لمحہ لمحہ کرچیاں

تحریر: دعا علی

کرچیاں جو بکھری ہیں زندگی کی راہوں سے
حرف یہ دعا کے ہیں رنج و غم کے افسانے
آئمہ نے ایم کام کیا تھا اور اسے ا کاؤنٹنسی میں خصوصی دلچسپی تھی اور کچھ کمپیوٹر کورسز بھی کیے تھے۔ آئمہ ایک اعلی خاندان سے تعلق رکھتی تھی، وہ اسلام آباد میں ایک نجی کمپنی میں اکاؤنٹنٹ منیجر تھی۔ اس کی سرخ و سفید رنگت، بڑی بڑی آنکھیں اور شانوں تک کٹے ہوئے بال، الہڑ سی آئمہ، کسی کی بات نہ سننے والی اور اپنی من مانی کرنے والی، جس کو جو دل میں آیا کہہ دیا، نڈر، با اعتماد اور ذرا اکھڑ مزاج لڑکی تھی۔ ایک دن میر میران علی شاہ کسی کام سے اس کے آفس آیا، میر میران علی شاہ اس کے آفس کولیگ طلحہ کا دوست تھا۔ میر میران علی شاہ آئمہ کو دیکھتا ہی رہ گیا، آئمہ اس دن جب کہ اپنے کام میں مصروف تھی اس نے میران شاہ کی طرف دھیان نہیں دیا۔ کچھ دن بعد سب آفس کولیگز نے مل کر پروگرام بنایا کہ کیوں نہ مری کی خوبصورت وادیوں میں پکنک منائی جائے۔ سب نے اس رائے پر اتفاق کیا، طلحہ نے مشورہ دیا کہ ہم لوگ زیادہ ہیں کیوں نہ میں اپنے دوست کی گاڑی لے آؤں اس طرح ہم آرام سے سفر کریں گے اور خوب انجوائے کریں گے۔ سب نے اپنی رضامندی ظاہر کر دی۔ پروگرام طے پایا کہ ویک اینڈ پر چلیں گے۔ پکنک والے دن طلحہ اپنے دوست کی پراڈو لے آیا اور ساتھ ہی ایک آدمی بھی جسے دیکھ کر سب نے پوچھا کہ کیا یہ ڈرائیور ہے؟ طلحہ نے کہا: ”نہیں یہ ڈرائیور نہیں میرا دوست میر میران علی شاہ ہے اور یہ گاڑی بھی اسی کی ہے۔“ میران شاہ گہرے سانولے رنگ کا پرکشش نوجوان تھا۔ طلحہ نے کہا: ”یہ بھی ہمارے ساتھ ہی جائے گا کسی کو کوئی اعتراض تو نہیں؟“ سب نے کہا کہ نہیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ آئمہ نے میران شاہ پر سرسری نظر ڈالی اور جا کر آفس کی گاڑی میں بیٹھنے لگی تو طلحہ نے کہا آئمہ تم، عفیفہ، زہرا، ریان اورحازک ہمارے ساتھ چل رہے ہو۔ عفیفہ نے فوراً کہا: ”ہاں جی طلحہ ہم تمھارے ساتھ ہی چل رہے ہیں۔“ آئمہ بنا کچھ کہے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ راستے میں ایک دو جگہ پر طلحہ نے گاڑی روکی اور سب نے دلکش مناظر دیکھ کر تصویریں بنائیں۔ عفیفہ اور زہرا نے آئمہ سے کہا کہ آئمہ تم نے ایک بات نوٹ کی کہ یہ طلحہ کا دوست بیک ویو مرر سے تمھیں ہی بار باردیکھ رہا ہے۔“ آئمہ نے کہا: ”چھوڑو یار اسے دیکھنے دو اس نے کبھی لڑکی دیکھی ہی نہیں ہو گی۔“ آئمہ اس بات سے بالکل لا تعلق تھی کہ میران شاہ اسے پہلے بھی ایک بار دیکھ کر جا چکا تھا، آئمہ یہ کہہ کر منہ کھڑکی کی طرف کر کے بیٹھ گئی اور باہر کے نظاروں سے لطف اندوز ہوتی رہی۔ بالآخر وہ لوگ مری پہنچ گئے سب نے خوب انجوائے کیا۔ طلحہ نے کہا: چلو سب اس سامنے والی پہاڑی پر چلتے ہیں اوپر سے نیچے دیکھنے کا منظر ہی بہت دلچسپ ہوتا ہے۔ سب نے کہا: چلو آج اتنی اونچائی سے دیکھتے ہیں۔ سب چل دیے۔ میران شاہ بھی آئمہ کے ساتھ ساتھ ہی چل رہا تھا، آئمہ اپنی دھن میں ایک ہاتھ میں اپنی سینڈل پکڑے اور دوسرے ہاتھ کی مدد سے اوپر چڑھتی چلی جا رہی تھی۔ میران شاہ نے آئمہ سے کہا: کیا میں تمھاری مدد کروں۔ اوپر چڑھتے ہوئے آئمہ نے جھٹ سے کہا: نہیں جی سوری میں بنا سہارے کے چلنے کی عادی ہوں۔ میران شاہ چپ ہو کر رہ گیا اور آئمہ اوپر چڑھتی چلی گئی۔ جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو میران شاہ، زہرا اور ریان تھے باقی سب پلٹ کر جا چکے تھے اور دوسری جگہ انجوائے کر رہے تھے۔ آئمہ اور زہرا نے ایک دوسرے کی تصویریں بنائیں تو میران شاہ نے آئمہ سے کہا میری بھی کچھ تصویریں بنا دو پلیز۔ آئمہ نے کیمرہ ریان کو دے دیا اور کہا ریان آپ بنا دو اپنے دوست کی تصویریں میں اور زہرا نیچے جا رہے ہیں۔ ریان نے کچھ تصویریں بنائیں اور سب واپس آہستہ آہستہ نیچے آ گئے۔


جب آئمہ نیچے آئی تو عفیفہ نے کہا: آئمہ اپنا کیمرا دینا میرے کیمرے کا میموری کارڈ بھر گیا ہے۔ آئمہ نے ریان سے کیمرا لے کر عفیفہ کو دے دیا۔ عفیفہ نے کہا: اس میں تو ایک بھی تصویر باقی نہیں اب کیا کروں؟ آئمہ نے بنا دیکھے سوچے کہہ دیا: یہ جو طلحہ کا دوست ہے اس نے ساری تصویریں بنا ڈالیں۔ شکل تو اچھی نہیں میرے کیمرے کا میموری کارڈ ہی فل کر دیا ہے۔ تم ڈیلیٹ کر دو۔ یہ بات آئمہ کے پیچھے کھڑے میران شاہ نے سن لی اور اس کا چہرہ اتر گیا۔ آئمہ کی بات سن کر اس کا موڈ خراب ہو گیا، میران شاہ ایک جاگیردار تھا، اس کو یہ بات کچھ زیادہ ہی بری لگی۔ آئمہ نے یہ بات کہہ کر اس کے دل کو ٹھیس پہنچائی تھی پر وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھی کہ میران شاہ کے دل میں یہ بات کسی تیر کی طرح لگی ہے۔ واپسی پر گاڑی میران شاہ نے ڈرائیو کی وہ ایک آدھ نظر پیچھے بیٹھی آئمہ پر بھی ڈال لیتا اور وہ ہر بات سے بے خبر باہر کے نظاروں سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ میران شاہ نے آدھے گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد گاڑی سڑک کنارے روک دی اور گاڑی سے نیچے اتر کر سڑک کی سائیڈ پر پڑے ایک پتھر پر بیٹھ گیا باقی سب بھی گاڑی سے نیچے اتر آئے اور خوبصورت وادی سے لطف اندوز ہونے لگے۔ طلحہ نے میران شاہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا: میران شاہ! کن سوچوں میں گم ہو یار؟ میران شاہ کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا اور احساس سے عاری میران شاہ نے اپنی بھاری آواز میں طلحہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: کچھ نہیں بس ایسے ہی یہ جگہ اچھی لگی تو سوچا کیوں نہ کچھ دیر رکا جائے۔ اتنے میں آئمہ اور اس کی سب دوستیں بھی وہیں آ گئیں اور آتے ہی کہنے لگیں: ارے تم لوگ تو یہاں یوں ڈیرا ڈال کر بیٹھ گئے ہو جیسے یہیں رکنے کا ارادہ ہو۔ میران شاہ کچھ کہے بنا گاڑی کی طرف بڑھ گیا اور جا کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ دو کنول اس کی سوچ کی جھیل پر نمودار ہونا شروع ہو گئے اور وہ اپنے خیال کو بار بار جھٹک دیتا، اس نے سختی سے اپنے دل کو تخیل پرستی سے روکا اور دوبارہ آئمہ کی طرف نظر نہیں اٹھائی اور خاموشی کے ساتھ ڈرائیو کرتا رہا۔ وہ لوگ واپسی پر بھی انجوائے کرتے ہوئے شام کو گھر لوٹ آئے۔ آئمہ نے دھیان نہیں دیا کہ سارے رستے میران شاہ چپ چاپ رہا ہے۔ کچھ دن گزرے میران شاہ نے آفس میں کال کی جو آئمہ نے اٹینڈ کی، آئمہ سے میران شاہ نے طلحہ کا پوچھا تو آئمہ نے کہا کہ طلحہ آفس کے کسی کام سے آؤٹ آف سٹی گیا ہوا ہے۔ اسے وہ بات بالکل بھول گئی تھی کہ اس نے میران شاہ کو دلی ٹھیس پہنچائی تھی اس لیے نہ تو میران شاہ نے اس بات کا ذکر کیا نہ آئمہ نے۔ اس نے آئمہ کا حال چال پوچھا اور فون بند کر دیا۔ کچھ دن بعد میران شاہ پھر کسی سلسلے میں آفس آیا۔ آئمہ لیپ ٹاپ پر جھکے اپنے کام میں مشغول تھی، وہ بار بار اپنے چہرے پر آنے والی لٹ کو اپنے ہاتھ سے ہٹاتی، شریر لٹ پھر اس کی آنکھوں کے سامنے آ جاتی۔ دل آویز ڈیزائن، اچھی تراش خراش کے ہلکے فیروزی رنگ کے لباس میں ملبوس وہ کوئی جنت کی حور لگ رہی تھی، اس کا سفید رنگ نشتر بن کر میران کے دل میں اتر رہا تھا۔ وہ دور کھڑا ایک ٹک اسے دیکھتا رہا، میران شاہ کے دل میں چھپی پیار کی مدھم لہروں نے ایک شور برپا کر ڈالا۔ اس نے آہستگی سے آئمہ کی طرف قدم بڑھایا اور اس سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: آئمہ میں تم سے ایک بات کہنا چاہ رہا ہوں، کہہ سکتا ہوں؟ آئمہ نے اپنی نظریں اوپر اٹھائے بغیر کہا: ہاں کیوں نہیں۔ میران شاہ نے کہا: آئمہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے چونک کر اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے دیکھا اور ایک محرابی آبرو معنی خیز انداز میں اٹھا کر بولی، شادی وہ بھی مجھ سے؟ میران شاہ نے کہا: کیوں کیا میں تم سے شادی نہیں کر سکتا؟ تم مجھے پہلی ہی نظر میں بہت اچھی لگی تھیں۔ آئمہ یہ بات سنتے ہی حیران رہ گئی۔ میران شاہ نے کہا: آئمہ میں نے ایسا کیا کہہ دیا جو تمھیں اتنی حیرانی ہو رہی ہے؟ پلیز مجھے تم سوچ کر جواب دینا میرے بارے میں طلحہ سے تمام معلومات لے سکتی ہو۔ میران شاہ اپنی بات مکمل کر کے جا چکا تھا اور وہ وہیں حیران کن نظروں سے اسے جاتا دیکھتی رہی۔

