کیا دل تھا دھڑکنوں کے تلاطم میں سوگیا

کیا دل تھا دھڑکنوں کے تلاطم میں سوگیا

کاسترو کی مقبولیت کے پیش نظر آرٹو ڈوکسو پارٹی نے انہیں عام انتخابات میں پارلیمنٹ کا ٹکٹ دیا تاہم جنرل فلجینسیو باٹسٹا (Fulgencio Batista) نے اقتدار پر قابض ہو کر انتخابات منسوخ کر دیے۔ کاسترو نے فاٹسٹا کے خلاف آئین کو پامال کرنے کے الزام کے تحت عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا مگر انہیں اس وقت سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب عدالت نے نہ صرف ان کی درخواست مسترد کر دی بلکہ انہیں سماعت میں شریک ہونے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ عدالت کی ناانصافی نے کاسترو کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تبدیلی کی جدوجہد اور عدم تشدد کی سیاست سے دل برداشتہ کر دیا۔ اب ان کی نظر میں ملک میں سیاسی، سماجی اور معاشی تبدیلی کے لیے انقلاب کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔کیوبا میں سماجی ناہمواری، معاشی ناانصافیوں اور حکمراں طبقے کی بدعنوانیوں کے ساتھ جنرل باٹسٹا کی حکومت کی امریکا نوازی اور امریکا کی کیوبا میں بڑھتی ہوئی مداخلت نے کاسترو کو مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا اور انہوں نے وکالت ترک کر کے اپنے حامیوں کے ساتھ مل کر زیر زمین انقلابی تنظیم قائم کر لی۔ اس تنظیم میں ان کے بھائی اور موجودہ صدر راہول کاسترو بھی شامل تھے۔ کاسترو نے باٹسٹا کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے منصوبہ بندی شروع کر دی اور اسلحہ اور بارود جمع کرنے لگے۔ اپنے منصوبے کو حتمی شکل دینے کے بعد بالآخر انہوں نے 26 جولائی 1953ء کو سانتیا گوڈی میں واقع مون کاڈا (Moncada) بیرکس پر حملہ کر دیا۔ یہ بغاوت ناکام ہو گئی۔ کاسترو کے ساتھیوں کی ایک بڑی تعداد ماری گئی اور کاسترو بچ جانے والے ساتھیوں کے ساتھ فرار ہو کر سانتیاگو کے مشرق میں واقع پہاڑوں میں روپوش ہو گئے تاہم زیادہ عرصہ چھپ نہ سکے اور گرفتار کر لئے گئے۔ گرفتاری کے فوری بعد کاسترو کے بیش تر ساتھیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے کاسترو کو بھی مار ڈالنے کا حکم دیا گیا تھا مگر خوش قسمتی سے اس کارروائی میں شامل فوجی افسران میں سے ایک کاسترو کا شناسا تھا جس نے حکومتی ہدایت سے روگردانی کرتے ہوئے کاسترو کو گرفتار کرنے پر اکتفا کیا۔ کاسترو کو بغاوت کے الزام میں پندرہ سال قید کی سزا سنائی گئی تاہم باٹسٹا حکومت نے سیاسی دباؤ کی وجہ سے کاسترو کو دو سال بعد ہی رہا کر کے جبراً میکسیکو بھیج دیا۔ میکسیکو میں قیام کے دوران کاسترو نے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ انہوں نے جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے اپنے ہم وطنوں کو متحد کیا اور ’’26 جولائی تحریک‘‘ کے نام سے نئی تنظیم کی بنیاد رکھی۔ تنظیم کا یہ نام باٹسٹا حکومت کے خلاف ان کی ناکام بغاوت کی یادگار تھا۔ اس کے ساتھ ہی کاسترو نے کیوبا میں چھاپہ مار کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔ اس چھاپہ مار جنگ میں کاسترو کو ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند مارکسسٹ راہنما چی گویرا کی معاونت حاصل تھی جو چھاپہ مار کارروائیوں کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ کاسترو کو جنگ جاری رکھنے کے لیے اسلحے کی مسلسل فراہمی کی ضرورت تھی۔ اس سلسلے میں سوویت یونین کی خفیہ ایجنسی ’’کے جی بی‘‘ سے مایوس ہو کر وہ امریکا چلے گئے تاکہ وہاں مقیم کیوبن باشندوں کو اپنے ساتھ ملائیں اور اسلحے کا حصول یقینی بنائیں۔ امریکا سے میکسیکو واپس آکر انہوں نے اپنے گروپ کی تربیت کے لیے سپین کی خانہ جنگی کے حوالے سے معروف البرٹو بایو کی خدمات حاصل کیں۔ کاسترو اپنے 82 جلاوطن ساتھیوں کے ساتھ 26 نومبر 1956ء کو باٹسٹا حکومت کے خلاف فیصلہ کن معرکے کا عزم لے کیوبا پہنچے۔ اپنی آمد کے اگلے مہینے انہوں نے لاس کینیاس کے مقام پر بغاوت کا آغاز کیا مگر اس بغاوت کو بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور کاسترو کے بیش تر ساتھی قتل یا گرفتار ہو گئے جب کہ بچے کچھیساتھی تتر بتر ہو گئے۔ اس معرکے میں کاسترو کے بیاسی ساتھیوں میں سے صرف بائیس زندہ بچے تھے۔ کیوبن فوج کے ہاتھوں شکست کے بعد کاسترو اپنے بچ جانے والے ساتھیوں بہ شمول چی گویرا اور راہول کاسترو کے ساتھ (Sierra Maestra) کے پہاڑوں میں روپوش ہو گئے۔ پے در پے ہونے والی شکستوں اور بھاری جانی و مالی نقصان کے باوجود کاسترو اور ان کے ساتھی مایوس نہیں تھے اوربقول خوش حال خان خٹک
؎کہ آسمان دے دہ زمری پہ خولہ کے ورکا
د زمری پہ خولہ کے مہ پریگدہ ہمت
(اگرگردش دوراں آپ کو شیرکے منہُ میں بھی ڈال دے تو شیرکے منہُ میں بھی ہمت نہیں ہارنا چاہیے) فیڈل کاسترو اور ان کے ساتھیوں کا یہی عزم اور حوصلہ تھا کہ انہیں عوام کی حمایت حاصل ہونے لگی۔ اس حمایت کے بل بوتے پر کاسترو نے ایک بار پھر اپنا لشکر منظم کیا اور باٹسٹا حکومت کے خلاف ملک کے شہر اور اہم قصبوں میں گوریلا جنگ شروع کر دی۔ جلد ہی ان کی حمایت میں اضافہ ہونے لگا اور چند درجن افراد پر مشتمل یہ گروہ آناً فاناً سینکڑوں کی تعداد میں تبدیل ہو گیا۔ اس زمانے میں امریکی ٹیلی ویژن پر کاسترو کا ایک انٹرویو نشر ہوا جس نے انہیں عالم گیر شہرت عطاء کر دی۔ ادھر کاسترو کے گوریلوں کی کامیابیوں میں روز بروز اضافہ ہونے لگا۔ اس کے ساتھ ہی دیگر گروپ بھی اس جنگ میں شامل ہونے لگے۔ حالات کو موافق دیکھتے ہوئے کاسترو نے فیصلہ کن جنگ کی ٹھان لی اور اپنی ’’فوج‘‘ کو وسطی کیوبا کی طرف پیش قدمی کا حکم دیا جس کے بعد ان کا لشکر مسلسل پیش قدمی کرتے ہوئے فتوحات کا سلسلہ دراز کرتا چلا گیا۔ یہ صورت حال دیکھتے ہوئے فوجی آمر باٹسٹا یکم جنوری 1959ء کو فرار ہو کر ڈومینکن ری پبلک چلا گیا۔ باٹسٹا کے ملک چھوڑنے کے بعد فوج نے سپریم کورٹ کے جج کارلوس پیڈرا کو ملک کا عارضی صدر مقرر کر دیا مگر کاسترو نے یہ تقرری مسترد کر دی۔ اس کے ساتھ ہی کاسترو کے دستوں نے امریکا کی آلہ کار حکومت اور فوج کو اقتدار سے نکال باہر کیا مگر انہوں نے ملک کا نظام اپنے ہاتھ میں نہیں لیا۔ انتظامی خلا پر کرنے کے لیے قانون کے پروفیسر جوزمیرو نے نئی حکومت تشکیل دی۔ اس حکومت میں پروفیسر جوز نے وزیراعظم کا منصب سنبھالا اور کاسترو کے مطالبے پر سابق جج Umtia Lieo کو صدر مقرر کر دیا گیا جب کہ کاسترو نے مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کا منصب سنبھالا۔ بعد ازاں وزیراعظم جوزے میرو اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے اور کاسترو نے 16 فروری 1959ء کو وزیراعظم کا عہدہ سنبھال لیا۔ فیدل کاسترو نے 1965ء میں اپنی جماعت کو ’’کمیونسٹ پارٹی آف کیوبا‘‘ کا نام اور ملک کو یک جماعتی سوشلسٹ جمہوریہ قرار دے دیا۔ واضح رہے کہ کیوبا کمیونسٹ پارٹی سابق سوویت یونین کے مارکس ازم اور لینن ازم کے نظریاتی ڈھانچے پر استوار ہے۔ کاسترو 1976ء تک وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہے۔ بعد ازاں انہوں نے صدارت کا منصب سنبھال لیا اورجب کچھ علیل ہوگئے تو اپنے فرائض سے سبک دوش ہوکر اپنے بھائی راول کاستروکو ملک کا صدر اور اپنا جانشین مقرر کر دیا۔ فیدل کاسترو جسمانی طور پر تو ہم سے 25 نومبر 2016ء کو جدا ہوگئے مگر ان کی جدوجہد، عزم، حوصلہ اور افکار رہتی دنیا تک مظلوم طبقات اور انقلاب دوستوں کے لیے روشن چراغ رہیں گے۔
؎ کیا عقلِ چراغ تھا خاموش ہوگیا
کیا دل تھا دھڑکنوں کے تلاطم میں سوگیا
٭٭٭٭٭٭

Google+ Linkedin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*
*
*