جنرل ایوب خان کا دور (چھٹا حصہ)

مترجم: نورالامین یوسفزئی

اس فیصلے کے ساتھ پنجاب کے کھیتوں کیلئے نئے سرے سے آب پاشی کا انتظام ضروری ہو گیا تھا کیونکہ جو پرانی کھودی گئی نہریں تھیں وہ سب تو پنجاب کے دریاؤں کے پانی سے کھودی گئی تھیں لہٰذا اب پاکستان کو نئے سے سے نہریں کھودنا پڑ گئیں مگر لگتا ہے کہ اس وقت پاکستانی وفد کے اراکین کا دھیان اُس طرف گیا ہی نہیں تھا۔ اس وقت یہ افواہ بھی گردش کر رہی تھی کہ اس ڈیل میں پنجابی انجینئرز نے رشوت لی ہے اور اُن لوگوں نے یہ پانی ہندوستان کو بیچ دیا ہے اور اس عمل کا نتیجہ پنجاب کے حق میں تباہی کی صورت میں سامنے آیا۔ چونکہ وہ پرانی نہریں دریاؤں کے ساتھ اس انداز سے بنائی گئی تھیں کہ فاضل پانی زمین سے خارج ہوتا تھا اور جونہی دریاؤں کا پانی نیچے چلا جاتا تھا تو آس پاس کی تمام سیم زدہ زمینوں کا فاضل پانی نیچے چلا جاتا تھا اور زمین خشک پڑ جاتی مطلب کہ سیم و تھور کا مسئلہ بھی حل ہونا تھا۔ مگر یہ نئی نہریں جب کھودی گئیں تو یہ رُوبہ مغرب تھیں، اب اگر (سیم وتھور) کا رُخ قطب کی طرف تھا تو یہ نہریں چونکہ رُوبہ قبلہ تھیں تو (اضافی پانی کا) راستہ بند ہو گیا۔ یُوں اس تباہی کے نتیجے میں پنجاب کی زرخیز ترین زمین کاشتکاری کے قابل نہیں رہی، یہ ساری زمین سیم و تھور کا شکار ہو گئی اور فصل پیداکرنے کے صلاحیت کھو بیٹھی۔ میں خود پنجاب کے ان متاثرہ علاقوں کے دورہ پر گیا ہوں جہاں میلوں کے حساب سے زمین سیم و تھور کی وجہ سے ناکارہ ہو چکی ہے اور فصل اُگانے کے قابل نہیں رہی، کہا جا رہا تھا کہ ایک منٹ میں تقریباً ایک ایکڑ کے حساب سے یہ زمین ناکارہ ہوئی جا رہی ہے۔ ان نئی نہروں کی کھدائی سے ایک اور مشکل یہ سامنے آ گئی کہ یہ سائز میں بہت بڑی تھیں اور ان کی کھدائی سے جو مٹی باہر آئی اُس مٹی کے لئے بڑے بڑے خندق بنا دی گئی یوں ان نہروں کے کنارے بیس بیس (20-20) فٹ خندق بنائی گئی اور یہ خندقیں میلوں پر پھیلی ہوئی ہیں۔ اب جب موسم گرما میں بارشیں زیادہ ہوتی ہیں اورسیلاب آتے ہیں تو اُس سیلابی پانی کے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا، یہ بیس فٹ تک کے حساب سے نہروں کے کنارے کھڑا ہوتا ہے تو اس سیلاب کے ہاتھوں جو تباہی آتی ہے وہ تو اپنی جگہ مگر جب یہ پانی وہاں کھڑا ہوتا ہے تو آہستہ آہستہ زیر زمین چلا جاتا ہے اور پھر یہ زمین سیم و تھور کی گود میں چلی جاتی ہے۔ چونکہ پانی کو نکلنے کیلئے راستہ نہیں تھا اس وجہ سے یہ پانی دُور دُور تک پھیلنے لگتا اور وہ علاقے جہاں کبھی سیلاب کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا تھا وہ بھی سیلاب کی زد میں آ گئے۔ اس دوران اگر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ سیلاب کا یہ پانی بند توڑ دیتا ہے تو تباہی اور بھی کئی گُناّ زیادہ ہو جاتی ہے، یہ تباہی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ہم اس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔
اصلاحات:۔
جیسا کہ امریکہ نے توقع ظاہر کی تھی تو مارشل لاء حکومت نے اپنی طرف سے اُن اصلاحات کا آغاز کر دیا اور ابتداء زمینوں سے کی گئی اور بڑے بڑے جاگیرداروں سے اُن کی زمین سرکاری تحقیل میں لے لی گئیں تاکہ عوام میں یہ تاثر پھیل جائے کہ ایسا کر کے سرکار ملک میں موجود بڑے زمینداروں، چودھریوں، خوانین اور وزیروں کی حیثیت کم کر رہی ہے تاکہ ملک میں ان کا اثر رسوخ کم ہو جائے۔ اور زمینوں کی حیثیت کا اندازہ لگانے کیلئے ون یونٹ کا حساب کتاب شروع کیا گیا۔ پھلوں کے باغات اورگھوڑوں کے فارم وغیرہ کو اس حساب کتاب سے نکال کر باہر کیا اور حیرت کی بات یہ تھی کہ سرکار نے جو حد، حدِ ملکیت کیلئے مقرر کی اُس حد سے متعلقہ لوگ پہلے سے آگاہ تھے۔ مثال کے طور پر ہمارے ھوتی کے نوابزادگان اور خوانین اس حقیقت سے آگاہ تھے، وہ زرعی اصلاحات کے بارے میں بھی جان گئے تھے اور اُن لوگوں نے پہلا کام یہ کیا کہ اپنے ایجنٹ بھیج دیئے تاکہ یہ معلوم کر سکیں کہ جنرل ایوب خان کی اندرونی خانہ پیش بندی کیا ہے؟ اور اُدھر سے اُن کو یہ معلوم ہوا کہ اس حساب کتاب کے تحت مالکان سے زمینیں لی جائیں گی۔ چنانچہ اُس حساب کتاب کے مطابق انہوں نے اپنی زمینوں کے کاغذات تیار کر لئے، انتقالات درج کئے گئے۔ مجھے ایسے گھرانے بھی معلوم ہیں کہ اُن کی ہزاروں کنال کے حساب سے جائیدادیں تھیں مگر سرکار اُن سے ایک کنال بھی نہیں لے سکی ہاں جو بالکل خواب خرگوش کی نیند سوئے ہوئے تھے تو ان کے ہاتھوں سے اگر زمین چل گئی ہو تو شاید ایسا ہوا ہو گا۔ دیکھا جائے تو مذکورہ زرعی اصلاحات محض عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے تھیں کیونکہ اُن تمام جاگیرداروں کی جائیداد تو کیا اُن کی آمدن میں بھی رتی برابر فرق نہیں آیا اور ان اصلاحات کے سامنے ایسا کوئی مقصد تھا بھی نہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام کی ایک مضبوط کڑی سندھ کا جاگیردار اور بڑا زمیندار طبقہ تھا۔ البتہ اس عرصے میں کافی پیش رفت ہوئی اور امریکی امداد کی برکت سے ملک بین الاقوامی اداروں کے اقتصادی قرضوں سے نجات پا گیا۔ سرمایہ داروں نے کارخانے بنائے اورکارخانے بنانے کیلئے ایک ایسا طریقہ کار اختیار کیا گیا کہ ایک پیسے کی ذاتی سرمایہ کاری کے بغیر لاکھوں روپے کے کارخانے لگائے گئے اور سرکار نے چھ سال کیلئے اُن صنعتی یونٹوں کو ٹیکس کی چُھوٹ بھی دے رکھی تھی اور جس رقم سے کارخانہ لگا دیا جاتا اُس کی وصول بھی اُس صورت میں کی جاتی تھی جب وہ کارخانہ باقاعدہ چلنے لگتا تھا اور رقم واپس لوٹانے کا طریقہ بھی نہایت آسان تھا۔ ایک شخص اُٹھ کھڑا ہوتا اور سرکار کو درخواست دے دیتا کہ میں فلاں چیز کا کارخانہ لگانا چاہتا ہوں اور اُس کارخانے کا فائدہ یہ ہو گا، اس کیلئے خام مال ایسے مہیا کیا جائے گا، اُس کارخانے کے ملک کیلئے یہ فوائد ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔ اُس درخواست پر سرکاری ادارے منظوری دیتے اور پھر اُس شخص کو حکم دیا جاتا کہ اب تم جاؤ اور مجوزہ کارخانے کیلئے مشینری خرید لو، اُس کو آمدروفت اور خرید وفروخت کیلئے بیرونی کرنسی دی جاتی، پھر وہ آدمی ملک سے باہر چلا جاتا۔ اس میں ایسے بہت سارے واقعات بھی سامنے آئے کہ ایک شخص باہر جا کر ایک کروڑ کی مشینری خرید لیتا تھا اورکاغذات میں زیادہ رقم درج کر لیتا تھا جبکہ دس بیس لاکھ روپے اُس خارجہ کرنسی میں بھی ہتھیا لیتا تھا۔ جب وہ واپس وطن آتا تو ادھر بھی سرکار اُس کو کارخانے کیلئے عمارت کی آبادکاری اورمزدوروں کی تعیناتی کیلئے خاطر خواہ رقم دے دیتی۔ اس طرح کارخانہ لگ جاتا، مشینری لائی جاتی، کارخانہ چالو ہو جاتا اور اس تمام عمل میں اُس کارخانہ دار کی ایک پائی بھی نہیں لگتی تھی بلکہ لاکھوں روپے باہر کے ممالک میں بھی جمع ہو جاتے اور ادھر بھی کارخانے کی آبادکاری میں بھی اپنے بچوں کیلئے کچھ نہ کچھ بچت کر ہی لیتا۔ یہ تو وہ لوگ تھے جنہوں نے کارخانے لگانے کی تگ ودو قبول کی تھی ورنہ تو اُن دنوں پیسے کمانے کا آسان راستہ یہ تھا کہ حکومت سے کارخانے کا اجازت نامہ لے لیا جاتا اور پھر وہ اجازت نامہ لاکھوں روپے لے کر کسی اورکو فروخت کر دیا جاتا تھا۔ گویا بغیر ہاتھ پیر ہلائے ایک شخص راتوں رات صنعتکار اورکروڑ پتی بن جاتا تھا۔ اس طرح ایک قومی سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد رکھی گئی اور ملک نے کروڑوں نہیں بلکہ اربوں کے حساب سے قرضہ لیا۔ اُس اصل زر کے ساتھ اُس کا سود بھی مان لیا۔ اس طرح جب سود اور قرضوں کی ادائیگی کا وقت آیا تو وہ عوام کی کھال سے نکالنا پڑا اور عیاشی اُن سرمایہ داروں کے حصے میں آئی۔ جب باہر کے ممالک پاکستان کو قرضہ دیتے تو کارخانے بھی فروخت کئے جاتے۔ رقم تو واپس لی جاتی مگر اُن کارخانوں کیلئے انجینئرز، دیگر ماہرین اور صلا ح کار بھی بھیج دیئے جاتے اور وہ تمام اپنے حساب سے تنخواہیں لیتے تھے۔ یُوں اس غریب ملک میں ایک اور لوٹ مار کا آغاز ہوا دوسری طرف سرکار کے تمام دفاتر، بینک، بندرگاہ (درآمد، برآمد وغیرہ) سب کا مرکز کراچی شہر تھا، اس وجہ سے پاکستان کی تمام دولت بھی اسی ایک مرکز پر مرتکز ہونے لگی۔

یہ بھی پڑھیں

بیانیے پر ڈٹا ہوا نواز شریف

تحریر: حماد حسن وہ یہی نواز شریف ہی تھا جس نے اپنی قریب المرگ اہلیہ …