لمحہ لمحہ کرچیاں (چوتھی قسط)

تحریر: دعا علی

وقت گزرتا رہا اس نے خود کو سنبھال لیا۔ بابا نے ایک دو رشتوں کا ذکر کیا، اس نے صاف انکار کر دیا کہ نہیں بابا اب میں شادی نہیں کروں گی آپ کے ساتھ ہی رہوں گی پر بابا نہیں مانے۔ ”بیٹا میں کب تک زندہ رہوں گا؟ میری بچی اپنی زندگی مت برباد کرو میرے بعد تمھارا کون خیال رکھے گا؟“ رشتے کی بات کسی طر ح میران شاہ کو پتا چل گئی کہ آئمہ کے لیے کوئی رشتہ آیا ہے۔ آئمہ شکل و صورت کی اچھی تھی، لڑکے کو سب بات معلوم تھی اس کے باوجود وہ آئمہ سے شادی کرنے پر راضی تھا پر وہ نہیں مان رہی تھی کہ کیسے میں یہ سب بھول کر اپنی زندگی پھر سے شروع کر لوں اور پھر میرا نکاح میران شاہ کے ساتھ ہو چکا ہے۔ اس نے خاموشی اختیار کر لی، وہ بہت چپ چپ رہنے لگی تھی۔ کچھ دنوں بعد میران شاہ آئمہ کی بڑی بہن مائلہ کے گھر پہنچ گیا، بہت رویا اورکہنے لگا ”پلیز مجھے ایک بار آئمہ سے ملوا دو میں اس کے پیروں میں گر کر معافی مانگنا چاہتا ہوں۔ میں اسے سچ میں پیار کرنے لگا ہوں میں اپنے کیے کی معافی مانگنا چاہتا ہوں۔ وہ طلاق نامہ بھی میں نے ہی بھیجا تھا پر اس پر میرے سائن نہیں تھے میرے دوست کے سائن تھے۔“ میران شاہ کی باتوں پر مائلہ کا دل پسیج گیا۔ اس نے سوچا میران شاہ جب اپنی غلطی مان رہا ہے اور نکاح نامہ بھی دے رہا ہے، میں بابا سے خود بات کرتی ہوں۔ مائلہ نے جب آئمہ کو یہ بتایا کہ آئمہ میران شاہ میرے گھر آیا تھا اور اس نے یہ کہا ہے تو آئمہ کو مائلہ پر بہت غصہ آیا اور کہا ”آپی آپ ایسے کیسے اس شخص کو معاف کر سکتی ہیں، میری اس حالت کا ذمہ دار وہ ہی ہے، ہم سب کی بدنامی اس کی وجہ سے ہوئی ہے اور وہ بھی میری بے وقوفی کی وجہ سے۔ اب میں کسی صورت اس شخص سے نہیں مل سکتی، میں نے بابا سے وعدہ کیا ہے میں اب ان کو اور دکھ نہیں دینا چاہتی۔“ دیکھو تم اب بھی اس کی قانونی بیوی ہو، جو ہوا غلط ہوا، نہیں ہونا چاہیے تھا پر میری بہن ایسے بھی تو زندگی برباد کر رہی ہو۔ بابا مان جائیں گے ہم سب مل کر بابا کو منا لیں گے۔“ پر آئمہ کسی صورت میران شاہ کو اب معاف کرنے والی نہیں تھی، اسے اپنی پل پل کی اذیت نہیں بھول رہی تھی۔
اپنی خوشیاں بانٹنے کا سودا میں کس سے کروں
اس ستم گر کا اگر شکوہ کروں، کس سے کروں
خوں کے آنسو اس کی فرقت میں بہائے ہیں دعا
اک قیامت دل پہ ٹوٹی، تذکرہ کس سے کروں
آئمہ نے پھر سے آفس جوائن کر لیا۔ وہ دھیرے دھیرے زندگی کی طرف لوٹ رہی تھی مگر میران شاہ پھر سے اس کے سامنے آ کھڑا ہو جاتا اور بہت روتا، بار بار کہتا ”آئمہ مجھے معاف کر دو پلیز! ایک بار مجھے معاف کر دو۔“ اس نے میران شاہ کی باتوں پر پھر یقین کر لیا، وہ پھر سے اس پر بھروسہ کرنے لگی تھی۔ وہ اس سے اب بھی کہتی کہ ”شاہ جی پلیز نکاح نامہ مجھے دیجیے میں بابا اور بھائی کو منا لوں گی۔“ میران شاہ کہتا ”ہاں آئمہ میں تمھیں لے جاؤں گا، میری جان اپنے گھر لے جاؤں گا تمھارے سارے سپنے سچ ہوں گے۔ میں تمھیں عزت سے بیاہ کر اپنے گھر لے جاؤں گا۔“ آئمہ اسی امید پر جیتی رہی اور وقت کچھ اور آگے سرک گیا۔ پر نہ تو میران شاہ نے وہ نکاح نامہ دیا نہ ہی آ کر بابا سے بات کی۔ اب آئمہ کو سمجھ آنے لگ گئی کہ میں نے میران شاہ پر اندھا بھروسہ کیا ہے اور وہ مجھے بے وقوف بنا رہا ہے۔ آئمہ نے ایک دن کہا ”شاہ جی مجھے صاف صاف بتائیے آپ کیا چاہتے ہیں؟