نواز شریف آئیں نا آئیں مہنگائی نہیں جائے گی (آخری حصہ)

مجھے نواز شریف کے واپس آنے یا نا آنے سے زیادہ مطلب نہیں۔ وہ ایک بڑے سیاستدان ہیں، ملک کے تین بار وزیراعظم رہے ہیں، ان کی سیاست پاکستان میں ہی ہے اور وہ ضرور پاکستان واپس آئیں گے اور جب واپس جانا چاہیں گے پھر بھی ایسے ہی جائیں گے جیسے جیل سے نکل کر لندن گئے ہیں۔ ایسا اس لیے ہے کہ ایک تو نواز شریف ایک بہت بڑے سیاستدان اور قانونی امور سے واقف رہنماء ہیں، ان کو سیاسی داؤ پیچ کھیلنا بھی آتا ہے اور قانونی داؤ پیچ میں بھی مہارت رکھتے ہیں یا شاید ان کی ٹیم میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ان کے لیے راستہ نکال لیتے ہیں۔ اس وقت ملک کے عوام کو نواز شریف کے واپس آنے سے زیادہ مہنگائی اور بے روزگاری سے پریشانی ہے۔ عوام کو اب اس بات سے مطلب نہیں کہ نواز شریف واپس آئے یا نہیں کیونکہ نواز شریف جیل بھی گئے مگر نا تو ملکی خزانے کو کوئی پیسہ ملا نا کوئی باہر ملکوں میں منتقل کیا گیا پیسہ واپس لایا جا سکا جس سے ملکی قرضہ ادا کیا جا سکے یا مہنگائی اور بے روزگاری کی شرح کو کم کیا جا سکے۔ حکومت کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ اب نواز شریف یا اپوزیشن جماعتوں کے خلاف باتیں کرنے کی بجائے ان کو عوامی مسائل حل کرنے چاہئیں کیونکہ عوام نے دیکھ لیا ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف اس موجودہ حکومت کے پاس وہ ثبوت موجود نہیں جن کے ذریعے وہ ثابت کر سکیں کہ ملک کا پیسہ لوٹا گیا اور باہر منتقل کیا گیا۔

اس لیے اب عوام کی اس موضوع میں دلچسپی ختم ہو گئی ہے، اس موضوع میں جان واپس تب آئی جب نیب نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو بلایا، وہ پیشی کے لیے تو آئیں مگر وہ پیشی ایک روڈ شو بن گئی، مریم نواز نے سیاسی طاقت کا مظاہرہ کیا، نیب اہلکاروں پر پتھراؤ کیا گیا، اور نیب دفتر کے سامنے میدان جنگ لگ گیا، جس کے بعد نیب نے مریم نواز کو واپس جانے کی ہدایت کی، اس کے بعد مریم نواز نے ایک دھواں دار پریس کانفرنس بھی کی جس کی وجہ سے ایک بار پھر نواز شریف اور کرپشن کے معاملے میں جان آئی اور اب حکومت نے ایک بار پھر نواز شریف کے خلاف محاذ گرم کر لیا ہے۔ حکومتی ترجمان ہر بات میں نواز شریف کا نام لے رہے ہیں اور ان کو واپس لانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز کو بھی طلب کیا ہے۔ اسی کیس میں شہباز شریف کی دو صاحبزادیوں کو بھی طلب کیا گیا ہے مگر اس ساری صورتحال میں عوامی مسائل مہنگائی اور بے روزگاری نظر انداز ہے اور یہی حکومت بھی چاہتی ہے کہ عوام نواز شریف، شہباز شریف اور اپوزیشن جماعتوں کے پیچھے رہیں اور ان سے یہ سوال نا ہو کہ بھائی صادق اور امین لوگو! یہ مہنگائی کب ختم ہو گی، ملک میں روزگار کب شروع ہو گا، کیا نوازشریف کے خلاف پریس کانفرنس کرنے سے عوام کے لیے روٹی اور بجلی سستی ہو جائے گی، کیا عوام کو روزگار کے مواقع مل جائیں گے؟ ان سارے سوالوں کا جواب نفی میں ہی ہے۔

