کشمیر کا تنازعہ(پہلا حصہ)

کشمیر کا تنازعہ(پہلا حصہ)

پس منظر اور واقعات
اعلان پاکستان کے تقریباً دو مہینے بعد کشمیر پر حملہ کیا گیا۔ چونکہ یہ مسئلہ انتہائی پیچیدہ مسئلہ تھا اس لئے ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات اس وجہ سے بہت زیادہ کشیدہ ہوگئے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اس تنازعہ پر تفصیل سے روشنی ڈالی جائے۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب فرنگی سامراج نے ہندوستان کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ سامراج نے ہندوستان کو کمزور کرنے کی خاطر اُس میں (ہندوستان میں) تقریباً 600 ریاستیں قائم کیں اور پھر اُن ریاستوں کو اپنے وفادار راجاؤں، مہاراجاؤں اور نوابوں میں بانٹ دیا۔ اُن ریاستوں میں بعض اتنی بڑی تھیں کہ وہ علیحدہ طور پر ایک مملکت کا درجہ رکھتی تھیں۔ مثال کے طور پر حیدر آباد دکن کی ریاست۔ پھر جب فرنگیوں نے 3جون 1947ء کا اعلان سنایا اور اُس میں یہ عندیہ دیا کہ اب وہ اپنا بوریا بستر باندھ کر ہندوستان سے جانے والے ہیں تو اُنہوں نے اُن ریاستوں کے بارے میں اپنا فیصلہ کچھ اس انداز سے دیا کہ اقتدار اعلیٰ جن ریاستوں نے سلطنت برطانیہ کو اپنی مرضی سے سونپا تھا انہیں سلطنت برطانیہ اپنے ورثا کے حوالے کرے گی اور اقتدار ایک بار پھر اُن ریاستوں کو منتقل ہو جائے گا اور یوں فرنگیوں نے ریاستوں کا یہ مسئلہ ازخود ایک مخمصے میں چھوڑ دیا۔ اب نئی ریاستوں کے والیوں کو معلوم تھا اور نہ ہی عوام کو کہ آئندہ کیا ہوگا؟ یہ سب آزاد حیثیت میں برقرار رہیں گی یا پھر کسی ایک ملک کے ساتھ الحاق کریں گی؟ اور الحاق کا فیصلہ ریاست کے والی کریں گے یا وہاں کے عوام؟چونکہ یہ مسئلہ مبھم تھا لہٰذا اس پر کسی حتمی فیصلے کا امکان بھی خارج از امکان ہوتا چلا گیا۔ اگر چہ ایک بات تو واضح تھی کہ اقتدار اعلیٰ مذکورہ ریاستوں کو جون کے مہینے میں سونپ دیا جائے گا اور یوں اس وقت تک ان ریاستوں کی باگ ڈور خود لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے پاس تھی۔ چنانچہ تاج برطانیہ کے ایک نمائندے کی حیثیت سے اُس لارڈ ماؤنٹ بیٹن) نے ریاستی حکمرانوں سے علیحدہ علیحدہ طور پر طویل ملاقاتوں کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ اب وہ بدلتی ہوئی صورتحال کی روشنی میں اُن حکمرانوں سے یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ بھی بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ خود کو بدلنے کی کوشش کریں کیونکہ حالات کی نزاکت کا تقاضا یہ ہے کہ خود کو بدلنے کی سعی کی جائے۔ جب تاج برطانیہ کو عوامی رائے کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے تو اب ان حکمرانوں کو بھی یہ بات بھلا دینی چاہیے کہ وہ کبھی ان ریاستوں کے مطلق العنان بادشاہ تھے۔ اب ان کو اپنی ریاستوں میں وقت کے تقاضوں کے مطابق کچھ نہ کچھ اصلاحات بھی کرنا ہوں گی اور عوام کے قومی نمائندوں کو بھی اپنے ساتھ کاروبار حکومت میں شامل کرنا ہو گا اور اس کے ساتھ ساتھ اُنہیں دونوں ممالک (ہندوستان اور پاکستان) کے ساتھ الحاق کے حوالے سے بھی سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اور جلد از جلد اس سلسلے میں کوئی فیصلہ لینا ہوگا۔ اب ہندوستان کو اس حوالے سے دو طرح کی سہولیات میسر تھیں۔ اول تو یہ کہ وہاں پر ایک عبوری حکومت کا وجود تھا اور سردار ولبھ بھائی پٹیل اُن ریاستوں کا ذمہ دار تھا تو 3 جون 1947ء کے اعلان کے بعد یہ تسلسل موجود تھا اور ہندوستان کا ایک تعلق سردار پٹیل کے ذریعے اُ ن ریاستوں سے استوار تھا۔ اب اس کے برعکس پاکستان کی نئی حکومت اور اُس کی تشکیل کا ابھی اعلان بھی نہیں ہوا تھا یہاں تک کہ حکومت کا ابھی تک کوئی دارالحکومت بھی نہیں تھا۔ لہٰذا پاکستان کو یہ مشکل درپیش تھی کہ ان لوگوں نے ریاستوں کے حوالے سے کوئی عبوری انتظام نہیں کیا تھا۔ سردار پٹیل کی طرح ان کا کوئی وزیر بھی موجود نہیں تھا۔ اب ریاستوں کے والی یہ بھی جانتے تھے کہ پاکستان کی طرف سے اس سلسلے میں ذمہ دار وزیر اور متعلقہ محکمے کے خودمختار آدمی کون ہیں؟ہندوستان کی حکومت کو دوسرا Advantage یہ بھی حاصل تھا کہ اُس کا آنے والا گورنر جنرل بھی ایک انگریز (لارڈ ماؤنٹ بیٹن)ہی تھا اور سلطنت برطانیہ کی طرف سے اقتدار اعلیٰ کا نمائندہ بھی وہی تھا۔ یوں اُّس کے ساتھ ریاستی حکمرانوں نے بات چیت اور مکالمے کو آئینی اور قانونی سمجھ کر قبول کیا تھا۔ چونکہ وہ (ماؤنٹ بیٹن) ایک ذمہ دار اور بااختیار فرد تھا تو اُس کے ساتھ جرگہ مرکہ کرنا اور معاہدہ کرنا ایک فطری سی بات تھی۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کے گورنر جنرل خود جناح صاحب ہی تھے جنہوں نے ازخود اپنے لئے یہ منصب چنا تھا۔ تو ظاہر ہے وہ تو پاکستان کا گورنر جنرل تھا تاج برطانیہ کے اقتدار اعلیٰ کا حاکم تو نہیں تھا! اب ان حالات میں پاکستان کوئی ساز باز اور سازش تو کرسکتا تھا مگر ایک بااختیار اور ذمہ دار حاکم کی حیثیت اُسے حاصل نہیں تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اس وقت تمام ذمہ دار لوگ یہ رائے دے رہے تھے کہ اگست 1947ء سے جون1948ء تک پاکستان کو بھی ماؤنٹ بیٹن کی سربراہی بطور گورنر جنرل قبول کرنی چاہیے کہ اس طرح پاکستان کے پاس بھی مشترکہ گورنر جنرل کی صورت میں اقتدار اعلیٰ کا(option) ہوگا اور وہ (پاکستان) اس پوزیشن میں ہوگا کہ ایک صاحب اختیار اور ذمہ دار حاکم کی حیثیت سے اُن معاہدوں کا حصہ بن سکے۔دوسری اہم اور قابل غور بات یہ تھی کہ دیگر اہم اور بنیادی تنازعات کی طرح ان ریاستوں کے حوالے سے بھی مسلم لیگ اور کانگریس میں ایک بنیادی اختلاف موجود تھا اور کانگریس کی پالیسی یہی تھی کہ ریاست کے مستقبل کے فیصلے ریاستوں کے عوام ہی کریں۔ اب اس حوالے سے کانگریس کا نقطہ نظر تو اس پارٹی (کانگریس) کے بنیادی نظریات سے ہم آہنگ تھا کہ وہ اس میدان میں بھی عوامی رائے اور جمہوری حقوق کی بات کر رہے تھے مگر مسلم لیگ کا نقطہ نظر کچھ اور تھا وہ عوام کے اس بنیادی جمہوری حق کے خلاف تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ہندوستان میں چند بڑی ریاستیں ایسی تھیں جن کے حکمران تو مسلمان تھے مگر اُن ریاستوں میں اکثریت ہندوؤں کی تھی۔
٭٭٭٭٭

Google+ Linkedin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*
*
*