“ میران شاہ نے کہا ”کیا چاہنا ہے میں نے! میں تو تمھیں چاہتا ہوں، میں تم سے بے تحاشا پیار کرتا ہوں۔“ آئمہ نے کہا ”تو پھر آپ مجھے اپنے گھر کیوں نہیں لے جاتے؟“ آئمہ کو پھر سے پیار کی باتوں میں الجھا کر چپ کرا دیا۔ آئمہ نے کچھ دن بعد یہ بات میران شاہ کو بتائی کہ شاہ جی میں پریگننٹ ہوں۔ میران شاہ نے کہا ”تمھارا دماغ خراب ہے کیا؟ فوراً ابارشن کرواؤ“ آئمہ نے کہا نہیں ہرگز نہیں۔ ان دونوں کا اس مسئلے پر شدید اختلاف ہوا۔ میران شاہ نے کہا ”آئمہ اپنی خوش فہمی کو دور کر لو مجھے تم سے کوئی محبت نہیں ہے۔ یہ اسی ایک بات کا بدلہ ہے جو تم نے سب کے سامنے میری بے عزتی کی تھی کہ شکل تو اچھی نہیں اور تصویریں ساری بنا ڈالیں، اسی وقت میں نے سوچ لیا تھا کہ تمھارا دماغ تو میں ٹھکانے لگا کر رہوں گا۔“ آئمہ نے روتے ہوئے کہا ”شاہ جی اس ایک بات کا کتنا بدلہ لو گے مجھ سے؟ مجھے اتنا تو بے عزت کر دیا آپ نے ہر کوئی میرے بارے میں باتیں کرتا ہے۔ میرے گھر والوں نے کیا بگاڑا تھا آپ کا آپ نے انھیں کس بات کی سزا دی؟“ میران شاہ نے کہا ”یہ تو ہونا ہی تھا، میں وہ بات کبھی نہیں بھول سکتا تم نے اپنے آفس کولیگز کے سامنے میری انسلٹ کی تھی۔ بس اسی وقت میں نے طلحہ سے کہہ دیا تھا کہ مجھے آئمہ کے متعلق معلومات چاہئیں۔ سب کچھ تمھارے بارے میں جان لیا تھا کہ کون ہو؟ کہاں رہتی ہو؟ کیا کرتی ہو؟ اور وہ جو تمھارے سو کالڈ انکل ہیں مولوی صاحب میری بڑی گاڑی اور اتنے سارے باڈی گارڈز دیکھ کر میرے آگے پیچھے ہو رہے تھے۔ میں نے سب پلان اسی وقت دماغ میں سوچ لیا تھا، میں نے انہیں اس نکاح کے پچاس ہزار روپے دیے تھے۔ میں جان چکا تھا کہ تم اپنے پاس کسی کو پھٹکنے بھی نہیں دیتی ہو اور یہ سب تمھاری دوست عفیفہ نے مجھے بتایا تھا کہ تمھاری خواہش ہے کہ شادی اس سے کروں گی جو میرے سامنے آ کر مجھے جھٹ سے کہہ دے: آئمہ مجھے آپ بہت اچھی لگتی ہو میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں، بس اسی سے شادی کروں گی تو یہ انتقام میں نے سوچ لیا تھا کہ تم سے کیسے بدلہ لوں گا اور جو تم پنڈی سے لاہور پہنچی وہ سب بندوبست بھی میں نے ہی کیا تھا۔ میں یہ جانتا تھا کہ صرف تمھاری فیملی اسلام آباد میں رہتی ہے اور لاہور میں تمھارا پورا خاندان، سب کے سامنے تمھیں ذلیل کرنے کا اس سے اچھا طریقہ اور کوئی نہیں تھا کہ تمھارا غرور توڑ سکوں۔“ وہ یہ سب باتیں سنتے ہی چکرا کر رہ گئی۔ میران شاہ نے کہا ”یہ ابارشن خود سے کروالو تو اچھا ہے ورنہ میرے پاس اور بھی طریقے ہیں۔“ وہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی کہ اب کرے تو وہ کیا کرے؟ ایک بار پھر سے سب کے بھروسے کو وہ توڑ چکی تھی۔ اب تو وہ اکیلی نہیں تھی اس کے اندر ایک اور ننھی سی جان پل رہی تھی، اسے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کرے۔ اسی دن آئمہ کے بڑے چچا کی بیٹی سعدیہ آئمہ سے ملنے آئی۔ اس کی زرد رنگت دیکھ کر پوچھے بنا نہ رہ سکی کہ کیا ہوا ہے۔ آئمہ نے روتے ہوئے کہا کہ کیا بتاؤں۔
کیسے باتیں ہوں بھلا اب الفت وجذبات کی
میرے چہرے پر یہ سختی ہے مرے حالات کی
میری آنکھوں میں ہے پرچھائیں یہ غم کی اے دعا
اور جینے میں ہے دشواری بہت آفات کی
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں

سانحہ12 مئی تب سے اب تک

12 مئی2007 کو انسانی خون کی ہولی اس وقت کھیلی گئی جب اس وقت کے …