ہماری قید کے دوران ملکی سیاسی حالات کا مختصر جائزہ (پہلا حصہ)

مترجم نورالامین یوسفزئی

جب ہم جیل سے باہر آئے اور ارباب حکومت سے مذاکرات کے سلسلے میں رابطہ اور لاہور اور کراچی کے حالات کا اندازہ ہوا تو یہ بھی پتہ چلا کہ گذشتہ سات سال میں لوگ خود بھی کیسے کیسے عجیب وغریب حالات اور ادوار سے گزرے ہیں۔ اُن کی یہ حالت اور طور طریقے دیکھ کر حیرت ہوئی تھی اور سچ تو یہ ہے کہ میرے لئے تو یہ سب ایک تماشے سے کم نہیں تھا۔ کیونکہ اکثر جیل خانوں میں تو سرے سے اخبار آتے نہیں اور جن جیل خانوں میں جو بھی اخبار آتے تھے وہ بھی سرکار کی پالیسی کے تابع ہوتے تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اپوزیشن کی آواز مکمل طور پر دبا دی گئی تھی۔ جو بھی سرکار پر تنقید کرتا، اُس کی وہ تنقید ریاست پر تنقید سمجھی جاتی تھی۔ تو جیل تو درکنار ہمارے صوبے کا تو باوا آدم ہی نرالا تھا۔ یہاں پر صرف ایک اخبار تھا ”شہباز“ جس کا کام صرف یہ تھا کہ وہ قیوم خان کی تقاریر چھاپا کرے۔ خدائی خدمتگار اور اُس کے مشران کو گندی گندی گالیاں دے تو گذشتہ سات سال میں جو کچھ گزرا اور جو ہوا بہتر یہ ہے کہ اُس پر ایک سرسری نگاہ دوڑائی جائے تاکہ پتہ چلے کہ ہم کہاں سے روانہ ہوئے تھے، ہمارا ارادہ اور ہماری نیت کیا تھی، کہاں ہمیں پہنچنا تھا اور کہاں تک پہنچ گئے تھے اور اب کس طرف اور کہاں جا رہے ہیں؟ جیل خانے کی تو اپنی ایک عجیب دنیا ہے۔ غور کیا جائے تو جیل کی اُن اونچی دیواروں اور سیاہ دروازوں کے پیچھے اُس دل جلے ماحول میں بھی بہت ساری خوبیاں ہیں۔ مگر اُن خوبیوں کو دیکھنے اور محسوس کرنے کے لئے ایک خاص بصیرت اور ایک خاص زاویہ نظر کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ ایک خاص کیفیت میں زیادہ بہتر انداز میں دیکھی اور محسوس کی جا سکتی ہیں۔ باہر کی دنیا کی اپنی الگ مصروفیات اور اپنے مسائل ہوتے ہیں۔ جہاں زندگی بھی اگرچہ رواں دواں ہوتی ہے مگر اُس رواں دواں زندگی کی اپنی بے آرامی اور اپنا ایک اضطراب بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر غمی خوشی، کاروبار زیست، جلسہ جلوس اور نہ جانے اور کیا کیا جبکہ جیل کی زندگی میں ایک خاص قسم کا ٹھہراؤ اور ایک ایسی شانتی ہوتی ہے جہاں انسان کو غور اور فکر کرنے کے لئے بھی اچھا خاصا وقت ملتا ہے۔ جیل کی اذیتیں اپنی جگہ مگر خوداحتسابی اور کائنات کے حوالے سے دلجمعی کے ساتھ غور اور فکر کرنے کا جو بہترین موقع جیل کی دیواروں کے پیچھے ملتا ہے وہ باہر کی مصروف، بے چین اور مضطرب زندگی میں بالکل نہیں ملتا۔ باہر کی زندگی کی مثال ہم یوں دے سکتے ہیں جیسے ایک آدمی دریا کی موجوں کی لپیٹ میں ہو۔ کبھی ایک گرداب میں اور کبھی دوسرے میں غوطے مار رہا ہو اور جب وہ ایک گرداب سے نکلنے میں قدرے کامیاب ہو جاتا ہے تو سامنے دوسرا تیار کھڑا ہو۔ بس دنیوی زندگی کی مثال ایسی ہی ہے، بے چین، مضطرب اور شورزدہ۔ مگر دوسری طرف جیل کی زندگی ایسی ہے کہ جب انسان جیل چلا جاتا ہے تو باہر کے تمام معاملات اور مسائل سے تقریباً کٹ کر رہ جاتا ہے اور وہ دوڑ دھوپ سے بھری سرگرداں زندگی رک سی جاتی ہے اور جب یہ قیدی قدرے آرام اور سکھ کی سانس لیتا ہے تو اُس کی مثال اُس شخص جیسی ہو جاتی ہے جیسے وہ کسی جوہڑ کے پاس بیٹھا ہو اور جوہڑ کے گدلے پانی میں ہاتھ ڈال کر اُسے ہلانے کی سعی کر رہا ہو۔ مگر وہ گدلا پانی ویسے کا ویسا ہی رہے، اُس میں نہ تو کوئی طغیانی آتی ہو اور نہ ہی کوئی موج۔ مگر جب وہ کچھ دیر بعد وہ گلاس یا جام کو آرام سے رکھ دتا ہے تو چند لحظے بعد اُس گدلے پانی میں ویسا ہی ٹھہراؤ آتا ہے۔ اُس کی سطح پر موجود مٹی اور میل نیچے چلا جاتا ہے اور جب کچھ وقت گذرتا ہے تو وہ پانی گدلا نہیں رہتا بلکہ نیلا اور صاف پانی دکھائی دینے لگتا ہے۔ ہر طرف سے پاک اور چمکتا ہوا پانی۔ بالکل ایسی ہی مثال انسان کے دماغ کی بھی ہے۔ جب انسان جیل سے باہر ہوتا ہے تو وہ بہت مصروف اور بے آرام زندگی گزارتا ہے اور اُسے وہ کچھ نظر نہیں آتا جو کہ اُسے نظر آنا چاہیے مگر جیل کی تنہائی اور خاموشی میں اُس کی بصیرت اور اُس کا دماغ اُس گدلے پانی کی طرح صاف دکھائی دینے لگتا ہے۔ نظریہ پاکستا ن کی نئی تشریح اور اُس پر عمل درآمد
جب ہم ہری پور جیل سے چالان ہوئے اور مچھ جیل چلے گئے تو ہم سب دوست اکٹھے ہوئے۔ ہمارے ساتھیوں میں قاضی عطاء اللہ اور خان لالا امیر محمد خان جیسے عالم فاضل اور سیاسی بصیرت رکھنے والے افراد شامل تھے تو جب بھی ہم کسی سرکاری اخبار میں کوئی خبر پڑھتے او اُس خبر پر بحث ہوتی تو ہم حیران رہ جاتے اور اکثر اوقات تو یہ سوچنے پر بھی مجبور ہو جاتے کہ یا تو ہم لوگ پاگل ہیں اور یا پھر صاحب اقتدار لوگ نادان اور بے وقوف ہیں کیونکہ ہمارے اندازے کے مطابق یہ لوگ جو بھی کام کرتے تھے اور جو بھی قدم اُٹھاتے تھے وہ اُن لوگوں کے اپنے بنیادی نظریے کے خلاف ہوتا تھا۔ مسلم لیگی اکابرین نے پاکستان اس لئے بنایا تھا کہ اُن کے خیال میں ہندوستان کے مسلمانوں کو اُن کا گھر مل جائے اور اپنی مرضی کے مطابق اُس آزاد ملک میں مسلمان بلا شرکت غیرے اپنے عقیدے اور اسلامی قانون کے تحت زندگی بسر کر سکیں۔ مطلب اُس میں وہ اسلامی نظام نافذ کر سکیں کیونکہ مسلمان کا یہ نعرہ اور بنیادی نظریہ تھا کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہے اور یہی ”دو قومی نظریہ“ مسلم لیگ کی سیاست کی جڑ اور اُس کا نچوڑ تھا مگر اس ملک کے قیام کے حوالے جناح صاحب نے عجیب فلسفہ اپنایا تھا۔ مسلمانوں میں جو جنون اور مذہبی انتہا پسند تھے اُنہیں کہتے تھے کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہو گا، وہاں اسلامی نظام ہو گا اور تمام فیصلے شریعت محمدیؐ کے مطابق ہوں گے۔ میں نے بذات خود اسی مضمون کا ایک خط پیر مانکی شریف سید امین الحسنات کے پاس دیکھا تھا جس میں یہ سب کچھ لکھا تھا اور خط کے نیچے محمد علی جناح کے دستخط تھے۔ جبکہ دوسری طرف جب وہ تعلیم یافتہ اور مغربی طرز حکومت سے متاثرہ لوگوں سے ملتے اور خاص طور پر وکلاء حضرات سے بات کرتے تو اُن کے ساتھ مغربی طرز سیاست اور جمہوریت کی بات کرتے، یہ عجیب تضاد تھا۔ اس سلسلے میں سکندر مرزا اپنی سوانح عمری میں لکھتے ہیں کہ جب پاکستان کا اعلان ہوا اور ہم اُس کے بعد دہلی سے آرہے تھے تو میں نے جناح صاحب سے پوچھا کہ Are you going to have a type of govt with the account on Islam? "No-nonsense” he replied, "i am going to have a modern govt.”
ترجمہ: آیا آپ ایک ایسی حکومت بنانا چاہتے ہیں کہ جس میں اسلام کا بول بالا ہو گا؟ ”نہیں“ اُنہوں نے جواب میں کہا۔ ”بکواس مت کرو۔ میں ایک جدید حکومت بناؤں گا۔“ ویسے بھی جب میں نے پیر مانکی صاحب کے پاس وہ خط دیکھا تو میں نے کہا کہ پیر صاحب آپ نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ جونہی جناح صاحب نے پاکستان کی پہلی وزارت کا اعلان کیا تو قانون کی وزارت اُس نے کس کے حوالے کی۔ قانون کے لئے (مملکت خداد پاکستان جو کہ ایک اسلامی ریاست تھی) اور جس میں اسلامی نظام رائج ہونا تھا اور آپ سے کئے گئے عہد کے مطابق پاکستان میں شریعت محمدیؐ جاری ہو گی تو آپ کے خیال میں شریعت محمدیؐ اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے ملک میں سب سے موزوں آدمی جوگندر ناتھ منڈل تھا جو کہ ہندو تھا اور ہندوؤں میں بھی نچلی ذات سے تعلق رکھتا تھا۔ یعنی اچھوت تھا تو کیا آپ کی آنکھیں کھولنے کے لئے یہ کافی نہیں تھا؟ دراصل پاکستان میں بسنے کے بعد جناح صاحب کے نقطہ نظر اور دو قومی نظریے کے حوالے سے جو تبدیلی آئی اور جس کا عملی اظہار بھی سامنے آیا وہ اُن کی 11ستمبر 1947ء کی وہ تقریر تھی جو انہوں نے آئین ساز اسمبلی میں کی۔ وہ تقریر اُنہوں نے ایک نہاہت ہی ذمہ دار فورم پر کی تھی کوئی جلسہ یا عام اجلاس کی تقریر نہیں تھی جس میں اُنہوں نے پاکستان کے لئے آئندہ کا لائحہ عمل اسمبلی اور دنیا کے سامنے رکھ دیا تھا اور جس شخص نے یہ تقریر کی تھی وہ مسلم لیگ کا کوئی عام ورکر یا سیاستدان نہیں تھا بلکہ وہ بابائے قوم بھی تھا، مسلم لیگ کا سربراہ بھی تھا، ملک کا بااختیار گورنر جنرل بھی تھا اور اُس آئین ساز اسمبلی کا صدر بھی تھا۔ وہ یہ تقریر لکھ کر لائے تھے حالانکہ وہ ایک تجربہ کار پارلیمنٹیرین اور ایک کہنہ مشق قانون دان تھے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اسمبلی کے فلور پر کوئی کاغذ سے لکھی ہوئی تقریر نہیں کر سکتا۔ وہ جو ایک بیرسٹر بھی تھے اور اکثر زبانی تقریر کیا کرتے تھے اپنے ساتھ لکھی ہوئی تقریر اس لئے لائے تھے کہ وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ اُن سے کوئی غلطی سرزد ہو اور زبانی طور پر ایسی کوئی بات اُن کے منہ سے نہ نکلے جو اس حوالے سے ابہام پیدا کرے۔ دراصل وہ واضح الفاظ میں دنیا اور قوم کے سامنے پاکستان کا بنیادی نظریہ رکھنا چاہتے تھے اور اُس تقریر میں وہ نہایت واضح الفاظ میں نظریہ پاکستان کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ Hindus will cease to be Hindus and Muslim will cease to be Muslim, not in the religious sense.
”نہ ہندو ہندو رہے گا اور نہ مسلمان مسلمان، مذہبی اعتبار سے نہیں“
یہ اپنے سامنے ایک نمونے کے طور پر رکھ دیں کہ پاکستان میں نہ کوئی ہندو، ہندو رہے گا اور نہ کوئی مسلمان، مسلمان اور مذہبی اعتبار سے نہیں کہ مذہب تو ہر کسی کا ذاتی معاملہ ہے۔
Keep this as your ideal before you.
ترجمہ: یہ اپنے سامنے ایک آئیڈیل (مثال) کے طور پر رکھیں اور سیاسی طور پر وہ ملک کے ہر حصے میں یکساں حقوق کے حق دار ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔ جو کوئی بھی یہ تقریر پڑھتا ہے تو وہ اسے پڑھنے کے بعد بس ایک نتیجے پر پہنچنے لگتا ہے کہ یہ تقریر مسلم لیگ کے بنیادی تصور اور دو قومی نظریے کے خلاف ہے اور جسے انگریز ی میں ایک secular ریاست کہتے ہیں یعنی ایک غیرفرقہ وارانہ سیاسی نظریہ، تو یہ تو ابتداء میں فیصلہ ہوا۔ دوسرا مسئلہ متروک املاک کا مسئلہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں

”باچا خان شتہ، د قیوم خان خو سہ درک نہ لگی“ ۔۔۔ فیاض الدین

یہ تو ان کی خوش قسمتی تھی کہ گولیاں ختم ہوگئیں، ہم نے کسی کو …

%d bloggers like this: