پاکستان کی حکومتیں یا میوزک چیئر کا کھیل (پہلا حصہ)

مترجم: نورالامین یوسفزئی

لیاقت علی خان کے قتل کے بعد

جیسا کہ پہلے بھی کہا گیا ہے لیاقت علی خان کے قتل کے بعد پاکستان کا اختیار براہ راست افسرشاہی کے پاس چلا گیا۔ ان افسران کے سرپنچ تو مرزا غلام محمد تھے جبکہ دماغ کا اختیار سیکرٹری دفاع (سکندر مرزا) کے پاس تھا۔ فوج کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان تھے جبکہ چودھری محمد علی افسر شاہی کے پیرومرشد تھے۔ وزارت خارجہ کا قلمدان سر ظفراللہ کے پاس تھا جبکہ اُن کے سیکرٹری اکرام للہ تھے۔ یہ بات تو سب جانتے تھے کہ حقیقت میں سارا اختیار ان سرکاری افسروں کے پاس تھا جبکہ حکومت (برائے نام) گورنر جنرل غلام محمد چلا رہے تھے۔ اس موضوع پر پہلے بھی تفصیل سے بات ہو چکی ہے مگر بعض موضوعات اپنے سیاق و سباق کی وجہ سے بار بار تکرار ہو رہے ہیں۔ دراصل میں نے یہ نوٹس مختلف اوقات میں لئے اور آخری نوٹ رقم کرتے وقت وہ پرانے نوٹ ہاتھ میں نہیں ہوتے تھے۔ پھر میں بھی کبھی جیل میں ہوتا تھا کبھی نظر بند اور کبھی باہر، دوسرا یہ کہ میری کتاب کا قاری پختون ہے اور میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ پختونوں کو ایک بات بار بار کی جائے تو تب کہیں جا کر یہ لوگ سیکھ پاتے ہیں۔ بہرحال اس سلسلے میں فیروز خان نون کی کتاب From memory)) سے ان کا یہ تجزیہ اپنے قارئین کے ساتھ شریک کرتا ہوں اور پھر آگے بڑھتا ہوں۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ”لیاقت علی خان کے بعد ایسا کوئی غیر سرکاری راہنما نہیں تھا کہ نوکر شاہی کے اس گروہ کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو سکے۔ چونکہ سرکاری لوگ قومی لوگ نہیں ہیں اور نہ ہی یہ لوگ قوم کی مرضی سے مسند اقتدار پر بیٹھے ہیں نہ ہی ان کو قوم نے منتخب کیا ہے تو یہ لوگ خود کو قوم کے سامنے جوابدہ بھی نہیں سمجھتے۔ اس وجہ سے جمہوری عمل مکمل طور پر رُک گیا ہے اور پاکستان کے پہلے دس سال اسی پالیسی کی وجہ سے بدترین دس سال تھے۔“ ان حکمرانوں کی ذہنیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ جب لیاقت علی خان کو مارا جا رہا تھا تو جنرل ایوب لندن کے ایک ہسپتال میں پڑے تھے۔ وہ اپنی کتاب (Friends not masters) میں لکھتے ہیں کہ جب میں کراچی آیا اور مرکزی کابینہ کے اراکین سے ملاقاتیں کر رہا تھا تو اُن میں سے ایک بھی اُس کا نام (لیاقت علی خان کا) لینے کا روادار نہیں تھا کہ ہمدردی کا اظہار کرتے۔ جرنیل صاحب کی بات سے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ اُن سب نے اپنی اپنی جگہ پر خود کو ایک ایک قدم آگے کر دیا تھا اور ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ جیسے لیاقت علی خان کے قتل سے ان سب کو ایک طرح سے آزادی مل گئی۔ تو اب تماشہ یہ دیکھنا ہو گا کہ یہ انگریز کے پروردہ اور تجربہ کار سرکاری افسران سیاسی لوگوں کے ساتھ کیا کیا کھیل کھیلتے ہیں اور کس کس طریقے سے ان کو بے نقاب کریں گے۔
قاتل کون؟
