ہمارے روایتی نشے (دوسرا حصہ)

ہمارے روایتی نشے (دوسرا حصہ)

چلم کے عادی افراد کو جب کوئی یہ نصیحت کرتا ہے کہ اس کے پینے سے صحت خراب ہوتی ہے تو وہ جواب میں یہ کہتے ہیں کہ ’’چلم تازہ پہ تازہ پہ کال کے دولس چرگان،کہ تا تہ ئے درکڑو نقصان نو دائے زہ علی خان‘‘ یعنی چلم تازہ بہ تازہ پیاکرو اور سال میں 12 مرغ کھایا کرو۔ اگر پھر آپ کوکوئی نقصان پہنچا تو اس کا ذمہ دار میں علی خان ہوںگا۔‘‘ چوںکہ آج سے کئی سال پہلے لوگوں کی مالی حیثیت اتنی نہیں تھی کہ وہ روزانہ اچھی اچھی خوراک کھاتے اس لئے وہ یہ بھی بڑی غنیمت سمجھتے تھے اگر کبھی انہیں مہینے میں ایک آدھ بار ہی کوئی ایک مرغ کھانے کے لیے مل جاتا۔ اسی طرح پشتونوں کے اکثریتی علاقوں میں جب کوئی کسی راہگیر مہمان کو اپنے ہاں تھوڑی دیرکے لیے قیام یا کھانے پینے کی دعوت دیتا ہے تو اس سے کہتا ہے کہ ’’ رازہ کنہ سہ اوبہ چلم راسرہ اوکڑہ‘‘ ( آئیے نہ ہمارے ساتھ پانی چلم کرتے جاؤ)۔ چلم یا پھر حقہ ہماری اشتراکی اور مساوی زندگی کی نمائندہ چیز تھی کیوںکہ اس کے نچے پر ہرکوئی بیک وقت ہونٹ رکھتا تھا۔ اسی ایک چلم کا مشترکہ استعمال ہوتا تھا البتہ غریب یا دہقان صرف اتناکرتا کہ خان، نواب یا جاگیردار کے ہاتھ سے تمباکو لے کر خود چلم بھرتا اور سب سے پہلے اسی خان، نواب کو پلاتا تھا۔ لیکن جب سے سگریٹ ایجاد اور اس کا استعمال شروع ہوا تب سے چلم کی روایت آہستہ آہستہ دم توڑنے لگی ہے کیوںکہ سگریٹ میں مختلف قسم کے برانڈز نے معاشرتی اور طبقاتی بنیادوں پر ان لوگوں کو تقسیم کر دیا جو لوگ کبھی اکٹھے دائرہ بنا کر یا حجرے میں ایک ساتھ بیٹھ کر ایک ہی قسم کا تمباکو حقے میں استعمال کرتے تھے۔ لیکن سگریٹ کے استعمال نے اس اجتماعی زندگی کو تہس نہس کر ڈالا۔ اب خان، نواب اور جاگیردارکی سگریٹ کا برانڈ اور غریب مزدور اورکاشتکارکی سگریٹ کے برانڈ میں زمین اور آسمان کا فرق آچکا ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ کہ اس روایتی نشے چلم اور حقے کا استعمال بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہے لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ چلم اور حقے نے ہماری معاشرتی اور ثقافتی زندگی میں بہت مثبت، رومانوی، صوفیانہ اور ادبی کردار بھی ادا کیا ہے جس کا اعتراف نہ کرنا بھی بہت بڑی علمی خیانت ہوگی۔ کہا جاتا ہے کہ تمباکو کا پائپ فلسفی کے لبوں سے حکمت و دانش حاصل کرتا ہے اور احمق کے ہونٹ سی دیتا ہے۔ پائپ ایسی گفتگوکو ترویج دیتا ہے جو مفکرانہ، خیال انگیز، وسیع النظر اور تکلف یا تصنع سے بالکل عاری ہوا کرتی ہے۔ مغل سلاطین بھی شراب کے ساتھ ساتھ حقہ بڑے شوق سے پیتے تھے۔ جدید تہذیب نے اگر ایک جانب ہمارے حجرہ کلچرکو نیست و نابودکر ڈالا تو دوسری طرف اسی حجرہ سے وابستہ چیزیں، جو محلے اورگاؤں کے لوگوں کو ایک ساتھ مل بیٹھنے کا موقع فراہم کرتی تھیں، بھی تقریباً ختم ہی ہوگئی ہیں یا آہستہ آہستہ ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔ تمباکو سے پیدا ہونے والی مختلف قسم کی نشئی چیزوں چلم، سگار، پائپ، سگریٹ اور نسوار کا تاریخی سفر بہت طویل ہے اور ان میں سے ہر ایک پر الگ الگ تفصیلی اور تحقیقی مضمون لکھا جا سکتا ہے۔ ہم مختصراً صرف چند روایتی نشوں کے بارے میں اشارہ کرنا چاہتے ہیں ورنہ ہر نشہ آور چیز کے ساتھ ہماری معاشرتی، تہذیبی اور نفسیاتی زندگی کے جو مختلف تصورات اورکیفیات وابستہ ہیں اس کے لیے ایک الگ دفتر درکار ہوگا۔ چلم ہی کے حوالے سے پشتو کی مقبول عوامی صنٖف ٹپہ میں ایک محبوبہ اپنے عاشق کے بارے میں کہتی ہے کہ ’’ میرے محبوب نے نیا نیا چلم پینا شروع کیا ہے، اس کی چلم کے لئے اپلے کی آگ، میں اپنی نت (پیزوان) پر لے کر جا رہی ہوں۔ ’’اے اللہ مجھے میرے محبوب کے چلم کا دھواں بنا دے کہ مجھے اس کے دل کا حال معلوم ہو جائے۔‘‘ ’’اے میرے محبوب! تجھے چلم پینے کا عادی کس نے بنایا کہ اب تیرے کاغذی باریک ہونٹوں سے ہرے ہرے دھوئیں اٹھتے جا رہے ہیں۔‘‘ ’’میرا محبوب چلم پینے کا شوقین ہے، میں اپنی مخملی انگلیوں میں اس کے لیے آگ لے کر جا رہی ہوں۔‘‘ چلم کے علاوہ پختونوں کے روایتی نشوں میں نسوارکی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا اور نہ اس بات سے کہ نسوارکا جتنا استعمال اور رواج پختونوں میں پایا جاتا ہے دنیا کی دیگر قوموں میں ہمیں نظر نہیں آتا جس کی بنیادی وجہ اس قوم کی معاشی اور علمی پسماندگی ہے۔ غربت کے مارے پختونوں کی اکثریت دیگر مہنگی نشئی چیزوں کے استعمال کی مالی طاقت نہیں رکھتے اس لیے سب سے سستے نشے، نسوار، ہی پر مجبوراً گزارہ کرتے رہتے ہیں اور اپنی معاشی اور تہذیبی پسماندگی پر پردہ ڈالنے کی خاطر نسوار کے نشے کو جنات کے نشے کا نام دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نسوار کو صرف پختونوں کا نشہ تصورکیا جاتا ہے اور پختون اور نسوار لازم و ملزوم سمجھے جاتے ہیں۔

Google+ Linkedin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*
*
*