ناصر علی سید۔۔۔ خیبر پختونخوا میں اردو ادب کے سرخیل

تحریر: راج محمد آفریدی

خیبر پختونخوا کے وہ ادباء جو ہر سطح پر مختلف اصنافِ ادب میں طبع آزمائی کرتے ہیں، جو ملک خداداد پاکستان اور بیرون ملک خیبر پختونخوا کی نمائندگی کرتے ہیں، ان میں ناصر علی شاہ المعروف ناصر علی سید کا نام بہت اہمیت کا حامل ہے۔ وہ بیک وقت ایک صاحب طرز افسانہ نگار، شاعر، نقاد، کالم نگار اور ایک بہترین ڈرامہ نگار ہیں۔ ان کی پیدائش یکم مئی 1948 کو اکوڑہ خٹک (نوشہرہ) میں ایک علمی و ادبی گھرانے میں ہوئی۔ آپ کے والد کا نام سید دلاور شاہ تھا جن کی اولاد میں پانچ بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔

ناصر علی سید نے ابتدائی تعلیم اکوڑہ خٹک سے حاصل کرنے کے بعد1970 جامعہ پشاور سے اردو میں پرائیویٹ طور ماسٹر کیا۔ پھر مختلف اہم ذمہ داریوں سمیت31 سال تک درس و تدریس سے وابستہ رہے۔ ماہنامہ ہفت رنگ، سہ ماہی ادراک، سہ ماہی احساس، ماہنامہ پرچول، ماہنامہ کاروان کی ادارت کے فرائض بھی سرانجام دیے ہیں۔ آج کل روزنامہ آج کے ادبی صفحے ”ادب سرائے“ کی ادارت ذمے ہے۔ اخبار میں ادبی صفحات کی ادارت سنبھالنا، سٹیج کی ذمہ داریاں سنبھالنا، ٹیلی ویژن کی میزبانی کرنا، حالاتِ حاضرہ و ادبی احوال پر کالم لکھنا، ریڈیو اور ٹی وی کے لیے ڈراما لکھنا، مشرقی و مغربی تہذیب کی عکاسی کرنے کے لیے افسانے لکھنا یا اپنے جذبات کی عکاسی کے لیے اشعار کہنا، ان کا معمول ہے۔ وہ حلقہ اربابِ ذوق کے ایک مستقل رکن ہونے کی وجہ سے حلقہ کی محفلوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے ہیں اور اپنی قیمتی آراء سے ادب پاروں کو نگینے بناتے ہیں۔ ان کی تنقید سے نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ رہنمائی بھی ہوتی ہے۔ ان کی آرا کو سند کا درجہ حاصل ہوتا ہے جسے لکھاری اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں۔

اس کے ساتھ، کے ٹو چینل پر بھی ادبی پروگرام کی میزبانی کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی بساط کے مطابق ہر پلیٹ فارم پر اردو ادب کا پرچار کیا ہے۔ مندرجہ بالا خصوصیات کی بنا پر ان کو بجا طور پر خیبر پختونخوا کے دورِ جدید کا مستعد ادیب کہا جا سکتا ہے۔ ناصر علی سید کے136 کالموں پر مشتمل مجموعہ ”ادب کے اطراف میں“ 2013 میں شائع ہوکر ہر طبقہ فکر سے داد و تحسین وصول کر چکا ہے۔ اس میں بیشتر کالم ادبی ہیں۔ انہوں نے اپنے کالموں میں پشاور سے محبت کا ثبوت پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی و طنزیہ کالم بھی لکھے ہیں۔ ان کے کالموں میں رپورتاژ نگاری کا عنصر پایا جاتا ہے۔ موقع محل کی نسبت اشعار و ضرب الامثال کے استعمال سے آپ کے کالموں کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے۔ ”ادب سرائے“ میں ہر جمعرات آپ کا مضمون بعنوان ”بات کر کے دیکھتے ہیں“ شائع ہوتا ہے جو ادب کے طلبہ کے لیے کسی دستاویز سے کم نہیں۔ یہ ادبی معلومات کا مآخذ ہے۔


