مطالبات اور ام المطالبات

مطالبات اور ام المطالبات

مطالبے، مطالبے ہوتے ہیں چاہے چھوٹے ہوں یا بڑے۔ دنیا میں جس طرح دوسرے کام ہوتے ہیں جیسے کہ مزدوری، نوکری، سیاست، غیبت یا دروغ گوئی، اسی طرح مطالبہ بھی ایک کام بلکہ بہت بڑا اور نرالا کام ہے۔ جس طرح ہر معاشرے میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں اسی طرح ان کے مطالبے بھی مختلف النوع اور ایک دوسرے سے الگ الگ ہوتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا بلکہ آج کل تو ہر روز کسی نہ کسی شکل میں لوگ نکل کر کچھ نہ کچھ مطالبات کرتے رہتے ہیں۔ کوئی اپنے علاقے میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے تنگ آکر بجلی تو کوئی گیس کی فراہمی کا اور کوئی روزہ مرہ اشیا کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کرتے ہیں تو کوئی چوری چکاری پر قابو پانے کا مطالبہ۔ الغرض، جتنے زندگی کے رنگ اور آہنگ ہیں اتنے ہی ہمارے مطالبے ہوتے ہیں۔ کچھ مطالبے بے ضرر اور معصوم ہوتے ہیں جیسے کہ بچے اپنے والدین سے کھلونے یا کسی جگہ کی سیرکرانے کا مطالبہ کرتے ہیں، دوست کسی دوست سے کھانے کی دعوت کے اہتمام کا مطالبہ کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح پھر کچھ مطالبے ناپسندیدہ یا یوں سمجھ لیں کہ بڑے ظالمانہ قسم کے ہوتے ہیں جیسے کہ کسی نے کسی کے بیٹے یا بھائی کو اغوا کیا اور رہائی کے بدلے میں پیسوں کا مطالبہ کیا وغیرہ وغیرہ۔ مطلب ہمارے کہنے کا یہ ہے کہ مطالبے اچھے بھی ہوتے ہیں اور برے بھی لیکن زیادہ تر مطالبے چاہے وہ اچھے ہوں یا برے جن سے کیے جاتے ہیں انہیں اچھے نہیں لگتے۔ مثلاً اگر کسی بیگم نے شوہر سے نئے لہنگے یا جوتے کا مطالبہ کر لیا تو نہ صرف یہ بیگم کا حق ہے بلکہ ایک جائز مطالبہ بھی ہے لیکن اس وقت جو جناب شوہر کے دل پر گزر رہی ہوتی ہے وہ صرف وہی جانتا ہے۔ اسی طرح کچھ فرمائشیں بھی ہوتی ہیں مثلاً یار دوست کسی سے کچھ فرمائش کرسکتے ہیں لیکن جب ایسی کوئی فرمائش بیوی کی طرف سے آجاتی ہے تو وہ کچھ وقت بعد مطالبہ بن جاتی ہے جس کو بہر حال و بہرصورت پورا ہی کرنا پڑتا ہے۔ ہیں جی! چونکہ اس میں فریق ثانی سے مانگا جاتا ہے، اس لئے مطالبے کسی کو اچھے نہیں لگتے لیکن پھر بھی دنیا بھر میں لاکھوں مطالبے ہوتے رہتے ہیں۔ مطالبے کے بارے میں یہ بھی بہت اہم بات ہے کہ جس شدت اور تعداد میں یہ ہوتے ہیں اسی طرح یہ پورے نہیں ہوتے بلکہ کچھ بہت کم قسمت کے دھنی یا دل کے قریب لوگوں کے مطالبے ہی پورے کیے جاتے ہیں۔ مطالبے کے پورے ہونے یا نہ ہونے کا بہت بڑا تعلق مالی حالت سے بھی ہوتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ غریبوں کے اکثر بلکہ خال خال کہیں مطالبے اور وہ بھی جو کہ بہت چھوٹے ہوں پورے کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے ملک کے غریب عوام پچھلے کئی سالوں سے بجلی کی رسد پورا کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن حرام ہے کہ متعلقہ حکام کے کان پر جوں تک رینگی ہو۔ اسی طرح پچھلے کئی ماہ سے غریب عوام پہلے ٹماٹر، پھر پیاز، پھر گیس، پھر گھی، پھر آٹا اور چینی کی قیمتوں کو نیچے لانے کا مطالبہ پسِ مطالبہ کرتے آ رہے ہیں لیکن کسی پر کچھ اثر نہیں ہو رہا۔ لیکن جب صاحب اختیار اور مالدار لوگ کوئی مطالبہ کرتے ہیں تو اس کے پورے ہونے میں وقت ہی نہیں لگتا بلکہ کہیں کہیں تو منٹ ہی لگتے ہیں۔ ہم نے ماحولیاتی آلودگی، پھیلتی گندگی اور پانی کے مسائل پر بارہا لکھا ہے بلکہ بہت بڑے بڑے لکھاریوں نے ان مسائل پر جگرسوزی کی ہے لیکن کسی نے دانہ تک نہیں ڈالا لیکن جب ہماری اداکارہ مہوش حیات نے کراچی میں ائیر پورٹ پر کاکروچ کو دیکھا اور براستہ ٹوئٹر متعلقہ لوگوں کو جھاڑ پلائی اور صفائی کا مطالبہ کیا تو جھٹ سے نہ صرف اس مسئلے کا نوٹس لیا گیا بلکہ محترمہ کو صفائی کی بھی یقین دہائی کرائی گئی۔ اگر آپ کو ہماری اس بات میں کوئی شکوہ یا گلہ دکھائی دیا ہو تو ہمارا نشانہ تیر بہدف والا ہے یعنی آپ ٹھیک سمجھے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہم خوش ہیں کہ چلو کسی کے کہنے پر کچھ تو ہوا اور یہ بھی یقین ہوا کہ ابھی ہمارے اعلی حکام جاگ رہے ہیں اور کام کرنا بھی جانتے ہیں، بس ان کو جگانے کے لئے ایک بارعب، معروف اور تگڑی آواز چاہیے ہوتی ہے۔ اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ ہماری آواز تگڑی نہیں ہے تو بات تو سچ ہے مگر۔۔۔۔ یہ لمبی چھوڑی، طویل و عریض اور بے سر و پا تمہید ہم نے اس لیے باندھی ہے کہ ایک خبر نظروں سے ٹکرائی ہے۔ خبر کیا ہے بس موجودہ حالات کا ایک خلاصہ ہے، ایک ایسا خلاصہ جسے ایک شخص نے ایک مطالبے کی شکل میں پرو کر ’’ام المطالبات‘‘ بنا دیا ہے۔ اخبار میں اگرچہ اور بھی بہت سی خبریں تھیں، کوئی پختونخوا میں کچھ وزرا کو نکالنے پر مسرور و شادماں تو کوئی شکوہ کناں کہ ان لوگوں کے ساتھ ظلم ہوا ہے، کوئی وزیراعظم عمران خان کی حوروں والی بات میں مگن تو کوئی چین میں پھیلے کورونا وائرس کے پھیلنے پر تشویش میں مبتلا، فردوس آپا کو سابق وزیراعظم نواز شریف کے اصل مرض کا پتہ لگانے کی فکر کھائے جا رہی ہے تو کوئی گندم کی قیمت میں کمی کے باوجود آٹے کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان، الغرض اخبار مختلف اور اہم خبروں سے بھرا پڑا ہے لیکن ہمیں پتہ نہیں کیوں یہ خبر اچھی،،، معاف کیجئے گا،،، سچی اور دوسری خبروں سے الگ تھلگ اور تھوڑی سے مسکین، مظلوم، بے یار و مددگار اور عجیب و غریب لگی۔ اصل میں اخبار میں اکثر لگی خبریں ایک دوسرے کے رشتہ دار یا پڑوسی ہوتی ہیں یعنی ایک خبر کا دوسری خبر سے کچھ نہ کچھ واسطہ یا ناطہ ضرور ہوتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی احتجاج کی خبر ہے تو ساتھ میں مہنگائی کی بھی خبر ہوگی، چوری چکاری کی کوئی خبر ہے تو ساتھ میں کسی گرفتاری یا پولیس چھاپے کی بھی خبر ہوگی، اگر حکومت نے کوئی دعوی کیا ہو اور خبر لگی ہو تو اپوزیشن کی جانب سے اس دعوے کو جھٹلانے کی شکل میں اس خبر کا ’’تربور‘‘ بھی چھپا ہوگا۔ لیکن ہم جس خبر کی بات کر رہے ہیں یہ ساری خبروں میں اکیلی اور نامانوس ہے اور اس لئے اخبار کے ایک کونے میں شرمیلی سی کھڑی بلکہ بیٹھی ہوئی ہے۔ اس سے پہلے کہ آپ اس خبر کو جاننے کے لئے بے تاب ہو کر ہوش کھو دیں اور ہم پر چڑھ دوڑیں اور مطالبہ کر دیں کہ اس کالم کے ذمہ دار یعنی مجھے بطور سزا ایک دن بغیر چائے کے گزارنا ہوگی تا کہ ہمارا دماغ کام شروع کر دے اور ہم ایسی حرکتوں سے آئندہ کے لئے باز آجائیں تو ہم ڈر گئے ہیں اور اس لئے اب کوئی دوسرا چارہ نہیں سوائے اس کے کہ وہ خبر آپ کے حضور پیش کر دیں۔ بس صرف ایک چھوٹی سی اور بات بلکہ وضاحت، یہ مطالبہ بہت ہی بے ضرر، محبت بھرا اور ضرورت پر مبنی ہے، اور ہاں مطالبہ جائز بھی ہے۔ ہم آپ کے جذبات سے اچھی طرح واقف ہیں۔ آپ معلوم کرنا چاہتے ہیں ناں کہ یہ مطالبہ کیا ہے جو کہ خبر کی شکل میں سامنے آگیا ہے۔ تو لیجئے، پڑھ لیجئے اور انصاف کیجئے کہ ہم نے جو لکھا یا سوچا ہے وہ ٹھیک ہے یا غلط ۔ خبر ہے کہ پشاور کے پشتہ خرہ علاقے کے ایک شخص نے وزیر اعلی اور گورنر سے اپنی شادی کے لئے مالی معاونت کا مطالبہ کیا ہے۔ کیا سمجھے، کیسا لگا یہ مطالبہ۔ اگر عجیب لگا ہو تو بھی ٹھیک، مسکین لگا ہو تو بھی جائز اور اگر بے ضرر لگا ہو تو کیا کہنے آپ کے۔ معاف کیجئے گا، لیکن ہم خود سے اور آپ کی سوچ سے اختلاف کا حق رکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ مطالبہ برحق، بے ضرر، جائز اور انتہائی فقیرانہ ہے لیکن اس کے اس مطالبے نے ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ہمارا دل خفہ اور دماغ ماؤف ہے۔ اور یہ ویسے نہیں بلکہ اس خبر میں چھپی دوسری باتوں نے ہمیں معاشرے اور حالات کی اصلی شکل بھی دکھائی ہے۔ اگر ہم آنکھیں کھول کر اور دماغ کو نفسی نفسی کی دھول سے پاک کرکے سوچیں تو ہمیں بہت کچھ دکھائی دے گا۔ اس ایک خبر سے ہمیں بہت کچھ سمجھ میں آسکتا ہے۔ کیسے حالات ہیں کہ لوگ اب اپنی شادی کے لئے بھی مدد مانگنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ شادی ایک انتہائی مقدس رشتہ ہوتا اور ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی شادی اس کے بس کے مطابق اچھے طریقے سے ہو تاکہ روایات کا بھی لحاظ رکھا جا سکے اور ارمان بھی پورے ہوں۔ لیکن حالات ایسے سنگین اور بے رحم ہوگئے ہیں کہ لوگ اپنے ان ارمانوں کو اب مدد مانگ کر پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں مہنگائی کے عفریت کو ماننا ہوگا، لوگوں کی آہ و زاری کو سننا ہوگا، مطالبات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا ورنہ بہت دیر ہو جائے گی اور ہمیں ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی اپنے مطالبات کا پلے کارڈ تھامے دکھائی دے گا۔

Google+ Linkedin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*
*
*