صدارتی انتخاب (آٹھواں حصہ)

مترجم: نورالامین یوسفزئی

بہرحال انتخابی مہم کے ذریعے ملک میں جو سیاسی حرکت شروع ہوئی اُس عمل نے فیلڈ مارشل اور اُس کے حواریوں کوکافی پریشان کر رکھا تھا۔ دراصل اُس کو تو ان درباری خوشامدیوں اور سرکاری افسران نے یہ تاثر دے رکھا تھا کہ قوم تو آپ پر جان نچھاورکرتی ہے اور یہ کہ کوئی بھی آپ کے خلاف ایک لفظ سننے کو تیارنہیں ہے مگر جونہی یہ جلسے جلوس اور مظاہرے شروع ہوئے تو صاحب لوگ جان گئے کہ قوم تو دوسرے راستے پر گامزن ہے۔ کچھ دیر بعد وقت کے ساتھ ساتھ اتحادی اکابرین کی تقاریر میں بھی پختگی آ گئی۔ اب اُن میں قوم کے مسائل کا ذکر بھی تھا اور ایک جمہوری نکتہ نگاہ سے فوجی آمریت پر اعتراضات بھی، سرکار کی طرف سے عوام کے جمہوری حقوق کا غصب کرنا، پریس کو اپنی مُٹھی میں لے کر جھوٹ کا پلندہ بنانا، عوام کو اپنی رائے کی آزادی اور ووٹ کاحق نہ دینا اور پھر آخر میں قوم کی امانت محض اسی ہزار ممبران کے سپردکرنا۔ سرکار کے اقتصادی پروگرام پر بھی عوام کے نکتہ نگاہ سے ایک بڑا اعتراض تھا البتہ وہ چند ترقی پسند جو ایوب خان کی چین دوستی کی وجہ سے اُس کی طرف ہو گئے تھے، ایوب خان کی پالیسیوں کے گن گاتے تھے باقی تمام جمہوری قوتوں نے اس بات پر زور دے رکھا تھا کہ ایوب خان کی سرکار میں ترقی کے تمام ثمرات محض اُن بائیس تائیس خاندانوں تک محدودہو کر رہ گئے ہیں جو کہ اُن کے اقتدارکا بالواسطہ یا بلاواسطہ حصہ ہیں باقی ساری قوم غُربت کی اتھاہ گہرائی میں گرتی جا رہی ہے جبکہ ملک میں کارخانہ داروں، تاجروں اور سرکاری افسروں کو ملی بھگت کی وجہ سے مہنگائی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے جس نے ایک عام آدمی کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ یہاں مسلم لیگی اکابرین کیلئے ایک گُنجائش موجود تھی جن کی سیاست کی ساری بنیاد ہندوستان دشمنی اور محاذآرائی پر مبنی تھی۔ یہ اکابرین اپنی تقاریر میں یہ بات کہا کرتے تھے کہ ایوب خان نے اُس وقت بہت بڑی غفلت کا مظاہرہ کیا ہے جس وقت چین اورہندوستان کی جنگ تھی، اس وقت اس کو چاہئے تھا کہ موقع سے فائدہ اُٹھاتا اور کشمیر پر حملہ کر دیتا، چونکہ اس وقت اس نے کشمیر پر حملہ نہیں کیا تو اب نہ یہ فوجی قیادت کے اہل ہیں اور نہ سیاسی قیادت کا حق رکھتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ اگر ان تینوں اعتراضات کا جائزہ لیا جائے تو ہر ایک اپنی اپنی جگہ پر ایسے تھے کہ قوم کے ایک یا دوسرے گروہ کو اپیل کرتے تھے۔ اس پر کنونشن مسلم لیگ کے اوسان خطا ہوئے۔ پہلے مرحلے میں تو ان لوگوں نے اپنے درباری اور سرکاری مولویوں کو متحرک کیا تاکہ اسلام کے تقدس کو انتخابی مہم میں استعمال کر سکیں اور اُن سب نے فتویٰ دیا کہ اسلام کی رُو سے ایک خاتون ملک کی سربراہ نہیں بن سکتی لہٰذا فاطمہ جناح کو ووٹ دینے کا مطلب ہو گا اسلامی احکامات سے رُوگردانی کرنا۔ اُس نے فیلڈ مارشل صاحب کا وہ کاغذ اُٹھا کر فاطمہ جناح کو دے دیا، اُس نے اس کو پڑھ کر اسے سُنانے کا کہہ دیا۔ جب وہ خبر شوکت حیات نے پڑھ کر سُنا دی تو فاطمہ جناح فوراً اُٹھ کھڑی ہوئیں اور اپنے طیش کی حالت میں اپنے کمرے میں چلی گئیں اور ساتھ میں یہ بھی کہہ گئیں کہ میرے سیکرٹری کو بھیج دو کہ میں اپنی لکھی ہوئی تقریر تبدیل کر دوں۔ اس پر ساری مجلس حیرت میں پڑ گئی۔ خواجہ ناظم الدین نے شوکت حیات کی طرف مڑ کر کہا کہ یہ تو وہی بات ہوئی جو کل ولی خان نے کی تھی، یہ توحیران کن انکشاف ہے۔ اس پر سردارشوکت حیات نے کہا کہ خواجہ صاحب آپ اس ولی خان کو جانتے نہیں، اس کا تو فیلڈ مارشل کے ساتھ مسلسل ایک خفیہ رابطہ ہے اور یہ جوشیطانی چال وہ چل رہے ہیں یہ سب اس نے (ولی خان) نے اُس کو سکھائے ہیں، یہ اُس کا اُستاد ہے۔ خواجہ صاحب نے نہایت معصومیت کے ساتھ میری طرف دیکھ کر کہا کہ نہیں جناب ولی خان تو بہت شریف آدمی ہیں مگر اُس نے (شوکت حیات نے) تو اُن کے دل میں ایک خلش ڈال دی اور خواجہ صاحب تو کیا ساری محفل کا رُخ میر ی طرف ہوا کہ اس نے کل یہ بات کیونکر کی تھی۔ بالآخر خواجہ صاحب نے مجھ سے حقیقت دریافت کی تو میں نے مُسکرا کر کہا کہ جناب چلو میں دعویٰ نہیں کروں گا کہ میں ایک زندہ ولی ہوں اور وہ کچھ بھی دیکھ لیتا ہوں جو کہ ایک عام آدمی کو نظر نہیں آتا مگر اتنا کہنے کی اجازت چاہتا ہوں کہ وجہ بالکل واضح اور سامنے ہے، آپ میری ساری سیاسی زندگی پر ایک نگاہ ڈال لیجئے، میری تو ساری عمر حزب اختلاف میں گزری ہے اور یہ جو حزب اختلاف کے بیدار مغز اراکین کی نظر ہر لمحہ سرکاری پالیسیوں، اُن کی خواہشات اور اُن کی سوچ پر ہوتی ہے اور یہ لوگ درست اندازہ بھی لگا سکتے ہیں خاص کر اُن لوگوں کے مقابلے میں جوہمیشہ حکومت میں رہ چکے ہوتے ہیں اور موجودہ حالات اس کا تجزیہ تو نہایت ہی آسان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیلڈ مارشل ایک جمہوری اور سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں اس کرُسی تک پہنچا ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو یہ کیونکر ایک سیاسی اور جمہوری عمل کے نتیجے میں حکومت چھوڑے گا۔ ظاہر ہے وہ بندوق کے زور پرآیا ہے اور اُس کے جانے کا ذریعہ بھی بندوق ہی ہو سکتی ہے۔ آپ ایک اور پہلو پر بھی غور نہیں کرتے کہ اسی فیلڈ مارشل نے 1956؁ء کی منتخب اسمبلی کا بنایا ہوا آئین خود توڑ ڈالا تھا، جو انتخابات ہوئے تھے اُن کو اپنے بوٹ تلے رُوند ڈالا، سیاسی پارٹیوں پر پابندی لگا دی پھر اپنا ایک شخصی دستور بنایا، عوام سے ووٹ کا حق چھین لیا، وہ جو فرنگی نے دیا تھا وہ حق اس نے چھین کر محض اسی ہزار ممبران کو دے دیا اور اس سارے عمل کا بس ایک مقصد تھا کہ وہ جو چاہتا ہے وہی ہو جائے۔ اب آپ کیا سمجھتے ہیں کہ فیلڈ مارشل نے یہ ساری محنت آپ لوگوں کیلئے کی ہے کہ وہ گھوڑا تیار کرے اور آپ آ کر اُس پر سوار ہو جائیں، کم ازکم آپ لوگ بھی اتنے سادہ تو نہیں ہوں گے؟ مسئلہ کشمیر سرکارکی ایک دُکھتی آگ تھی جو محاذکے اکابرین کے ہاتھوں لگ گئی تھی اور اسی بنیاد پر لوگوں کے جذبات اُبھار دیئے گئے تھے، یہ شوشہ بھی چھوڑ دیا گیا تھا کہ ایوب خان امریکہ سے ڈر رہے ہیں، اسی وجہ سے اُس نے کشمیرکا سودا کیا۔

یہ بھی پڑھیں

Bacha Khan

صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد کشمیر پر حملہ (دوسرا حصہ)

مترجم: نورالامین یوسفزئی افواج کی طرف سے ایک خطرے کی گھنٹی بج رہی تھی اور …