ہمارے روایتی نشے (تیسرا حصہ)

ہمارے روایتی نشے (تیسرا حصہ)

اردو زبان کے معروف ناول نگار، فلمساز اور خاکہ نویس رحیم گل کہا کرتے تھے کہ میں فلم انڈسٹری میں صرف اس لیے آیا ہوں کہ پختون کے ہاتھ سے نسوار کی ڈبیہ پھینکوا دوں۔ حالانکہ نسوار اس قوم کی ایجاد نہیں ہے بلکہ بعض مورخین کے خیال میں جس طرح ورجینیا تمباکو امریکا کی پیداوار ہے اس طرح نسوار کو بھی امریکا ہی کی ایجاد سمجھا جاتا ہے۔ امریکا کے لوگ تمباکو کے پتوں کو دیگر پتوں کے ساتھ ملا کر پیستے تھے اور اسے جانوروں کی ہڈیوں سے بنے ہوئے ڈبوں اور بٹوؤں میں محفوظ کرتے تھے۔ نسوار ابتداء میں معاشرے کا شرفاء طبقہ استعمال کرتا تھا اور اس کا استعمال بھی ایک سٹیٹس سمبل تھا۔ بعض مورخین کے مطابق اس کا آغاز سولہویں صدی میں پرتگیزیوں نے کیا تھا جبکہ چین اور تائیوان میں فزیشن سردرد‘ دانت‘ کھانسی‘ بخار اور خواب آوری کیلئے مریضوں کو نسوار ہی استعمال کرنے کی ہدایت کرتے تھے۔ چین میں 1684ء میں اس کے استعمال کی شہادتیں ملی ہیں۔ چینی لوگ نسوار کیلئے مخصوص قسم کے مرتبان استعمال کرتے تھے۔ ہر کسی کے گھر میں نسوار کے لیے مخصوص قسم کے مرتبان پڑے ہوتے تھے۔ یہ مرتبان سنگ مرمر‘ شیشے‘ ہیرے‘ مخصوص رنگین پتھر‘ سونے اور چاند ی کے بنے ہوتے تھے۔ ہر چینی اپنی استطاعت کے مطابق گھر میں نسوار کے مرتبان رکھا کرتا تھا۔ یہ ابتداء سے اتنے عام تھے کہ اب بھی تائیوان کے نیشنل پیلس میوزیم میں تمباکو کے پرانے بوتل پڑے نظر آتے ہیں اس وقت کے پینٹر جن پر مخصوص رنگین نقش و نگار کرتے تھے۔ بعض مورخین کے مطابق جس طرح یہ معلوم نہ ہو سکا کہ تمباکو کا استعمال کب سے جاری ہے اسی طرح نسوار کی تاریخ کا بھی صحیح اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تاہم ان کے مطابق جب کرسٹوفر کولمبس نے نئی دنیا دریافت کی تو اس وقت ہیٹی اور نیوزی لینڈ میں اس کا استعمال عام تھا۔ یورپی شہریوں نے یہاں پر نسوار کا استعمال دیکھا اور بعد میں خود بھی اسے استعمال کرتے رہے۔ بعض تاریخی حوالوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یورپ میں آنے سے قبل امریکی ریڈ انڈین نسوار استعمال کرتے تھے لیکن وہ تمباکو نوشی کے بجائے نسوار کی شکل میں تمباکو کھاتے اور اپنا نشے کا شوق پورا کرتے تھے۔ ان حوالوں کے مطابق امریکا کے اپنے دوسرے سفر میں 1494-96ء میں کرسٹوفر کولمبس نے دیکھا کہ انڈین پاؤڈر کی شکل میں تمباکو کھاتے ہیں جسے وہ اپنے ساتھ لے گیا اور اس کی وجہ سے نسوار سپینش اور فرانسیسی لوگوں میں بھی اس کا اس طرح استعمال مقبول عام ہوگیا۔ فرانس پر حملوں کے دوران بادشاہ چارلس نے نسوار کو دریافت کیا اور اسے اپنے ساتھ انگلینڈ واپس لے گیا جہاں اس نے نسوار کو متعارف کروایا اور پھر یہ لوگوں میں بہت عام ہوتاگیا۔ کنگ جارج تھری کی ملکہ شارلیٹ بھی اس کی انتہائی دلدادہ تھی جو ماہانہ پاؤنڈز کے حساب سے نسوار کھا جاتی تھی۔ مورخین کے مطابق پرتگال میں متعین فرانسیسی سفیر جین نکوٹ 1560ء میں جب اپنے ملک واپس آرہا تھا تو وہ اپنے ساتھ تمباکو ( نسوار ) کی شکل میں فرانس لے آیا جہاں پر ملکہ کیتھرائن ڈی میگی نے اسے سر درد کے لیے استعمال کیا۔ سویڈن میں نسوار کا استعمال 1600ء میں ہوا۔ 1700ء میں ناک کے ذریعے سونگھ کر نسوار استعمال کرنا ایک فیشن تھا۔ بعد میں یہ پورے سویڈن میں اتنا پھیل گیا کہ سویڈن میں نسوار کے لیے ایک علیحدہ فیکٹری بن گئی۔ سویڈن میں نسوار کو اب بھی سن یا ایٹن کہا جاتا ہے۔ 1702ء میں پہلی مرتبہ نسوار کا استعمال عام لوگوں میں پھیل گیا۔ برطانوی نیوی نے ایک چھاپے کے دوران متعدد سپینش جہاز پکڑے اور ان کے سیلرز سے جہازوں میں تمباکو ( نسوار ) کی شکل میں ایک بڑی مقدار پکڑی گئی۔ برطانیہ واپسی پر سیلرز نے یہی نسوار انگلینڈ کے مختلف علاقوں میں متعارف کرائی اور وہاں پر بھی نسوار بنانے کا عمل شروع ہوگیا اور بعد میں حال یہ ہوا کہ ہر کوئی نسوار استعمال کرنے لگا۔ شاعر الیگزینڈر پاپ، چارلس ڈاؤن، ڈیوک آف ولنگٹن اور لارڈ نیلسن نسوار کے عادی تھے۔ چین کا اہم شہر بیجنگ ابتداء ہی سے نسوار کے حوالے سے اہم رہا ہے۔ یہاں پر چینی حکماء میڈیکل ادویہ کے طور پر نسوار استعمال کرنے کی ہدایت کرتے تھے۔ خصوصاً دمے کے مریضوں کے لیے اس کا استعمال لازمی تھا۔ اگرچہ لفظ SNUFF سترہویں صدی کے وسط میں ہالینڈ والوں کی ایجاد سمجھا جاتا ہے اور یہ ان پسے ہوئے تمباکو کو کہتے تھے جو سر درد اور خون کی بندش کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ جس وقت کولمبس 1493ء میں اپنی مہم پر روانہ ہو رہے تھے تو انہیں اپنے ساتھیوں نے یہ معلومات دی تھیں کہ ہندوستان کے لوگ نسوار استعمال کرتے ہیں اس لیے اس کا استعمال اور رواج بہت قدیم ہے تاہم پشتوکے قدیم شعراء میں رحمن بابا نے اپنی شاعری میں چلم اور تمباکو کا ذکر کیا ہے لیکن نسوار کا ذکر کسی بھی قدیم شاعر کے کلام میں نظر نہیں آتا البتہ جدید شاعروں میں امیرحمزہ شنواری نے نسوار کا ذکر کیا ہے۔ بعض ممالک مثلاً چین، تبت اور افریقہ کے آثار قدیمہ سے چند نوادرات ایسے ملے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نسوار کا رواج ان ممالک کے قدیم باشندوں میں موجود تھا اور ہوسکتا ہے کہ نسوار کے نشے کی روایت اور تاریخ بھی انہی ممالک سے شروع ہوئی ہو۔ نسوار 1660ء عیسوی میں انگریزی تہذیب کا ایک اہم جزو سمجھا جاتا تھا۔ سگریٹ کے مقابلے میں نسوارکو پاک، سادہ اور خوشگوار نشہ سمجھا جاتا تھا۔ ولیم میری اور ملکہ زینی کے دور حکمرانی میں نسوار مہذب اور فیشن ایبل لوگ استعمال کرتے تھے۔ ہر مہذب شہری کے پاس نسوار کی ڈبیہ ہوا کرتی تھی۔ اور اس ڈبی پر لعل و جواہر بھی سجائے ہوتے تھے۔ اس کا استعمال صرف مردوں تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ شرفاء کی خواتین بھی نسوار شوق سے استعمال کرتی تھیں۔

Google+ Linkedin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*
*
*