ناصر علی سید نے اردو، پشتو اور ہندکو زبان میں ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لیے متعدد ڈرامے لکھے ہیں۔ ان میں سیریلز، لانگ پلیز اور ٹیلی فلمز شامل ہیں۔ ان کا ایک ہندکو ڈرامہ سیریل کتابی شکل میں زندگی کے نام سے محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ پشاور مرکز کا پہلا ڈرامہ ہے جو کتابی صورت میں شائع ہوا ہے۔ امریکہ میں مقیم مشتاق احمد نے اس ڈرامے کا اردو ترجمہ کر کے زندگی ہی کے نام سے شائع کیا ہے۔ ناصر علی سید کے دیگر ڈراموں میں بارش، بند گلی، پچھلے پار، کھلادروازہ، فاصلہ، آس، رنگ، دوریاں، تتلیوں کے رنگ، برف کی آنچ، آسرا، آخری بس وغیرہ مشہور ہیں۔ ناصر علی سید کا شعری مجموعہ ”شامیں فریب دیتی ہیں“ 2007 میں شائع ہوا۔ یہ اپنی نوعیت کا بہترین شعری مجموعہ ہے۔ اس کی گونج بھارت، بنگلہ دیش اور امریکہ تک سنائی دی۔ اس مجموعے میں ان کی نظمیں، غزلیں، ہائیکو اور گیت شامل ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:
کچھ شہر کی شاموں میں بھی اک سحر تھا ناصر
کچھ گاؤں کی صبحوں نے بھی ہم کو نہ پکارا
راستے رزق کشادہ کے بہت ہیں ناصر
کوئی اس شہر پشاور سے جدا کیسے ہو
بھری محفل میں رہ گیا ہوں تنہا
مجھے تری کمی مہنگی پڑی ہے
وہ مجھ کو سزا دے کے کڑی بھول گیا ہے
تنہائی کی سولی سے کسی نے نہ اتارا
کیوں کوئی گلہ ہوتا، مل کے جو گیا ہوتا
کم سے کم جدائی کا زخم تو ہرا ہوتا
نظر میں دھول پرانی رفاقتوں کی لے
گلی سے تیری میں چپ چاپ گزرتا ہوا
سانس کے پاؤں میں گھنگروں بولے
لے کو مدھم نہ کرو، رقص کرو
لوگ تھک ہار کے چپ بیٹھ گئے
تم تو اے دیدہ ورو! رقص کرو
ناصر علی سید کے افسانے مختلف جرائد و رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ان میں ڈھائی کمروں کی جنت، ایک پرانی کہانی، ایک محتاط کہانی، پاپ کارن، پس دیوار گریہ، تھکن کا سفر اہم ہیں۔ افسانہ ”ڈھائی کمروں کی جنت“ علامتی افسانہ ہے جس میں معاشرتی اقدار کا ذکر ملتا ہے۔ ”پس دیوار گریہ“ نفسیاتی کش مکش کو بیان کرتا افسانہ ہے۔ ایک محتاط کہانی عمروں کے تضاد اور محبت پر مبنی رومانوی افسانہ ہے۔ اسی طرح ”تھکن کا سفر“ لاتعداد مسائل میں گھری انسانی زندگی کا احوال بیان کرتا ہے۔ ناصر علی سید نے علامتی افسانہ زیادہ لکھا ہے، آپ منظر نگاری پر خوب توجہ دیتے ہیں۔ مختلف ادبی جرائد نے آپ پر خصوصی مضامین شائع کیے ہیں جن میں ”چہار سو“ کا خصوصی نمبر قابل ذکر ہے۔


ناصر علی سید بہت محبت کرنے والی شخصیت ہیں۔ میں یہ دعوی سے کہتا ہوں کہ اگر اردو ادب سے شغف رکھنے والا ان سے پانچ منٹ بات کرے تو اس کے لیے گھنٹہ دو میں اٹھنا ممکن ہی نہیں۔ موصوف خیبر پختونخوا کے ادب کا خزانہ ساتھ لیے پھرتے ہیں۔ ان کے ساتھ ہر بڑے ادیب کے متعلق آنکھوں دیکھا حال موجود ہوتا ہے جس سے سننے والا کبھی اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتا۔ ہر کسی کے غم و خوشی میں شریک ہوتے ہیں۔ اتنی مصروفیات کے باوجود ادب شناسوں سے تعلق جوڑے رکھتے ہیں۔ دسمبر 2019 میں میرے والد صاحب کا انتقال ہوا تو موصوف امریکی دورے پر تھے۔ وہاں سے مجھے فون کر کے10 منٹ سے زیادہ بات کی۔ مختصراً ناصر علی سید نے خیبر پختونخوا میں اردو ادب کی ترویج کے لیے زندگی وقف کر رکھی ہے۔ اس کا صلہ انہیں مختلف طبقہ ہائے فکر کی جانب سے محبت اور ایوارڈز کی صورت میں وقتاً فوقتاً ملتا رہتا ہے۔ ان کے اعزازات میں تمغہ امتیاز سمیت حج و اوقاف کی جانب سے بہترین نعت گو ایوارڈ، پشاور ایوارڈ، ایرانی کلچر سنٹر ایوارڈ، پروین شاکر ایوارڈ، اباسین آرٹس کونسل ایوارڈ اور اسی طرح لاتعداد ایوارڈز شامل ہیں۔ موصوف ایک ایسے ادیب ہیں جو خیبر پختونخوا کی نمائندگی ملکی و غیرملکی سطح پر کرتے ہیں۔ وہ مختلف ممالک میں ہماری پہچان بن کر اردو ادب کی آبیاری کرتے ہیں۔ موجودہ دور میں ناصر علی سید بلا شبہ خیبر پختونخوا کے سب سے اہم اردو ادیبوں میں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

سانحہ12 مئی تب سے اب تک

12 مئی2007 کو انسانی خون کی ہولی اس وقت کھیلی گئی جب اس وقت کے …