آئمہ نے اس بات کا ذکر عفیفہ اور زہرا سے کیا۔ عفیفہ اور زہرا نے ہنستے ہوئے آئمہ سے کہا: یہ بات تو ہم نے اسی دن کہہ دی تھی کہ یہ بندہ دل ہار چکا ہے، دیکھ لو اب پیار کا اظہار بنا کسی جھجک کے کر دیا۔ عفیفہ نے کہا: کیا خیال ہے آئمہ؟ تم بھی تو کوئی ایسا ہی جیون ساتھی چاہتی تھی ناں کہ شادی کروں گی تو اس کے ساتھ جو بنا کسی جھجک کے مجھے جھٹ سے کہہ دے آئمہ کیا مجھ سے شادی کرو گی؟ آئمہ نے کہا: ہاں کہتی تو میں بے شک ایسا ہی تھی، مگر میں عجب مخمصے میں پڑ گئی ہوں کہ میران شاہ اور ہماری فیملی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ وہ ٹھہرا ایک جاگیردار اور ہم شہری، بے شک بابا نے کسی چیز کی کمی نہیں آنے دی، مگر ان وڈیروں جیسے ہم نہیں ہیں اور میں خالص گھریلو قسم کی عورت نہیں بن سکتی۔ میران شاہ کو دیکھ کر لگتا نہیں ہے کہ وہ شادی کے بعد مجھے جاب بھی کرنے دے گا۔ تو پھر؟ زہرا نے کہا۔ تو آئمہ نے کہا: یار سوچنے تو دو اب۔۔ میں نہیں جانتی کہ یہ کون ہے؟ کہاں رہتا ہے؟ کیا کرتا ہے؟ بس اتنا معلوم ہے کہ یہ طلحہ کا دوست ہے اور ایک جاگیردار ہے۔ عفیفہ نے کہا: تو طلحہ ہی سے پوچھ لیتے ہیں۔ آئمہ نے طلحہ کو بتا دیا کہ آپ کے دوست نے مجھے شادی کی پیش کش کی ہے۔ طلحہ زیر لب مسکرایا اور کہا: یہ بات میں پہلے سے ہی جانتا ہوں کہ میران شاہ تمھیں دیکھ کر اسی دن ہی اپنا دل ہار بیٹھا تھا اسی لیے تو میں اس کے بے حد اصرار پر اس کی گاڑی لے کر آیا تھا اور ساتھ اسے بھی۔ یہ سن کر آئمہ کو کچھ حیرانی سی ہوئی۔ طلحہ نے کہا، تم میری بہنوں جیسی ہی نہیں میری چھوٹی بہن ہو، بندہ اچھا ہے۔ اچھی طرح سوچ لو اس جیسا بندہ پھر نہیں ملے گا، سیدھا سادہ سا ہے اور جاگیردار ہے اور شہر میں بھی اس کی رہائش ہے۔ یہاں اسلام آباد میں اس کا پراپرٹی کا بزنس ہے، اسی سلسلے میں اکثر یہاں آتا جاتا ہے، ضروری نہیں کہ تم شادی کے بعد اس کے گاؤں جاؤ اور تمھارے گھر والوں نے بھی تو تمھیں پسند سے شادی کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے تو اپنے گھر والوں سے پوچھ کر دیکھ لو۔ آئمہ نے کہا کہ پوچھوں گی مگر ایک پرابلم ہے کہ وہ ہماری برادری کا نہیں ہے، ہو سکتا ہے بڑے بھائی جان یا بابا جان انکار کر دیں۔ طلحہ نے کہا چلے گی تو تمھاری ہی مرضی ناں تو پوچھنے میں کیا حرج ہے؟ بڑے بھائی جان ان دنوں اسلام آباد آئے ہوئے تھے۔ آئمہ نے گھر آتے ہی کہا: ویر جی! آپ سے ایک بات کہنی ہے۔ انھوں نے کہا: ہاں کہو بیٹا! آج مجھ سے میری گڑیا کو کیا بات کہنی ہے۔ آئمہ نے بلا جھجک میران شاہ کے بارے میں سب سچ سچ بتا دیا کہ ہمارے آفس میں جو طلحہ ہے اس کا دوست ہے، وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ بڑے بھائی جان طلحہ کو تو جانتے تھے کہنے لگے پہلے میں بابا جان سے پوچھ لوں پھر کوئی جواب دوں گا۔ آئمہ بڑے بھائی جان عفان کی بہت لاڈلی تھی، انھوں نے آئمہ کی کبھی کوئی بات نہیں ٹالی تھی بہت لاڈوں سے اسے رکھا تھا۔ اس دن کے بعد میران شاہ ہر دوسرے تیسرے دن کسی نہ کسی بہانے سے آئمہ کے آفس آ جاتا، اس سے ہر بار پوچھتا کیا سوچا ہے تم نے؟ ابھی تک جواب نہیں دیا۔ آئمہ نے کہا: میران شاہ! میں نے بات کی ہے بھائی سے، انھوں نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ گاؤں چلے گئے ہیں دادا جی کو دیکھنے، ان کی طبیعت کچھ ناساز تھی وہ آ جائیں پھر پوچھوں گی۔ عفیفہ کے والد آئمہ کے والد کے پرانے جاننے والے تھے۔ عفیفہ کے والد مولوی صاحب تھے اور انھوں نے ہی آئمہ کی بڑی بہن کا نکاح پڑھایا تھا۔ ایک دن آئمہ کا عفیفہ کے گھر جانا ہوا۔ عفیفہ کے والد سے رشتو ں کا ذکر ہوا تو مولوی صاحب نے پوچھا کہ عفیفہ بتا رہی تھی کہ تمھارا کوئی رشتہ آیا ہوا ہے۔ تو آئمہ نے میران شاہ کا ذکر کیا۔ آئمہ کی طبیعت بھی کچھ ایسی تھی جو کہنا ہوتا تھا وہ سب صاف صاف کہہ دیتی تھی اس لیے بنا تردد اس نے میران شاہ کی بات مولوی صاحب کو بتا دی۔ انھوں نے کہا: بیٹا اب جب میران شاہ آئے تو مجھ سے ملوانا میں دیکھوں کہ لڑکا کیسا ہے؟ پھر میں تمھارے بابا سے خود بات کر لوں گا۔ کچھ دنوں بعد میران شاہ آفس آیا۔ آئمہ، عفیفہ، طلحہ اور میران شاہ عفیفہ کے گھر جانے کے لیے نکل پڑے۔ میران شاہ نے کہا: طلحہ تم مجھے گائیڈ کرتے جاؤ ڈرائیو میں کروں گا۔ میران شاہ نے اپنی عادت کے مطابق ایکسیلیٹر پر پاؤں رکھ کے گاڑی تیز رفتاری سے سڑک پر دوڑا دی۔ آئمہ نے ہنستے ہوئے کہا: کیوں میران شاہ! ہم سب کو مارنے کے ارادے سے نکلے ہیں کیا؟ میران شاہ نے مسکرا کر آئمہ کی طرف دیکھا اور بنا کچھ کہے دائیں ہاتھ سے اسٹیرنگ ویل تھامے بائیں ہاتھ کی انگلیوں میں ادھ جلا سگریٹ دبائے گہرا کش لیا اور گاڑی کی اسپیڈ کم کر دی۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں

سانحہ12 مئی تب سے اب تک

12 مئی2007 کو انسانی خون کی ہولی اس وقت کھیلی گئی جب اس وقت کے …