ہائبرڈ وار اور ترک ڈرامے (چوتھا حصہ)

تحریر: بحراللہ آفریدی

مصر اور دوسرے ممالک کی طرح پاکستان سے بھی بہت سے فتوے جاری ہوئے۔ ان تمام فتوؤں کو تین بڑی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلی قسم تو وہی ہے جس کے پیچھے سیاسی عزائم ہوتے ہیں۔ بعض ممالک یا ان کے حکمران خاندان مذہبی اور اخلاقی لحاظ سے اتنے گر چکے ہیں کہ وہ اپنے ذاتی مفادات اور مذموم مقاصد کے حصول کیلئے فتوؤں کے اسعتمال سے بھی دریغ نہیں کرتے اور اس کو ہائبرڈ وار کے ایک ٹول کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ دوسری قسم کے فتوے وہ ہیں جن کی بنیاد تعصب پر ہوتی ہے۔ مسلم امہ میں دو اعلی پائے کی علمی شخصیات گزری ہیں۔ ایک کا نام شیخ اکبر الامام ابن عربی رحمہ اللہ (پیدائش: 1165) اور دوسرے کا نام شیخ الاسلام الامام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (پیدائش: 1263) ہے۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا ابن عربی رحمہ اللہ سے شدید ترین علمی اختلاف رہا ہے یہاں تک کہ ان کی طرف سے ابن عربی کی مخالفت میں سخت ترین فتوے بھی جاری کئے گئے ہیں۔ دوسری طرف ابن تیمیہ رحمہ اللہ خود بھی علماء وقت کی سخت ترین مخالفت اور تنقید کے زد میں رہے ہیں یہاں تک کہ اپنے نظریات کی وجہ سے ان کو قید کر دیا گیا تھا اور جیل میں ہی ان کی وفات ہوئی۔ یہی اختلاف آگے چل کر ان دونوں کے پیروکاروں میں مزید شدت اختیار کر گئے۔ دونوں کے فالوورز دو متضاد انتہاؤں پر گامزن ہوئے اور بات ایک دوسرے کے خلاف شرک اور کفر کے فتوؤں تک پہنچ گئی۔ بدقسمتی سے وہی سلسلہ آج تک چلا آ رہا ہے۔ ارطغرل ڈرامے میں چونکہ ابن عربی رحمہ اللہ کا کردار دکھایا گیا ہے تو اسی لئے وہی فتوے ایک بار پھر دہرائے گئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں ہمیں دونوں انتہاؤں میں سے کسی ایک کی طرف بھی جانا نہیں چاہئے۔ ہمیں ہر حال میں اعتدال کا دامن تھامے رکھنا چاہیے کیونکہ ہمارا دین ہمیں اعتدال کا درس دیتا ہے۔ انتہا پسندی خواہ کسی بھی شکل میں ہو، اس میں تشدد کا عنصر لازماً پیدا ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ بالکل بھی بہتر نہیں نکلتا۔ دونوں علمی شخصیات کے نظریات کو قرآن و حدیث کی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد درمیانی اور معتدال راستے پر امت کو جمع ہونا چاہیے کیونکہ امت کے اندرونی اختلافات کو باہمی افہام و تفہیم سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ تیسری قسم ان فتوؤں کی وہ ہے جس کی بنیاد یا تو اس بات پر ہے کہ لوگ ارطغرل ڈرامے کو دیکھنا ’’ثواب کا کام‘‘ سمجھتے ہیں اور یا اس پر کہ اس ڈرامے میں بھی دیگر ڈراموں کی طرح ’’خواتین اور موسیقی‘‘ موجود ہیں تو اسی لئے اس کا دیکھنا حرام ہے۔ جہاں تک اس قسم کے فتوؤں کا تعلق ہے تو اس حوالے سے مفتی طارق مسعود صاحب نے بہترین اور متوازن موقف پیش کیا ہے۔ مفتی صاحب اس سوال کہ ’’ارطغرل ڈرامہ دیکھنا جائز ہے یا ناجائز‘‘ کے جواب میں کہتے ہیں کہ میں تو یہ نہیں کہتا کہ کسی ڈرامے کو دیکھنا جائز ہے مگر جو لوگ ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی فلموں میں مگن ہیں، انہیں ضرور کہوں گا کہ وہ ارطغرل ڈرامہ دیکھیں اور جو لوگ ویسے بھی ڈرامے یا فلمیں نہیں دیکھتے، وہ بالکل بھی نہ دیکھیں۔ انھوں نے مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص ہیروئن چھوڑ کر سیگریٹ پینے پر آ جائے تو یہ بھی بہرحال ایک اچھا اور قابل ستائش اقدام ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایک ایسے وقت میں جب امت کا پچانوے(95) فیصد حصہ کسی نہ کسی طرح اس میڈیائی یلغار کی زد میں ہے اور دن رات بے حیا عورتوں اور شیطانی موسیقی کی دھنوں میں مشغول ہے، ایسے میں محض فتوے جاری کرنا اور یہ سمجھنا کہ اس سے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، جہاں زمینی حقائق کے خلاف ہے وہاں عقل و منطق سے بھی بہت دور ہے۔ مسمانوں کو دشمن سے جنگ کیلئے تیاری کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بس جب جنگیں تلواروں اور نیزوں کے ساتھ لڑی جاتی تھیں تو جنگی تیاری سے مراد تلواروں، نیزوں، گھوڑوں اور اس سے متعلقہ تمام اسباب کی تیاری سمجھی جاتی تھی۔ جب جنگیں بندوق، ٹینک، میزائل اور جہازوں کے ساتھ لڑنا شروع ہوئیں تو پھر جنگی تیاری کے مفہوم میں ان سب ہتھیاروں کا حصول بھی شامل ہوا۔ اب چونکہ اس زمانے میں روایتی جنگوں کے ساتھ ساتھ جنگ کی نئی قسم یعنی ’’ہائبرڈ وار‘‘ بھی لڑی جاتی ہے جس کا خطرناک ترین ہتھیار میڈیا (فلم، ڈرامے، موسیقی وغیرہ) ہے (جس کی تباہی روایتی جنگوں سے کئی گنا زیادہ ہے اور جس کی وجہ سے مسلمانوں کے اذہان کو اپنے گھروں کے اندر ہی فکری تخریب کاری کے ذریعے فتح کیا جاتا ہے) تو روایتی جنگوں کی طرح اس جنگ کیلئے بھی مسلمانوں کو تیاری کرنی چاہیے اور دشمن کو اسی ہتھیار سے منہ توڑ جواب دینا چاہیے۔ اس جنگ کا مقابلہ محض درج بالا فتوؤں سے نہیں کیا جا سکتا۔ طیب اردگان چونکہ اس نقطے کو سمجھ چکے ہیں اسی لئے اس جنگ کے لڑنے کا فیصلہ کیا اور ساری امت پر عائد ایک اہم ذمہ داری کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا۔ دشمن کا میڈیا اگر ایک عورت کو معاشرے میں فحاشی پھیلانے کیلئے استعمال کرتا ہے تو بالکل اسی طرح ایک عورت کو حیا اور عفت و عزت کے فروغ کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جہاں دشمن کا میڈیا ہمارے بچوں کے ذہنوں میں موسیقی کے شیطانی ساز اور دھنیں بٹھاتا ہے وہیں پر موسیقی کے ذریعے اچھے اشعار پر مشتمل دھنیں بھی بنائی جا سکتی ہیں‘ ارطغرل ڈرامے کا تھیم سانگ اسکی ایک مثال ہے مطلب عورت کا مقابلہ عورت سے‘ شاعری کا مقابلہ شاعری سے اور موسیقی کا مقابلہ موسیقی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے‘ پھر بھی اگر کسی کو اس نقطہ نظر سے اختلاف ہے تو میں عرض کرنا چاہوں گا کہ جس ضرورت اور دلیل کی بنیاد پر قومی شناختی کارڈ پر تصویر کا اجرائ، سیاسی علماء کرام کا نامحرم خواتین کیساتھ اٹھنا بیٹھنا، تمباکو اور نسوار جیسی نشہ آور اشیاء کا استعمال اور جمہوریت جیسے گٹھیا ترین نظام کو درست اور جائز قرار دیا گیا ہے عین اسی ضرورت اور دلیل کی بنیاد پر ذکرکردہ چیزوں سے کہیں زیادہ ارطغرل قسم کے ڈرامے جائز ہی نہیں بلکہ ضروری قرار دیئے جا سکتے ہیں۔ اس سارے پس منظر اور کفر سے مقابلے کی نیت کو سامنے رکھتے ہوئے ثواب کا عنصر بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں

بغدادی پیر، کل اور آج

تحریر: محمد عمران ڈیوڈ جونز کا ناول شاید بہت سے قارئین نے پڑھا ہو گا …