکے ہیںاس لیے یہ بات (عدم تشدد) ہمارے پلے نہیں پڑ رہی ہے چونکہ میرا عقیدہ تھا کہ جب تک کوئی قوم اجتماعی طور پر بیدار اور منظم نہ ہو جائے تو ان میں سیاسی شعور اجاگر نہیں ہوتا۔ جب تک سیاسی شعور پختہ نہ ہو تو ڈیموکریسی پروان نہیں چڑھتی۔‘‘ پشتون قوم کے بار ے میں بابا ؒ فرماتے تھے ’’پشتون ایک زندہ قوم ہے۔ قومیت اور قربانی کا مادہ بھی ان میں موجود ہے لیکن ان کو بیدار کرانا ہے اور قومیں صرف دم چف سے بیدار نہیں ہوا کرتیں۔ قوم کو جگانے کے لیے مخلص اور بے غرض شخصیات چاہیے ہوتی ہیں جو ایماندار، امانت دار اور قومی جذبہ کو اپنا فریضہ سمجھتی ہیں۔ جب ایسے لوگ قوم میں پیدا ہوں تو ان کی کاوشوں سے محبت، بھائی چارہ، ہمدردی اور اخلاص پیدا ہوتے ہیں اور قوم آباد ہوجاتی ہے۔ ہمیں بے ہمت اور خود غرض خوانین، ملاؤں اور آباؤ اجداد نے مفت خوری سکھائی۔ تبھی تو آج ہمارا یہ حال ہے۔‘‘ طعنے اور عار دلانا پشتون قوم کی ایک معاشرتی بیماری چلی آرہی ہے۔ اس کے بارے میں بابا ؒ فرمایا کرتے تھے، ’’مجھے میرے عزیزوں اور دوستوں نے بہت عار دلائی کہ پیدل کیوں جا رہے ہو ۔ لوگ کیا کہیں گے؟ ہم لوگوں کے اس عار دلانے والے رویے کی وجہ سے بہت سارے غلط کاموں کا ارتکاب کرتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا میں لوگوں کی باتوں سے نہیں، کام سے غرض رکھتا ہوں۔ اگر کام درست ہو تو لوگ جو کہیں کہتے رہیں۔ میں کام کروں گا اور اگر کام درست نہ ہو تو لوگ جو بھی کہیں ، میں وہ کام کبھی نہیں کروں گا۔‘‘ کام کی استطاعت کے بار ے میں آپ ؒ فرماتے تھے، ’’جب ہم اپنی کمزوریاں اللہ سے چھپا نہیں سکتے تو ہمیں چاہیے کہ ان کمزوریوں کو مخلوق سے بھی نہ چھپائیں۔ جو کام کرسکتے ہیں علی الاعلان کہیں کہ یہ کر سکتے ہیں اور جو نہیں کر سکتے ہیں بلا خوف کہیں کہ نہیں کر سکتے۔ کوئی ایسا اچھا کام جو میں نہیں کر رہا کوئی اور کر رہا ہے تو مجھے اس کی امداد کرنی چاہیے نہ کہ اس کی مخالفت۔ ہمیں اپنی قوم میں رخنہ نہیں ڈالنا چاہیے۔ کسی کی ہمت بڑھائی اور حوصلہ افزائی کے بجائے الزام تراشی بالکل نہیں کرنی چاہیے۔‘‘ خواہش اور عزت کے بارے میں بابا ؒ نے فرمایا۔ ’’ہر کسی کی عزت اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے جو بندہ اپنی خواہشات اور ضروریات قابو کرے وہ آرام و سکون سے خوشحال اور باعزت رہتا ہے۔‘‘

0 0 vote
Article Rating

یہ بھی پڑھیں

sadar Jamal

دانہ خاک میں مل کر گلِ گلزار ہوتا ہے

جب لازو کا آخری وقت قریب آیا تو کسی نے اس کی زندگی کے کچھ …

Subscribe
Notify of
2 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments

Good

Good

2
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x