اس سلسلے میں ذہن میں جو پہلا سوال سر اُٹھاتا ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم کا قاتل کون تھا اور اُنہیں کیوں قتل کیا گیا؟ اُن کے قتل کا دعویٰ ایک افغان نژاد سید اکبر پر تھا۔ وہ سال 1946 کو افغان حکومت کے خلاف ایک سازش کے الزام میں فرار ہو کر ہندوستان آیا تھا اور یہاں پر اُسے فرنگی نے پناہ دے رکھی تھی۔ فرنگی سرکار کی طرف سے اُسے اور اُس کے بڑے بھائی زمرک خان کو باقاعدہ تنخوا ملتی تھی۔ فرنگی کے جانے کے بعد حکومت پاکستان کی طرف سے بھی اُنہیں یہ تنخوا دی جاتی تھی مگر اس سلسلے میں بنیادی نکتہ یہ تھا کہ یہ قاتل کیوں فوری طور پر قتل کیا گیا۔ اس پر یہ شک بھی پیدا ہوتا ہے کہ شاید وہ اصل قاتل نہیں تھا اور اُسے اس وجہ سے قتل کیا گیا کہ اصل قاتل کو پناہ دی جائے۔ سید اکبر کو چونکہ صوبہ سرحد کی سرکار تنخواہ دیا کرتی تھی تو اب سوال یہ بھی پیدا ہوا کہ آیا یہ کام اُس نے صوبہ سرحد کی حکومت کے ایماء پر کیا تھا یا پھر ملک سے باہر دوسرے ممالک کا اس قتل میں ہاتھ تھا کیونکہ پاکستان کے تو اللہ کے فضل سے اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات خراب تھے؟ کیا ہندوستان نے یہ کام کیا کیونکہ اُسے بھی تو اُس نے مکا دکھایا تھا اور ہر وقت لڑنے جھگڑنے کی باتیں کیا کرتا تھا یا پھر افغانستان نے یا پھر روس نے یہ کام کیا یا خود فرنگیوں نے اُس کو سامنے سے ہٹا دیا کیونکہ یہ بات بھی واضح ہو چکی تھی کہ اب اُس نے (لیاقت علی خان نے) اپنی ساری تنقید کا مرکز امریکہ کو بنایا تھا، کیونکہ اُس نے کشمیر کے سلسلے میں امریکیوں کے ساتھ نہایت درشت اور سخت لہجہ اختیار کیا ہوا تھا۔ اُس نے یہ شکوہ بھی کیا تھا کہ کشمیر کے بارے میں گراہام رپورٹ سیکیورٹی کونسل میں حسب وعدہ پیش نہیں کی گئی۔ اس سلسلے میں بیگم لیاقت علی خان کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے یہ بات اپنے اکثر دوستوں کو بتا دی تھی کہ وہ اس روز اُس جلسے میں ایک اہم اعلان کرنے والے ہیں۔ اب اس سلسلے میں یہ سوال بھی ذہن میں اُٹھتا ہے کہ آخر اُن کے قتل کا فائدہ کس کو پہنچا؟ ملک کے اندر ایسے کون لوگ تھے جن کی راہ میں وہ سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ بیگم لیاقت علی خان تو اس بات پر مصر تھیں کہ اس بات کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ ویسے بھی یہ ایک عجیب بات ہے کہ ملک کا وزیراعظم دن کی روشنی میں سب کے سامنے میدان پر مارا گیا اور اُن کی موت کا کچھ بھی پتہ نہیں چلا۔ تحقیقاتی ٹیم مقرر ہوئی مگر اُس ٹیم کے سربراہ اعتزازالدین اپنی مکمل رپورٹ کے ساتھ ہوائی حادثے میں مارے گئے تو ٹیم کے سربراہ بھی گئے اور اُس کی رپورٹ بھی گئی۔ پھر خواجہ ناظم الدین کے کہنے پر ایک اور تحقیقاتی کمیشن جسٹس محمد منیر کی سربراہی میں بنایا گیا۔ اُنہوں نے بھی تحقیقات کیں مگر وہ رپورٹ بھی شائع نہ ہو سکی۔ پھر جب محمد علی بوگرہ وزیراعظم بن گئے تو اُنہوں نے اعلان کیا کہ میں فرنگیوں کا سراغ رسانی کا ادارہ سکاٹ لینڈ یارڈ یہاں بلاتا ہوں۔ وہ آئے مگر اُن کی وہ رپورٹ بھی شائع نہ ہو سکی۔ مختصر یہ کہ مملکت خداد پاکستان کے پہلے وزیراعظم اور قائد ملت لیاقت علی خان کا خون ایسے ہی مفت میں رائیگاں چلا گیا۔ یہ جو تحقیقات مکمل نہیں ہو رہیں اور یہ جو رپورٹ شائع نہیں ہوئی تو ان سب کا تو بس ایک ہی مطلب نکلتا ہے کہ اس ڈرامے کے سارے کردار یہاں پاکستان ہی میں موجود ہیں اور نہ صرف یہ کہ موجود ہیں بلکہ صاحب اختیار بھی ہیں۔ اس حوالے سے ایک اور بات بھی قابل غور ہے۔ وہ یہ کہ اُدھر موقع پر موجود پولیس کا سب سے بڑا اور مقامی افسر نجف خان تھا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اُسے وزیراعظم کی حفاظت میں غفلت برتنے پر کڑی سی کڑی سزا دی جاتی مگر سزا تو درکنار اُس نے تو اس واقعہ کے بعد اور بھی ترقی کی۔ اگرچہ بیگم صاحبہ مرتے دم تک چیختی چلاتی اور فریاد کرتی رہیں کہ میں تحقیقات سے مطمئین نہیں ہوں مگر ان کی چیخ و پکار پر کون کان دھر رہا تھا۔ میں نے تو یہاں تک بھی سنا ہے کہ بیگم صاحبہ نے ایک موقع پر یہ بھی کہا تھا کہ تحقیق کی جائے اور اس سلسلے میں اُنہوں نے صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ قیوم خان کا نام بھی لیا تھا۔
خواجہ ناظم الدین کی برطرفی
خواجہ صاحب ایک نرم خو اور بے ضرر آدمی تھے مگر وہ ایسے مکار اور اُستاد لوگوں میں پھنسے ہوئے تھے جنہوں نے اُن کے اوسان خطا کردیئے تھے۔ جب وہ دورے پر ڈھاکہ گئے اور اپنی قوم سے انہوں نے یہ کہا کہ اُردو پاکستان کی قومی زبان ہو گی کیونکہ قائد اعظم نے یہ بات کی ہے۔ بنگالی تو ویسے بھی غصے میں آگ بگولہ تھے اور جب انہوں نے یہ بات کی تو ایسا لگا جیسے اُنہوں نے مکھیوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا۔ جب مزاحمت ہوئی تو اُنہوں نے بہت ساری قسمیں کھائیں اور بار بار کہتے رہے کہ مجھے تو لکھی ہوئی تقریر دی گئی تھی، میں نے وہ تقریر پڑھ کر سنا دی مگر وہ (بنگالی) کب مان رہے تھے۔ فسادات ہوئے، جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ زور پکڑ گیا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی بند کی گئی۔ فسادات پر فوج نے قابو پا لیا۔ یہاں کراچی میں بیٹھے ہوئے وہ تمام اساتذہ ضرور اس بات پر مطمئین ہو گئے ہوں گے کہ چلو خواجہ صاحب کو تو خود اُن کے اپنے لوگوں نے بے عزت کیا۔ اب اگر بنگالی بھی اُن کے ساتھ صف میں کھڑے نہیں ہوں گے تو اور اُن کے ساتھ کون ہیں؟ یوں اُن لوگوں نے خواجہ صاحب کو سیاسی طور پر بہت کمزور کر دیا اور دوسری جانب یہ بھی ثابت کر دیا کہ جب لوگوں پر جنون طاری ہو جاتا ہے اور جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے تو پھر سیاست دان ناکام اور بے کار ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں صرف اور صرف فوج ہی امن کی ضمانت دے سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

یہ ہے سیاستدان اور ڈکٹیٹر کا فرق

تحریر: حماد حسن دو ھزار اٹھارہ کے فتنہ انگیز انتخابات کے بعد وزیراعظم بننے والے …