ہمارے روایتی نشے

ہمارے روایتی نشے

انسان نے نشہ آور چیزوں کا علم اور استعمال کب اورکیوںکر شروع کیا؟ اس سلسلے میں بشریات کے عالموں کا خیال ہے کہ جب سے انسان نے اس کرہ ارض پرآنکھ کھولی اس نے اپنے آپ کو درپیش دکھوں، مصیبتوں، ذہنی پریشانیوں اور جسمانی تکلیفوں سے چھٹکارا پانے کے لئے ابتدا میں اپنے ارد گرد ماحول میں پائے جانے والی’’سحری نباتات‘‘ کو استعمال کرنا شروع کیا یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انسان نے خودکسی پودے کی جڑوں یا پتوں کو منہ میں چبایا ہو اور اس چبانے کے دوران اسے کسی پودے، بوٹے میں پائے جانے والے نشے کا سراغ ملا ہو اور وہ اس طرح کہ شاید اسے کوئی چکر آیا ہو یا اس پودے کے چبانے، اس کے پتوں کوکھانے سے اس پر نیندکا غلبہ آیا ہو جس نے بعد میں پھر ان نشہ آور پودوں اور بوٹیوں کو اس خاطر استعمال کرنا شروع کر دیا تاکہ اس کے ذریعے اپنی اکتاہٹ اور پریشانی کی جڑکوکاٹ سکے اور زندگی کے تلخ حقائق سے ہویدا بے چینی، اضطراب اور کرب کا مقابلہ کرسکے۔ کیوںکہ ابتداء سے انسان کی یہ ایک فطری اور نفسیاتی کمزوری رہی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو خوش و خرم اور پرسکون رکھنے کیلئے مختف ذرائع ڈھونڈتا چلا آتا ہے جس کی خاطر آج کی طرح ماضی میں بھی ہزاروں سال پہلے کے انسان نے کسی نہ کسی صورت میں نشہ آور چیزوں کا استعمال جاری رکھا۔ مثال کے طور پر جب ہم پختونوں کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں تو اس تاریخ میں ہمیں سب سے پہلے پھول کے ایک ایسے پودے کا وجود ملتا ہے جس کے بارے میں اس وقت کی ایک پختون محبوبہ نے چاند کے سامنے اپنی محبت کی جھولی پھیلاتے ہوئے پشتو کا یہ مشہور تاریخی ٹپہ کہا کہ
؎ سپوگمیہ کڑنگ وخہ راخیجہ
یار مے د گلو لو کوی گوتے ریبینہ
(اے چاند جھنکارکے ساتھ نکل آ، میرا محبوب پھولوں کی کٹائی میں اپنی انگلیاں کاٹ رہا ہے۔) پشتو کے اس ٹپے پر اب تک جو تحقیق کی گئی ہے اس سے ثابت ہو چکا ہے کہ مذکورہ ٹپہ تقریباً 2 ہزار قبل از مسیح میں آرین کے زمانے میں اس وقت بولا گیا ہے جس زمانے میں یہاں خیبر پختون خوا خصوصاً سوات اور ہندوستان کے چند علاقوں میں ایک قسم کا پھول ’’سوما‘‘ کے نام سے ہوا کرتا تھا اور جس سے رس نکال کر ساتھ میں دیگر چیزوں کی ملاوٹ سے ایک خاص قسم کا نشہ آور مشروب تیارکیا جاتا تھا۔ اس پھول ’’ سوما‘‘ میں جو خاص قسم کا شیرا ہوا کرتا تھا وہ دن کی روشنی میں سورج کی تیز شعاعوں کی وجہ سے خراب ہوتا تھا اس لئے اس کی کٹائی چاندکی روشنی میں ہی کی جاتی تھی۔ نباتاتی اور زرعی تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ سوما پھول کے علاوہ پوری دنیا میں اورکوئی ایسا پھول نہیں ہے جس کی کٹائی دن کے بجائے رات کو چاندنی کی روشنی میں ہوا کرتی تھی۔ ویدک زمانے کے دوران اور اس کے بعد آریائی قبائل کے ہاں ’’سوم رس‘‘ کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔ یہ ایک ایسے پھول دار پودے کا رس تھا جو پتھر پر پیس کر نکالا جاتا تھا۔ دودھ، دہی اورگھی کے ساتھ اس نشہ آور مشروب کو مختلف النوع قربانیوں کے وقت پیا جاتا تھا۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ رگ وید کا پورا نواں منڈل صرف سوم رس کے لئے مخصوص ہے جس میں ایک سوچودہ ایسی نظمیں ہیں جن کا موضوع سوم رس ہے۔ ہند یورپی قبائل اس رس کو ایران میں بھی استعمال کرتے تھے اور اوستا میں اس کا ذکر ’’ہوم‘‘ کے نام سے آیا ہے۔ سوم رس کو آرین قبائل آب حیات مانتے تھے اور اس بارے میں ان کاعقیدہ تھا کہ اس کے پینے والا دیوتاؤں کی طرح امر ہو جاتا ہے۔ اندر دیوتا اس رس کا بڑا رسیا تھا اور وہ اس کے خم کے خم لنڈھاتا تھا۔ اس نسبت سے سوم رس کو دیوتاؤں کا درجہ بھی دیا گیا۔ چاندکے ساتھ بھی اس کا ناطہ جوڑا جاتا ہے اور یہ ذکر ہمیں رگ وید کی تین نظموں میں ملتا ہے۔رگ وید میں علامتی طور پر تین چھلنیوں کا ذکر آتا ہے۔ پہلی چھلنی توخود یہ پودا ہے، دوسری چھلنی بھیڑکی اون سے بنائی جاتی تھی لیکن تیسری چھلنی کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ ’’سوما‘‘ یا ’’ہوما‘‘ پودے کے بارے میں اتنی طویل بحث کا مطلب صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ خیبر پختون خوا کے قدیم باشندوں میں’’سوم رس‘‘ پینے کی روایت موجود تھی اور وہ بھی ایک ایسی روایت جسے مذہبی تقدس اور معاشرتی تحفظ بھی حاصل تھا ۔ دوسری اہم بات ’’سوم رس‘‘ سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ جس طرح بعد میں دیگر مقامی اور روایتی نشوں کا ذکر پشتوکی عوامی شاعری خصوصاً ٹپے میں ہوتا رہا ہے اس طرح آج سے ہزاروں سال قبل بھی اس صنف میں سوما پودے کا ذکر موجود ہے۔ ویسے تو پوست (افیون) بھنگ، چرس، پان، شراب، معجون اور سردائی (جسے پشتو میں لوگ ٹھنڈائی بھی کہتے ہیں) کا ذکر اور شکل دیکھی اور سنی جاتی ہے خصوصاً شراب کے بارے میں تو دنیا کی ہر زبان و ادب میں بے شمار اشعار موجود ہیں اورآج بھی اس نشے کے بارے میں ہمارے شعراء کرام اپنی شاعری میں کچھ نہ کچھ ضرورفرماتے ہیں۔’’جام جمشید‘‘ اور ’’جام جم‘‘ کی تلمیح آج بھی دنیا کی ہر زبان کی شاعری میں بکثرت استعمال ہوتی ہے۔ ہمارے صوفی شعراء نے شراب، پیمانہ، ساقی، میخانہ اور سرورکو حقیقت اور معرفت کے مضامین باندھنے کے لئے بطور علامت اور استعارہ استعمال کیا ہے جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ ویسے تو قدیم روایتی نشوں میں افیون، بھنگ، چرس یا ہندوستانی پان کے بارے میں بھی ہماری کئی زبانوں کی شاعری میں بے شمار اشعار ملتے ہیں لیکن جہاں تک چلم اور حقے کے ذریعے تمباکو پینے کا تعلق ہے تو اس کے استعمال نے ہماری ثقافت پر بڑا گہرا اثر ڈالاہے خصوصاً خیبر پختون خوا اور پنجاب میں تو دیسی تمباکو چلم اور حقے میں پینے کا ایک عام رواج بن چکا ہے۔ آج سے چند سال پہلے تو خیبر پختون خوا کے کسی بھی علاقے یا گاؤں کے حجرہ میں اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ اس میں چلم نہیں ہوتی تھی۔ پختونوں کی معاشرتی زندگی میں حجرہ اور چلم لازم و ملزوم سمجھے جاتے ہیں اور اکثر لوگ اسے مذاقاً حجرے کا ’’مشر‘‘ (بزرگ) بھی کہتے ہیں۔

Google+ Linkedin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*
*
*