ہمارے روایتی نشے (آخری حصہ)

ہمارے روایتی نشے (آخری حصہ)

پشتو زبان کے معروف ادیب اور محقق پرویش شاہین اپنی کتاب ’’د پختنو ژوند ژواک‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’مسٹر ایچ میکا لینڈ اپنی کتاب ’’نسوار اور نسوار کی ڈبی‘‘ میں ایک جرمن منصف کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ تمام طبقوں میں نسوار حیرانگی کی حد تک مقبول ہوئی تھی، میں دیکھتا ہوں کہ بڑے بڑے امیروں نوابوں سے لے کر کسان اور مزدور بڑے فخر کے ساتھ اپنی اپنی ڈبی سے نسوار منہ میں ڈالتے ہیں، بعض لوگ نسوار کو اپنی ناک میں اتنی زیادہ مقدار میں سونگھتے ہیں کہ ان کے نتھنے نسوار سے گندے نظر آتے ہیں۔ مسٹر ایچ وی مارٹن نے اپنی کتاب ’’لندن کے بھوت‘‘ میں ایک نسواری خاتون مسز مارگریٹ کا ایک عجیب قصہ بیان کیا ہے کہ جب یہ خاتون 1776ء میں فوت ہوئی تو مرنے سے قبل اس نے یہ وصیت کی تھی کہ اس کی لاش کو نسوار سے ملا دیا جائے، اس کا کفن نسوار سے آلودہ رومالوں سے بنایا جائے اور اس کی وصیت کے مطابق اس کا جنازہ چھ مشہور نسواریوں نے اٹھایا تھا جنہوں نے کالے رنگ کی ٹوپیوں کی بجائے نسوار سے آلودہ ٹوپیاں پہن رکھی تھیں۔ قبر تک پورے راستے پر نسوار پھینکی گئی تھی اور جنازے میں شریک لوگوں کو زبردستی نسوار کھانا پڑی۔‘‘ پشتو میں بعض لوگ نسوار کو ’’روشن دماغ‘‘ بھی کہتے ہیں اور اسے جناتی نشے کا نام بھی دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسے نیند بھگا دینے والا نشہ بھی کہا جاتا ہے۔ میڈیکل نکتہ نظر سے نسوار سے منہ کی بدبو، دانتوں اور معدے کی مختلف بیماریاں اور آنکھوں کی بینائی متاثر ہوتی ہے جب کہ بعض لوگوں کے خیال میں یہ ایک قسم کی دوا بھی ہے جو دانت کے درد، زخم سے خون کی بندش، بند نزلہ کھولنے کے لیے ناک کے ذریعے سونگھنا اور پیٹ کے کیڑوں کے خاتمے کے لیے پانی میں ڈال کر پینا چاہیے۔ پہلے زمانے میں لوگ اپنے لیے سپیشل نسوار خود تیار کرتے تھے۔ پختونوں کے ہر حجرے میں دیگر چیزوں کے علاوہ نسوار تیارکرنے کی جگہ اور مخصوص پتھر بھی موجود ہوتا تھا۔ نسوار جتنی ہی تیز اور کٹی ہوتی ہے اتنی ہی زیادہ پسند کی جاتی ہے۔ بعض لوگ اس میں خوشبو کے لیے الائچی اور لونگ بھی استعمال کرتے ہیں۔ اب تو ہندوستان سے تیار پیک بند خوشبودار نسوار بھی آتی ہے۔ اس کے علاوہ ملائشیا سے بھی ڈبیوں میں بند نسوار آتی ہے۔ پہلے تو ایک عام رواج تھا کہ نسوار کے لیے خوب صورت ڈبیہ استعمال کرتے تھے جس پر نہایت ہی دل کش نقش و نگار اور قیمتی پتھر لگائے جاتے مگر دور جدید میں پلاسٹک کی چھوٹی چھوٹی تھیلیوں میں نسوار بیچی جاتی ہے۔ پہلے چائنا اور کوئٹہ کی بنی ہوئی ڈبیاں بہت مشہور تھیں۔ افغانستان کے اکثر لوگ اسے ناک کے ذریعے استعمال کرتے ہیں۔ نسوار اب ایک انٹرنیشنل نشہ بن چکا ہے اور دنیا کے بیش تر ممالک میں اس کا استعمال عام ہوتا جا رہا ہے کیوںکہ اب اس نے باقاعدہ ایک صنعت کی شکل اختیار کر لی ہے جس سے لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ کئی صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی نسوار لوگوں میں مقبول عام ہے اور اس کا استعمال کرنے والوں میں کم عمر بچے‘ نوجوان‘ مرد اور بزرگوں کیساتھ ساتھ خواتین بھی شامل ہیں جو کھلے عام اور چوری چھپے اس کا استعمال کرتی ہیں۔ خیبر پختونخوا کے ہر تیسرے اور چوتھے شخص کی جیب میں نسوار کی پُڑی لازمی پڑی ہوتی ہے۔ نسوار کی ہر بازار میں دکانیں ہیں۔ اس کا استعمال بھی لوگوں میں اتنا عام ہے کہ لوگ دوران کام بھی نسوار کی پڑیا نکال کر مخصوص گولی بنا کر اسے منہ میں ڈال لیتے ہیں۔ پختونوں میں چائے اور نسوار کا زیادہ استعمال ایک عام سی بات ہے۔ پان کی طرح منہ میں ڈال کر تمباکو کا نشہ لینے والے لوگ نسوار کی خوشبو سے نسوار کی تازگی کا اندازہ کرلیتے ہیں۔ اگرچہ نسوار منہ میں بدبو پیدا کرتا ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق ہونٹوں کے کینسر کا باعث بھی بنتا ہے تاہم پھر بھی اس کے استعمال میں کوئی کمی نہیں آرہی اور یہ صدیوں سے استعمال ہوتا آرہا ہے۔ اس وقت نسوار کا سب سے زیادہ استعمال پاکستان‘ افغانستان‘ ازبکستان، دبئی، قطر بحرین، ابوظہبی، ملائیشیا، سعودی عرب اور سویڈن کے مختلف حصوں میں کیا جاتا ہے۔ اس کا استعمال پاکستان اور افغانستان کے سرحدی اور پہاڑی علاقوں میں رہائش پذیر خواتین بھی بہت زیادہ کرتی ہیں۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ اتنی صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی نسوار کی طلب میں کوئی کمی نہیں آئی اور لوگ اس کا استعمال اب بھی باقاعدگی سے کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے گولی کی شکل میں جبکہ بعض نسوار کو چورن کی شکل میں ہونٹ کے اندر دباتے ہیں اور مخصوص وقت گزر جانے کے بعد اسے تھوکتے ہیں۔ نسوار کے عادی لوگوں کو اس کے مختلف ذائقوں کا پتہ ہوتا ہے اور بقول ان کے جو لوگ نسوار نہیں کھاتے ان میں کسی بھی چیز کو برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔ نسوار کو پہلی مرتبہ استعمال کرنے پر چکر آنے اور قے آنے کی شکایت ہوتی ہے جبکہ اس کو مسلسل استعمال کرنے والے افراد کو اگر یہ نہ ملے تو ان کا گزارا مشکل سے ہوتا ہے۔ دانتوں کے ڈاکٹروں کے مطابق یہ نہ صرف مسوڑھوں کو خراب کرنے بلکہ ہونٹوں کا کینسر‘ دانتوں کو متاثر کرنے کیساتھ ساتھ منہ کا ذائقہ خراب کرنے اور بدبو پیدا کرنے کا باعث بھی بنتا ہے۔
٭٭٭٭٭

Google+ Linkedin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*
*
*