نیب سوالات کی زد میں

نیب سوالات کی زد میں

کئی مہینے آصف علی زرداری صاحب گرفتار رہے۔ گرفتاری کے باوجود آصف زرداری کیس سست روی کا شکار کیوں ہے؟ سندھ ہائی کورٹ کا نیب سے سوال۔ نیب ذرائع کے مطابق پانامہ کیس میں جو خامیاں تھیں ان کی بنیاد پر ہائی کورٹ نے فیصلہ معطل کیا تھا ، اس قسم کی خامیاں ہم آصف زرداری کیس میں دور کرہے ہیں، ہم سست روی سے کام نہیں لے رہے ہیں بلکہ ان خامیوں کو دور کرکے احتیاط کر رہے ہیں، احتیاط کو سست روی نہ سمجھا جائے اور نیب کو یقین ہے کہ آصف زرداری اور ان کی بہن کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کے متعلق جو شواہد ہیں وہ بہت مضبوط ہیں اور کیس آگے بڑھے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب ملزمان ضمانت کے لئے اعلیٰ عدالتوں میں چلے جا تے ہیں تو عدالت ملزمان کو ضمانت دیتے ہوئے جو سوالات اٹھاتی ہے ان سے نیب کے کیسز کی بنیاد پر سوالات اٹھ جاتے ہیں۔ مثلاً آغا سراج درانی کی ضمانت کی رہائی کے موقع پر سندھ ہائی کورٹ نے جو کچھ کہا اس سے مزید سوالات نیب پر اٹھ گئے ہیں۔ معاملہ یہ ہے کہ نیب ملزم کو گرفتار کرتا ہے لیکن یہ گرفتاری ہائی عدالتوں میں نیب کے لئے شرمندگی کا باعث بنتی ہے بلکہ بار بار بن رہی ہے اور عدالت میں ملزمان کی درخواستوں پر فیصلے آتے ہیں، عدالت نیب کیسز کے میرٹ پر سوالات اٹھاتی ہے کہ جب ملزم کا کیس انکوائری کی سطح پر ہے اور ملزم بار بار پیش ہو رہا ہے توگرفتار کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر ملزم کے فرار کا خدشہ ہے تو نام ای سی ایل پر ڈال دیں۔ ایسے کئی کیسز ہیں اور ان میں تازہ کیس سراج دورانی کا ہے۔ سراج درانی پر آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام ہے جس پر عدالت نے نیب کے کردار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ نیب نے رواں سال فروری میں انہیں آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں گرفتار کیا تھا۔ ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا،کروڑوں روپے کے زیوارات،گاڑیاں اور زمینوں کے دستاویزات ملنے کا دعویٰ کیا گیا۔ پھر 30 مئی کو ان کے خلاف ریفرنس داخل کیا گیا مگر دس مہینے گزر جانے کے باوجود ان کے خلاف کیس ثابت نہ ہوسکا اور بالآخرسندھ ہائی کورٹ نے دس مہینے کے بعد ان کی ضمانت منظور کی۔ معزز جج صاحب نے فرمایا کہ نیب کی رو سے ملزم پر ایک ارب 60کروڑکے اثاثوں کا دعویٰ ہے لیکن نیب اس الزام کو ثابت نہ کرسکا۔ نیب پراسیکیوٹر نے متضاد موقف اختیار کیا، نیب کا دعویٰ ہے کہ سراج دورانی کی بیٹیوں کے پاس زمین نہیں لیکن عدالت میں ان کی بیٹیوں کے نام پر کاغذات دکھائے گئے۔ نیب نے جو بے نامی گاڑیاں پکڑی ہیں وہ یہ دعویٰ ثابت بھی نہ کرسکا کہ ان کا تعلق سراج دورانی سے ہے۔ زمینوں کی بھی تفتیش بھی نہیں کی گئی کہ سراج دورانی کی زمینیں ان کی آبائی ہیں یا خریدی گئی ہیں حالانکہ سراج درانی ایک خاندانی زمیندار ہیں نہ نیب زیورات اور زمینوں کی مالیت ثابت کرسکا ہے۔ فیصلے کے مطابق سراج کے گھر پر چھاپہ بھی قانون کے برعکس قرار دیا گیا۔ آغا سراج درانی کے گھر پر چھاپہ مارنے والے قانون سے لاعلم تھے،گھر پر غیر پیشہ وارانہ انداز پر چھا پہ مارا گیا۔ خوف و ہراس پیدا کیا گیا۔ نیب نے یہ بھی اقرار کیا کہ آغا سراج درانی تفتیش میں تعاون بھی کر رہے تھے جس پر عمر سیال صاحب کو پوچھنا پڑا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ سراج درانی کو پھرنیب نے کیوں گرفتار کیا؟ نیب کے چیئر مین کو اپنی تفتیش میں احتیا ط کی جانی چاہیے۔ نیب کو تفتیشی افسران کی تربیت اور گرفتاری کے طریقہ کار پر غور کرنا چاہیے۔ نیب کا یہ تھانہ کلچر بہت مایوس کن ہے۔ نیب کی عوام کی نظروں میں بھی ساکھ ختم ہوتی جا رہی ہے۔ شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسمعٰیل پر بھی نیب کا دعویٰ ہے کہ ان دونوں ملزموں نے سرکاری خزانہ کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے لیکن ابھی تک ان پر ذاتی کرپشن کا ایک روپیہ بھی ثابت نہ کرسکا ہے اور ان پر یہ الزام بھی ہے کہ پی ایس او کے سابق ایم ڈی عمران الحق کی تعیناتی ان کو ذاتی فائدہ پہنچانے کے لئے کی گئی۔ پچھلے دنوں عمران الحق کی ضمانت کے موقع پر اسلام آباد عدالت کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کی ٹیم ایسا کوئی مواد پیش نہ کرسکی جو عمران الحق کی گرفتاری کا جواز فراہم کرتا ہو، ہمارے سامنے جو کیس ہے وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی اعلیٰ مثال ہے، خاص طور پر اس وقت جب ملزم تحقیقات میں تعاون کر رہا ہو یا اس کے فرار ہونے کا کوئی خدشہ بھی نہ ہو، ان حالات میں ملزم کو قید میں رکھنا اس کو سزا دینے کے برابر ہے۔ یہی کچھ چوہدری شوگر ملز کیس میں بھی دیکھنے کو ملا۔ 18 اگست کو نیب نے اس وقت مریم نوازکو گرفتار کیا جب وہ ملاقات کے لیے نواز شریف کے پاس پہنچ گئی تھیں۔ انہیں نواز شریف کے سامنے گرفتا ر کیاگیا تھا۔ نیب نے یہ الزام لگایا کہ انہوں نے غیر ملکیوں سے شیئر خریدے ہیں مگر ان غیر ملکیوں کا کو ئی وجود نہیں ہے، ان پر منی لانڈرنگ کا الزام بھی لگایا گیا مگر ضمانت دیتے وقت لاہور ہائی کورٹ نے نیب پر سوالات اٹھائے، فیصلے میں پراسیکیوشن نے یہ کیس ہی نہیں بنایاکہ یو اے ای میں رئیل اسٹیٹ میں کی گئی سر مایہ کاری میں یہ پیسے کسی جرم سے حاصل کئے گئے ہیں نہ پراسیکیوشن نے یہ کیس بنایا کہ یہ رقم بلیک منی ہے یا یہ پیسہ کسی عالمی تسلیم شدہ جرم سے حاصل کیا گیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ اب تک نیب مریم اور نواز شریف کا ان ملکوں سے تعلق بھی جوڑ نہ سکا اور نیب کو اس ضمن میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس قسم کی باتیں سندھ، پنجاب، اسلام اباد اور دیگر ہائی کورٹس کے مختلف ججوں نے نیب اور نیب کی گرفتاریوں کے بارے میں بار بار کہی ہیں۔ اسی طرح آشیانہ ہاؤسنگ سکیم میں شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا۔ آج سے 13 مہینے پہلے ڈی آئی جی نیب نے شہباز شریف پر الزام لگایا کہ شہباز شریف نے آشیانہ کیس میں قومی خزانہ کو چار ارب کا نقصان پہنچایا ہے اور اپنے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ شہباز شریف کی ضمانت تو منظور ہوئی مگر نیب 13 مہینے میں ثبوت کے دعوے کے باوجود بھی اپنے الزامات ثابت نہ کرسکا۔ یہ الزامات بھی لگائے کہ اس سکیم میں 61 ہزار متاثرین کو نقصان دیا گیا ہے اور متاثرین میں کسی کو بھی زمین کا ایک ٹکڑا تک منتقل نہیں کیا گیا مگر ابھی تک ان متاثرین میں کوئی بھی شہباز شریف کے خلاف نیب کے سامنے پیش نہیں ہوا اور نہ اب تک نیب شہباز شریف کا اس کیس سے کوئی تعلق بھی ثابت کرسکا اور اب سپریم کورٹ نے بھی شہباز شریف کو اس کیس میں اچھا بچہ کہا۔ اسی طرح رمضان شوگر ملز کیس میں نالے کی تعمیر کے متعلق ڈی جی نیب نے دعویٰ کیا کہ اس شوگر مل کے ڈرین کی تعمیر پر 21 کروڑوں خرچ کرکے سرکاری خزانہ کو نقصان پہنچا یا ہے۔ نیب کے اس رویے پر ہائی کورٹ نے یہ کہا کہ منصوبے کی منظور ی اور تعمیر قانون کے مطابق کی گئی ہے اور اگر نیب کو یہ اختیار دیا جائے تو نیب کے ہاتھ میں بے تحاشہ اختیارات آجائیں گے اور یہ ہر رکن اسمبلی کے خلاف کیس تیار کرکے ریفرنس داخل کر سکتا ہے۔ اس طرح افراتفری پیدا ہو جائے گی اور کوئی بھی ممبر اپنے علاقہ میں کوئی ترقیاتی کام نہیں کرے گا۔ اسی طرح نیب نے جب صاف پانی کیس میں قمرالاسلام اور اجمل وسیم کو گرفتا ر کیا تو لاہو ر ہائی کورٹ نے نیب کی یہ گرفتاری بدنیتی پر مبنی قرار دی اور اپنے فیصلے میں لکھا کہ دونوں نے قانون اور ضابطے کے مطابق کام کیا ہے اور بورڈ آف ڈائریکٹر کے قواعد کے مطابق کام کیا اور انہیں رہا کیا۔ جب ڈی جی نیب لاہور سے پوچھا گیا کہ آپ کبھی کسی کو انکوئری،کسی کو انوسٹی گیشن کی سطح پر گرفتار کرتے ہیں اور کسی کو ریفرنس تیار کرنے کے بعد بھی گرفتار نہیں کرتے تو موصوف نے تاریخ میں لکھنے والی بات کہی کہ جو لوگ طاقتور ہوتے ہیں ہم انہیں انکوائری کے لیول پر اس لئے گرفتارکرتے ہیں کہ کہیں اپنی طاقت کے بل بوتے پر ریکارڈ نہ جلائیں، یہ جو کبھی کبھی کسی دفتر میں آگ لگ جاتی ہے یہ دراصل ریکارڈ جلانے کے لئے ہوتی ہے لیکن راقم صرف یہ کہتا ہے کہ مالم جبہ اور بی آر ٹی کیسز، جو کہ ریفرنس کے مراحل تک پہنچ چکے ہیں، میں ملوث لوگوںکو اگر گرفتار نہیں کیا جاتا تو پھر طاقتور کون ہیں ؟ باقی میں چپ کے مرض کا شکار ہو چکا ہوں، اندازہ آپ خود لگائیں۔

Google+ Linkedin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*
*
*