مہنگائی پر بکواس

مہنگائی پر بکواس

مہنگائی پر تفصیل سے بکواس کرنے سے پہلے ایک ویڈیو کا ذکر کرتے چلیں۔ ایک دوست نے بھیجی ہے۔ اُس میں کچھ ٹرک روڈ پر تیزی سے بھاگتے ہوئے دکھائے گئے ہیں اور ساتھ کمنٹری ہو رہی ہے کہ ’’لو جی پیاز سے بھرے ٹرک انڈیا جا رہے ہیں۔‘‘ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ جیسے یہاں ہمارے پاکستان میں ٹماٹر مہنگے ہوگئے ہیں وہاں انڈیا میں پیاز نہیں ملتے۔ نتیجہ اس کا یہ ہے کہ ہم پیاز اور ٹماٹر دونوں کو ترستے ہیں۔ یہ تاجر بھی عجیب و غریب مخلوق ہیں۔ اگر انہیں جہنم کو کھانے پینے کی کوئی چیز سپلائی کرنے کا ٹھیکہ مل جائے تو وہ اس کام میں بھی دریغ نہیں کریں گے۔ جبھی تو کہا جاتا ہے کہ ایک تاجر سے کسی نے پوچھا کہ حضرت جہنم جانا پسند کروگے یا دوزخ؟ حضرت کا جواب تھا۔ جہاں دو پیسے کا فائدہ ہو۔ اسی طرح ایک دوسرے صاحب جون کی چلچلاتی دھوپ میں کھڑے تھے۔ کسی نے مشورہ دیا۔ یہ قریب درخت ہے۔ اس کے سائے میں کھڑے ہو جاؤ۔ جواب آیا، ’’سہ بہ راکڑے‘‘، کیا دوگے؟ یہ حضرت بھی تاجر تھے۔ تو اب آئیے مہنگائی کے موضوع پر، قارئین کو ہماری آج کی تحریر کا عنوان پڑھ کر حیرت تو ضرور ہوگی، لیکن یہ اصطلاح یا ترکیب جو نام بھی آپ اسے دیں، ہمارے بے تکلف دوستوں کی عطا ہے۔ جب ہم کچھ دنوں تک مہنگائی کے موضوع پر کچھ نہیں لکھتے تو ان کی جانب سے فرمائش ہوتی ہے۔ بہت دن ہوئے مہنگائی پر تم نے بکواس نہیں کی۔ ہماری اس نوع کی تحریر کو یہ نام دینا اس لئے بھی بنتا ہے کہ اگر ہم روزانہ اس سلگتے موضوع پر کاغذ سیاہ کرتے رہیں، ذمہ داروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ ظاہر ہے بکواس پر کون کان دھرتا ہے۔ پھر بھی مجبوری ہے، آج ہم ایک بار پھر یہی بکواس کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ نے توفیق دی تو آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ بات یہ ہے کہ جب ہم بازار میں نکلتے ہیں تو گرانی یعنی مہنگائی کاٹنے کو دوڑتی ہے۔ نہ جانے پھر کیوں ہمارا ذہن روز پڑتے ڈاکہ زنی کے واقعات کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ اغواکاری کے واقعات یاد آجاتے ہیں۔ کھوپڑی کے اندر بم پھٹنے لگتے ہیں۔ باردود سے بھرے ٹرک سینے پر دندنانے لگتے ہیں۔ مائیں اپنے جگر گوشوں سمیت قید حیات سے آزادی کے لئے ٹرینوں کے سامنے لیٹتی، نہروں میں کودتی اور زہر پھانکتی دکھائی دیتی ہیں۔ ایسے میں رحمان بابا ہمیں لاکھ سمجھانے کی کوشش کریں اور کہیں بچو گبھرانے کی ضرورت نہیں ، پیدا کڑے خدائے پہ فرق دا دنیا دہ، اللہ نے دنیا کی مخلوق میں فرق قائم کر رکھا ہے اور یہ کہ
؎ واڑہ پہ غوغا دی چی راغلے پہ دنیا دی
نہ ئی ھغہ اوگی پہ قرار دی نہ ماڑہ
دنیا کے سب لوگ غوغا کرتے دکھائی دیتے ہیں، بھوکے اور بھر پیٹے میں کوئی قرار نہیں۔ ہم نے کل بازار میں ایک ریڑھی بان سے انگور کا پوچھا، یہ باغ جمات کے قریب یعنی مسجد کے سائے میں کھڑا تھا۔ دو سوروپے کلو بتایا۔ جسے ہم خرید تو نہ سکے، البتہ اس کے ذائقے سے تصور میںشادکام ضرور ہوئے۔ اگر اپنے نفس کو قابو میں رکھنے کی یہ مشق جاری رہی تو ہم انشاء اللہ بہت جلد صوفی بن جائیں گے۔ ایک جنرل سٹور والا پرسوں طنزاً کہنے لگا۔ استا د جی پوتیوں کو روزانہ پانچ روپے کی پیپل منٹ پر ٹرخا دیتے ہو۔ کھبی جوس، چپس اور آئس کریم بھی لے دیا کرو۔ دل میں کہا بندہ خدا ہمیں آٹا خریدنے کے لالے پڑے تم ہم بھوکوں کے سرھانے پراٹھے ڈھونڈتے ہو۔ اس نے ہمارے زخموں پر مزید نمک پاشی کرتے ہوئے کہا۔ لوگ تو آج کل کی کڑکڑاتی سردیوں میں روزانہ اور وہ بھی شام کے اوقات میں ہزار ڈیڑھ ہزار کی آئس کریم خریدکر لے جاتے ہیں۔ ہم نے جواب میں کہا۔ ان کو ہر وقت دولت کی تپ چڑھتی رہتی ہے، اس کی ٹھنڈک کے لئے خریدتے ہوں گے بلکہ پھر بھی کم خریدتے ہیں ایسے لوگوں کو تو آئس کریم کی رضائی اوڑھ کر سونا چاہیے۔ آج ہم دراصل صرف ایک آئٹم پٹرول پر بات کرنا چاہتے تھے کہ لوگ اسے ام المہنگائی کہتے ہیں۔ آج سے یہی کچھ 25 سال پہلے ہمارے بیٹے نے موٹر سائیکل خریدی قیمت اس کی صرف سات ہزار روپے تھی اب اس کی قیمت ستر ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے۔ خواہش تھی کہ یہ موٹر کار کا روپ دھار لے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے، یہ خواہش، تمنا، آرزو 25 سال کی مسلسل دعاؤں کے بعد پوری ہوئی۔ اب ہم اپنی موٹر سائیکل کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس زمانے کی سوزوکی گاڑی دکھائی دیتی ہے کہ ان دنوں گاڑی کی یہی قیمت ہوا کرتی تھی۔ چنانچہ اب ہم بیٹے کے پیچھے موٹر سائیکل پر بیٹھ کر چشم تصور میں کار کے مزے لوٹتے ہیں۔ انسان گاڑی میں بیٹھنے کی خواہش اس لئے بھی کرتا ہے کہ اس سے حاسد ہمسایوں اور بدنیت دوستوں پر اپنے سٹیٹس کا رعب جما رہے۔ انہیں پریشان کیا جائے۔ اس کیفیت کا وہی لطف ہوتا ہے جو ہمارے گاؤں بغداد ہ کی کسی تھڑے والی چائے کی دکان میں بیٹھ کر کسی فائیوسٹار ہوٹل میں چائے پینے کا آتا ہے۔ ہم اپنی کھٹارا موٹر سائیکل کو اعلیٰ درجے کی سوزوکی کار اس لئے سمجھتے ہیں کہ ماشاء اللہ ایک لیٹر میں یہ بھی اتنی ہی کلومیٹر چلتی ہے جتنی قیمت کا ایک عام گاڑی میں پٹرول خرچ ہوتا ہے۔ اس رومانی تصور کے ذریعے پجیرو اور مرسڈیز بینز والے بھی اپنے درجات بلند کر سکتے ہیں۔ اپنی گاڑیوں میں ہیلی کاپٹر اور فورسیٹر جہازوں کے مزے لینا اب ان کی دسترس میں ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں اس مسلسل اضافے سے صرف میری کلاس ہی تبدیل نہیں ہوئی بلکہ عوام کے سارے طبقے اب اپ گریڈ ہوگئے ہیں۔ مثلاً ہماری طرح موٹر سائیکل اور سکوٹر والا اگر کسی قیمتی گاڑی میں نہیں تو کم از کم سنی نسان میں ضرور سوار ہوگیا ہے، بس میں سفر کرنے والے چپڑقناتی اب موٹر سائیکل کے مزے لوٹے، رکشوں اور ٹیکسیوں میں سفر کرنے والوں کے تو اب مزے ہی مزے ہیں کیونکہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے کرائے بھی بڑھ گئے ہیں اور اب رکشے میں بیٹھی سواری خود کو ہوا میں اڑتی محسوس کرتی ہے۔ یہ ہم ذاتی تجربے کی روشنی میں کہتے ہیں۔ پشاور بس سٹینڈ سے جس ٹیکسی کا پندرہ بیس سال پہلے 50 یا اسی روپے کرایہ تھا آج اسی یونیورسٹی تک پانچ سو روپے دینا پڑتا ہے۔ یہ بات تو ہم بتانا بھول گئے کہ موٹر سائیکل خریدتے وقت پٹرول دس روپے لیٹر ملتا تھا۔ اب اس کی قیمت میں کتنے فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ یہ آپ وفاقی مشیر خزانہ سے رابطہ قائم کرکے پوچھ سکتے ہیں ہمیں تو آٹے کی بیس کلو والی بوری کی قیمت معلوم ہے۔ اس زمانے میں 180یا 200 روپے میں دستیاب تھی۔ اب اس کی قیمت ایک ہزار روپے ہے۔ کیا میں نے جھوٹ بولا۔
٭٭٭٭٭٭٭

Google+ Linkedin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*
*
*