پی ٹی آئی لیٹ گئی ہے

پی ٹی آئی لیٹ گئی ہے

ایک ٹی وی چینل نے چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر چینی مافیا کا پروگرام پیش کیا تھا جس پر جہانگیر ترین نے مذکورہ چینل کو قانونی نوٹس بھیجا ہے کہ 14دن کے اندر ٹی وی چینل معافی مانگ کر اپنے پروگرام سے دست بردار ہو جائے بصورت دیگر عدالتی کارروائی کا سامنا کرے، ہتک عزت کی بنیاد پر ٹی وی چینل پر ایک ارب ہرجانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ٹی وی چینل نے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا ہے اور عدالتی کارروائی کا نوٹس قبول کیا ہے۔ جہانگیر ترین کا نوٹس مختلف چینل اور اخبارات میں آچکا ہے ۔ ٹی وی چینل کا موقف ہے کہ ہم نے جو پیش کیا ہے وہ محض الزام نہیں بلکہ حقائق ہیں جو دستاویزات، ٹی وی کی خبروں اور عدالتی فیصلوں پر مشتمل ہیں۔ جہانگیر کا اس نوٹس میں یہ موقف بھی پیش کیا گیا ہے کہ میری ساکھ کو بد نیتی کی بنیاد پر خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے، مجھے پروگرام میں شرکت کرنے کی دعوت نہیں دی گئی جسے میرا موقف سنے بغیر پیش کیا گیا۔ ٹی وی چینل کا دعویٰ ہے کہ ہم صحافتی اقدار اور مشرقی روایات کے تحت کسی بھی شخص یا ادارے کا موقف سنے بغیر کوئی الزام نہیں لگاتے ہیں۔ ٹی وی چینل کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہم نے جہانگیر ترین کو پروگرام پیش کرنے سے پہلے متعدد دفعہ دعوت بھی دی تھی اور سوالنامہ بھی بھیج دیا تھا بلکہ جہانگیر ترین کے پی اے اور کمپنی کو بھی چینی بحران کے متعلق سوالنامہ بھیج دیا تھا لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ پروگرام شروع کرنے سے پہلے ٹی وی چینل کا جہانگیر ترین کے پی اے سے رابطہ ہوا اور چینی کی بڑھتی قیمتوں اور آٹے کے بحران پر جہانگیر ترین کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی تو پی اے نے جواب دیا کہ فی الحا ل وہ مصروف ہیں اور پروگرام میں وہ شرکت نہیں کر سکتے ہیں تو چینل نے کہا کہ آپ ہمیں ان کی لوکیشن بتا دیں ہم اپنی ٹیم وہاں بھیج دیتے ہیں لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ٹی وی چینل کا اب بھی یہ دعویٰ ہے کہ جہانگیر ترین جب بھی چاہیں ہم ان کا موقف جاننے کے لئے تیا ر ہیں۔ ٹی وی چینل کا موقف ہے کہ ہمارے پاس جہانگیر ترین سے رابطوں کے تمام شواہد موجود ہیں اور تمام شواہد عدالت میں پیش کریں گے۔ ٹی وی چینل جہانگیر ترین کے تمام سوالات کے جوابات دے رہا ہے اور چینل کا دعویٰ ہے کہ جہانگیر ترین جہاں بھی ہیں ہمارے سوالات کے تمام جوابات براہ راست دے سکتے ہیں، مزید یہ کہ جہانگیر ترین صاحب جب بھی چاہیں اپنا موقف پیش کر سکتے ہیں۔ جہانگیر ترین نے پروگرام کے آٹھ حصوں پر اپنے قانونی نوٹس میں اعتراضات کئے ہیں۔ چینل کا کہنا تھا کہ ابھی تک یہ پتہ نہیں چلا کہ چینی کی قیمتیں کس نے بڑھائیں؟ کس نے کتنے کمائے؟ پتہ کیسے چلے گا ؟،کیونکہ جس شخص نے بطور وزیر خوراک یہ معاملات طے کرنے ہیں کہ چینی کی قیمتیں نہ بڑھیں، ان کی اپنی شوگر ملیں ہیں۔ مختلف وزراء پچھلے ایک سال سے کہہ رہے ہیں کہ چینی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ کہتے تھے شوگر مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن ہوگا مگر وہ کریک ڈاؤن ابھی تک نہیں ہوا اور نہ ابھی تک تحقیقات ہوئی ہیں۔ خسرو بختیار صاحب اور جہانگیر ترین صاحب کی اپنی اپنی شوگر ملیں ہیں۔ یہ سیدھا سادہ وزراء کے مفادات کا مسئلہ ہے۔ اپوزیشن سوالات اٹھا رہی ہے کہ کس طرح ایک وزیر جن کے اپنے مفادات ہیں وہ چینی کی قیمتیں کنٹرول کرسکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ایک معزز رکن جہانگیر ترین زرعی پالیسی ملک کے مفادات کے تحت کیسے بنا سکتے ہیں جبکہ چینی موصوف کی اپنی ملکیت ہے۔ ملک میں کپاس حکومت کی طرف سے گنے کو ترجیح کی وجہ سے بربادی کی شکار ہے۔ گندم کی برآمدات اور درآمدات کا فیصلہ بھی جہانگیر ترین کرتے ہیں جبکہ یہ ایک رپورٹڈ حقیقت ہے کہ موصوف سرکار کا حصہ بھی نہیں ہیں۔ یہ فیصلہ تو ای سی سی نے کرنا ہوتا ہے کہ کتنی گندم کتنے وقت تک برآمد کرنی ہے جس نے ملک میں آٹے کے بحران کو جنم دیا لیکن اس سے پہلے کہ ای سی سی کوئی فیصلہ کرتی جہانگیر ترین نے میڈیا پر سرکاری پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے مارچ تک گندم کی مقدار درآمد کرنے کا تعین اور ڈیوٹی فری کرنے کا اعلان بھی کر دیا۔ جہانگیر ترین کے اس اعلان کے دو دن بعد وزیر خوراک نے بھی وہی اعلان کیا اور اس کے بعد ای سی سی نے منظوری دے دی۔ اس سے تو یہ واضح ہے کہ ای سی سی ایک ربڑ سٹمپ ادارہ ہے۔ اس کے باوجود خان صاحب فرماتے ہیں کہ ادارے آزاد ہیں۔ جہانگیر ترین کو ٹی وی کے اس موقف کو بیان کرنے پر اعتراض ہے لیکن جہانگیر ترین نے خود بھی اپنے قانونی نوٹس میں اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ درآمدات و برآمدات اور شوگر ملز کے معاملا ت وفاقی کابینہ اور صوبائی کا بینہ اور متعلق محکموں کے وزراء کے اختیارات میں آتے ہیںاور یہ میرا اختیار نہیں تو پھر ٹی وی نے جب جہانگیر ترین کے رویے پر اعتراض کیا تو چینل کے خلاف اعتراض کرنے کی کیا تک بنتی ہے جس کو وہ خود بھی تسلیم کرتے ہیں۔ جب چینی کی قیمت بڑھی تو جہانگیر ترین نے حکومتی پلیٹ فارم استعمال کرتے اپنے کاروبار کا دفاع کیا اور قیمت میں اضافے کا سبب حکومت کے لگائے ٹیکس اضافہ کو قراردیا لیکن ریونیو منسٹر نے کہا کہ ٹیکس اضافہ کے مساوی 3.5 روپے فی کلو اضافہ بنتا ہے یہ تو 25 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے۔ جب ٹی وی نے ایسا کرنے میں جہانگیر ترین کو ذمہ دار ٹھہرایا تو جہانگیر ترین نے نوٹس بھجوایا، اگر دامن صاف ہے تو صفائی پیش کیوں نہیں کرتے ہیں جب سندھ کے وزیراعلیٰ نے کھلے عام کہا کہ جہانگیر ترین نے بھی ہم سے سبسڈی لی ہے۔ اگر مراد علی شاہ کا موقف غلط ہے تو نوٹس چینل کے بجائے انہیں بھجواتے ہیں۔ جب اینکر نے شہزاد اکبر سے سوال کیا کہ کیا پی ٹی آئی میں ایسے لوگوں موجود ہیں جنہوں نے چینی برآمد نہیں کی ہو مگر حکومت سے سبسڈی لی ہو تو انہوں نے کہا کہ یقیناً کہ فراڈ کے امکانات موجود ہوں گے۔ تو پھر قانونی نوٹس تو شہزاد اکبر کو بھجوانا چاہیے ٹی وی چینل کے خلاف کیوں؟ جب مشرف کے دور میں چینی 105روپے فی کلو ہوگئی تو سپریم کورٹ کے حکم کے تحت نیب کی تحقیقات میں ذخیرہ اندازی کرنے والوں میں جہانگیر ترین کا نام بھی نمایاں تھا۔ اگر الزام ہے تو پھر نیب کے خلاف اعلیٰ عدالت جاناچاہیے نہ کہ چینل کو لیگل نوٹس بھجوایا جائے۔ 20 جنوری کو وزیر خوراک خسرو بختیار نے گندم درآمد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک انوکھا جواز پیش کیا کہ ہم نے گندم درآمد کرنے کا اس لئے فیصلہ کیا ہے کہ گذشتہ سال 12 لاکھ ٹن موسمی حالات کی وجہ سے گندم کی پیداوار کم ہوئی ہے اور دنیا میں کلائمیٹ چینج کی تبدیلی کے پیش نظر اس سال بھی گندم کی پیداوار میں کمی کا امکان ہے لہذا گندم کی درآمد سے ہمارے پاس ایک بمپر ذخیرہ دستیاب ہو گا۔ اگر پیش بینی ایسی ہے اور ہمارے ہاں پہلے سے بھی کمی ہے تو پھر گندم برآمد کرنے کا فیصلہ جہانگیر ترین نے کس بنیاد پر کیا تھا اور ترین کے فیصلے کی خوشی میں عمران خان نے 4 لاکھ ٹن سے 20 لاکھ ٹن تک اضافہ کیوں کیا؟ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ وزیر خوراک کے خدشات کے باوجود وزیر اعظم کا 20 لاکھ ٹن گندم برآمد کرنے کا فیصلہ عوام بلکہ غریب کش تھا۔ فیصل واوڈا نے کیا خوب کہا کہ جہاں بوٹ ہوتا ہے وہاں اپوزیشن لیٹ جا تی ہے لیکن یہ نہیں کہا کہ جہاں جہانگیر ترین ہوتے ہیں وہاں پوری پی ٹی آئی لیٹ جاتی ہے۔ شیخ رشید نے تو یہ امکان تک ظاہر کیا ہے کہ شائد گندم برآمد نہیں کی گئی بلکہ سستی لی گئی ہے اور شائد وہی گندم دوبارہ گوداموںسے نکال کر کے درآمد کے نام پر غریب عوام پرمہنگی بیچ دی جائے گی۔ انہوں 42 ارب روپے کمانے کی خبر بھی دی ہے۔ موصوف کو تو لیگل نوٹس نہیں بھجوایا گیا مگر یہ دھمکی ضرور دی گئی کہ شیخ صاحب آپ کا اگلے انتخابات لڑنے کا ارادہ نہیں۔ لیگل نوٹس ملا بھی تو ایک ٹی وی چینل کو۔

Google+ Linkedin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*
*
*