دوسری طرف احتساب اور میرٹ پر بنی اس حکومت کا وہ بیانیہ بھیِ دم توڑ گیا ہے کیونکہ ملک میں چینی کا بحران آیا، غریب عوام کے اربوں روپے لوٹ لیے گئے، تحقیقات ہوئیں،ِ رپورٹ پبلش کرنے کو ہی احتساب سمجھا گیا، نا تو کوئی مجرم نا کوئی ملزم نا کوئی عوام کا پیسہ واپس ہوا اور نا ہی کسی کو سزا ہوئی۔ اس کے بعد ملک میں پٹرول سستا ہوا تو پٹرول بحران نے سر اٹھا لیا۔ اس میں بھی عوام سے اربوں روپے لوٹ لیے گئے، اور اب تک وہ معاملہ بھی سرد خانے میں پڑا ہے۔ غریب اور بے روزگار عوام کا اربوں روپے کون کھا گیا؟ پتا نہیں چلا۔ اب آٹے کا بحران ہے۔

آٹا مہنگا ہو گیا ہے، پھر سے غریب عوام پر بوجھ، بجلی کی قیمت تو بہت ہی زیادہ ہے مگر حکومت نے عوام کو ایک امید دلائی ہے کہ سابقہ دور میں کیے گئے معاہدوں میں بجلی مہنگی مل رہی تھی جس کی وجہ سے ہم بھی مہنگی بیچ رہے ہیں مگر اب بجلی کے معاملے پر آئی پی پیز سے مذاکرات ہو چکے ہیں اور بہت جلد بجلی کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔ مگر اس کے ساتھ ہی اسی پریس کانفرنس میں وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز نے یہ بھی کہا کہ اگر بجلی یا گیس اور بھی مہنگی ہوتی ہے اس کے ذمہ دار بھی سابقہ حکمران ہوں گے جس کا مطلب شاید یہی تھا کہ بجلی اگر ایک مہینے سستی بھی کریں تو پھر مہنگی کرنے کے لیے راستہ ہموار ہو۔ ہم عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ کون جیل گیا کون باہر گیا، عوام کو غرض ہے کہ ان کو روٹی سستی ملے، چینی سستی ملے، پٹرول اور ضرورت کی دیگر اشیاء سستے داموں دستیاب ہوں، یہ جو سیاستی کھیل ہے اس میں غریب اور بے روزگار عوام کو کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ جو یہ حکومت کر رہی ہے یہی سابقہ حکومتوں میں بھی ہوتا رہا ہے۔

تقریر میں ایک بات اور حقیقت میں دوسری بات، میں قرض نہیں لوں گا سے لے کر میں این آر او نہیں دوں گا تک تمام دعوؤں سے ہوا نکل چکی ہے۔ این آر او نہیں دوں گا؟ تو نوازشریف کو باہر جانے کی اجازت کس نے دی جب خود وزیراعظم نے رات کو ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے اعتراف بھی کیا کہ نوازشریف کو باہر جانے کی اجازت دینا غلطی تھی۔ محترم وزیراعظم صاحب! آپ نے جس بات پر سیاست کی، جس بات پر ووٹ لیا اگر وہی بات آپ مان رہے ہو کہ ہم نے غلطی کی ہے تو پھر آپ کو اس کرسی پر بیٹھنے کا کوئیِ حق نہیں ہے کیونکہ آپ نے جب خود اس بات کا اعتراف کر لیا کہ نوازشریف کو جانے کی اجازت دینا غلطی تھی تو اس قوم کو آپ سے ایسی غلطی کی کوئی امید نہیں تھی کہ آپ بقول آپ کے اربوں روپے لوٹنے والے انسان کو باہر بھیجنے کی اجازت دیں غلطی سے گے۔

یہ بھی پڑھیں

بی آر ٹی، کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے

پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے فلیگ شپ منصوبے بس ریپڈ ٹرانزٹ پر کام کے …

%d bloggers like this: