پاکستان کی خارجہ پالیسی حالات کے تناظر میں (ساتواں حصہ)

مترجم نورالامین یوسفزئی

جبکہ دوسری جانب مغربی پاکستان میں وہ تمام درے ہیں جن پر قطب سے ہمیشہ ہندوستان پر حملے ہوتے رہے ہیں اور جن راستوں پر روس کی آمد کا خطرہ ہے تو مغربی پاکستان اُن تمام علاقوں کے پڑوس میں آباد ہے جہاں سے دنیا بھر کو تیل کی سپلائی ہوتی ہے جس پر امریکہ سمیت تمام مغربی دنیا اور جاپان کی زندگی کا دارومدار ہے۔ لیاقت علی خان یہ سب اچھی طرح جانتے تھے یہی وجہ تھی کہ اُنہوں نے امریکہ سے فوجی اور اقتصادی امداد کے ساتھ ساتھ سیاسی میدان میں بی دو درخواستیں کیں۔ ایک یہ کہ مسئلہ کشمیر میں امریکہ ہندوستان کی بجائے پاکستان کا ساتھ دے اور دوسری یہ کہ کل افغانستان کے مقابلے میں بھی وہ (امریکہ) پاکستان کے ساتھ کھڑا ہو جائے۔ مگر امریکہ ان دونوں سیاسی باتوں میں ساتھ دینے پر آمادہ نہیں تھا اور خاص طور پر ہندوستان کے ساتھ تو وہ کسی بھی صورت میں تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے تھے کیونکہ انقلاب چین کے بعد امریکہ کی تمام تر توقعات کا مرکز ہندوستان تھا۔ اُس کی خواہش یہ تھی کہ اگر ہندوستان کو چین کے سامنے کھڑا کیا جائے تو اُس کے لئے اس سے بہتر آپشن نہیں ہو گا۔ لہٰذا امریکہ کے اپنے مفادات کا تقاضا تھا کہ ہندوستان کو کسی بھی صورت میں ناراض اور مایوس نہ کرے۔ امریکہ کو ایک اور فکر یہ بھی دامن گیر تھی کہ روس جو اب تک مسئلہ کشمیر میں غیرجانبدار پوزیشن پر کھڑا ہے، اگر ہم اس مسئلہ (کشمیر) پر پاکستان کا ساتھ دیں تو ہندوستان کو مجبوراً روس کی طرف ہاتھ بڑھانا ہو گا۔ مگر افغانستان کے حوالے سے اُس نے اتنا کیا کہ وہ (امریکہ) ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم کر لے گا۔ جبکہ مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں اُس نے یہ بھی موقف اختیار کیا کہ اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔

اور جب اندرونی پالیسی خارجہ پالیسی کے تابع ہوگئی:
ایک حکومت تو پاکستانی حکمرانوں کی طرف سے مکمل طور پر مطمئن تھی اور اس حوالے سے اُن کا، ان پر مکمل بھروسہ تھا۔ مگر جب سے وہ اسی ملک کے اندر آ گئے اور اپنے آپ کو یہاں کے داخلی حالات سے آگاہ رکھنے کی کوشش کرنے لگے بطور خاص جب اُن کا رابطہ فنانس منسٹر غلام محمد جیسے لوگوں سے قائم ہوا اور خفیہ ادارے نے اپنا کام شروع کیا اور اقتصاد ی امداد کے ساتھ ساتھ بھاری بھر کم فوجی امداد بھی آنے لگی تو اُس وقت امریکی اس سوچ میں پڑگئے کہ یہ موجودہ حکومت تو مکمل طور پر اُن کے ہاتھوں میں ہے اور اس پر ہر طرح سے اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ مگر اب جبکہ امریکی مفادات اس ملک کے ساتھ وابستہ ہیں تو آئندہ آنے والی حکومتوں کے بارے میں بھی کوئی پالیسی کے حق میں نہ ہو تو پھر تو ہمارے اس سارے منصوبے پر پانی پھیر جائے گا اور اس سلسلے میں کی گئی تمام کوششیں رائیگاں چلی جائیں گی۔جب اُن لوگوں نے تمام حالات کا مکمل طور پر جائزہ لیا تو یہ دیکھا کہ لیاقت علی خان تک تو حالات مکمل طور پر تسلی بخش ہیں مگر اس ملک میں اگر جمہوری عمل شروع ہو جائے اور تبدیلی اقتدار کا عمل جمہوری طریقے سے ہونا شروع ہو جائے اور عنان اقتدار سیاسی لوگوں کے ہاتھوں میں آ جائے تو مسلم لیگ میں اتنا دم خم نہیں ہے کہ وہ اس بکھری ہوئی قوم یکجا کر سکے۔ وہ تو سب فصلی بٹیرے تھے۔ اُن میں تو پہلے دن سے یہ خاصیتیں نہیں تھیں کہ قوم کو امن اور آشتی کی راہ پر ڈال سکیں۔ خود مسلم لیگ بھی ایک ہنگامی دور کی پیدوار تھی اور فرنگیوں کے مراعات یافتہ نواب، خان بہادر وغیرہ اس پارٹی کے قائدین تھے۔ چلو فرنگی نے ساتھ دیا اور ان لوگوں نے یہ مورچہ فتح کر لیا۔ مگر بات جب تعمیر و ترقی کی آتی تھی تو یہ ان کے بس کا روگ نہیں تھا کیونکہ اُن کے خیال میں آبادی کا مطلب ملک اور قوم کی آبادی نہیں تھی بلکہ اپنی اور اپنے مفادات کا حصول تھا۔ غیر مسلموں کی املاک پر ہلہ بول دینا، ان کے چھوڑے ہوئے کارخانے اور کاروبار کو ہتھیا لینا، یہی اُن کا کام تھا اور یہی کچھ وہ بہتر انداز میں کر سکتے تھے۔ پشتو کی یک ضرب المثل ہے۔
”د غلو خوگہ یاری وہ چی پہ ویش تالا والا شوہ“ یعنی ”چوری کی یاری چوری کے مال کی تقسیم کی نذر ہو گئی“ اب ایک طرف کاروبار حکومت تھا اور دوسری طرف ان کی آپس کی کھینچا تائی۔ سارے مسائل جوں کے توں پڑے ہوئے تھے۔ نہ آئین بنا اور نہ ہی عام انتخابات ہو سکے اور یہ سب تضادات امریکی حکام کی نظروں میں تھے۔ وہ یہ مکمل طور پر جان چکے تھے کہ مسلم لیگ کے اکابرین میں یہ سکت بالکل نہیں ہے کہ وہ اس نوزائیدہ ملک کو آئین اور قانون کے مطابق چلا سکیں جبکہ ملک میں موجودہ دوسرے سیاسی گروہ اُن کو وارا نہیں کھاتے تھے کیونکہ ریاست کا اختیار اگر عوام اور عوام کے حقیقی نمائندوں کے پاس جاتا ہے تو پھر تو وہ لوگ وہی کچھ کریں گے جو اپنے ملک اور قوم کے حق میں بہتر جائیں گے۔ قوم کی خیر اور بہتری اسی میں تھی کہ دنیا میں موجود چھوٹے اور کمزور ممالک اپنے سارے وسائل اور ذرائع ملک و قوم کی بہتری کیلئے بروئے کار لائیں اور فرنگیوں کی غلامی کے مارے ہوئے یہ بے سواد اور بے بس لوگ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں تاکہ ملک سے غربت اور جہالت کا خاتمہ ہو، بھوکوں کو کھانا اور بچوں کو علم کی روشنی دی جا سکے اور عوام کی صحت اور تعلیم کیلئے بہتر منصوبے بنائے جا سکیں، مگر یہ سب کچھ تب ہی ممکن تھا کہ قوم کا سفر، امن و آشتی اور تعمیر کی طرف شروع ہو سکے۔ کوئی مخلص، امن پسند اور اپنی قوم سے حقیقی محبت کرنے والا بندہ یہ نہیں چاہے گا کہ اُس کی سرزمین بین الاقوامی قوتوں کی کبڈی کا میدان بن جائے۔ اس طرح تو بقول ہمارے بزرگوں کے سانڈوں کی لڑائی میں مینڈک مفت میں مارے جائیں گے۔ تو یہ حقیقت امریکہ پر عیاں تھی کہ مسلم لیگ میں اتنی سکت نہیں ہے کہ وہ یہ سب کر سکے جبکہ دیگر گروہ اُن کے لئے قابل قبول نہیں تھے۔ ایک اور بات بھی سمجھنے کی ہے کہ امریکہ اپنے اس طرح کے معاملات میں تیسرا فریق برداشت نہیں کر سکتا بقول معروف بیوروکریٹ (سیکرٹری آف سٹیٹ) Those who are not with me are against me (Foster dulles)
ترجمہ: ”وہ جو میرے ساتھ نہیں ہے، وہ میرے مخالف ہیں“۔
اس جملے کا سادہ اور واضح مفہوم یہی نکلتا ہے کہ جو اپنی ذات اور اپنی قوم کا سودا امریکہ بہادر سے نہیں کرتا تو پھر وہ یا تو خود کمیونسٹ ہے اور یا پھر اُن کے ساتھی۔ تو جب امریکہ مسلم لیگیوں سے مایوس ہوا اور دیگر گروہ اُن کو وارا نہیں کھاتے تھے تو وہ پاکستان کیلئے حکمران ڈھونڈنے لگے۔ امریکی حکومت باہر (خارجی دنیا) کے ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کیلئے دو بنیادی شرائط سامنے رکھتی ہے۔ پہلی شرط تو یہ ہے کہ وہ ملک امریکہ کا دوست ہو گا اور دوسرا یہ کہ وہ (حکمران) اپنے ملک میں داخلی امن و امان قائم رکھنے کی استطاعت رکھتا ہو۔ تو بظاہر یہ جو سامراج کی ماری ہوئی نوآبادیاتی کالونیاں ہوتی ہیں اُن میں طاقت صرف اور صرف فوج کے پاس ہوتی ہے اور یوں اس مرحلے پر اُن کی (امریکہ کی) ساری توجہ کا مرکز پاکستان کی فوج بن گئی۔ جب امریکہ نے پاکستانی فوج میں دلچسپی ظاہر کی تو اس وقت تک یہاں کی اسلامی فوج کا سپہ سالار ایک فرنگی جرنیل، جنرل سر ڈیگلس گریسی تھا۔ اب مطالبہ یہ سامنے آیا کہ کوئی پاکستانی فوجی پاکستانی افواج کی کمان سنبھال لے۔ اب اس منصب کے حصول کیلئے فوج میں رسہ کشی جاری تھی۔ جنرل افتخار اور جنرل محمد شیر خان دونوں ایک ہوائی حادثے میں مر گئے اور جنرل ایوب خان کو اے ایم رضا کی جگہ فوجی ہیڈکوارٹر بلایا گیا۔ یہ وہ فوجی افسر تھے جنہوں نے چھلانگیں لگا لگا کر ترقی کی تھی اور اس بات کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ جب ہندوستان کا بٹوارہ ہو رہا تھا تو اس وقت ایوب خان فوج میں لیفٹیننٹ کرنل تھے اور تین سال کے اندر اندر یہ میجر جنرل بن چکے تھے۔ ان لوگوں نے جنرل گریس کے جانے سے پہلے پہلے اس کو (ایوب خان کو) اُس کے ساتھ نائب کمانڈر انچیف کے طور پر لگا دیا۔ پھر اس کو (ایوب خان کو) امریکہ اور برطانیہ بھیجا گیا تاکہ وہ لوگ اس کو اپنی کسوٹی پر خوب پرکھ لیں اور اپنی تسلی کر لیں۔ کہتے ہیں کہ محکمہ دفاع کی شاخ سے لیاقت علی خان کے ساتھ یہ بات کی گئی تھی کہ بہتر یہ ہو گا کہ نیچے سے ایک جرنیل کو آگے لایا جائے تاکہ وہ عمر بھر کیلئے ہمارا مشکور، وفادار اور تابعدار رہے۔

یہ بھی پڑھیں

کیا گلگت بلتستان کو صوبہ بنانا چاہئے؟

گزشتہ دنوں اسلام آباد میں پارلیمنٹیرین کی آرمی چیف سے ایک میٹنگ ہوئی تھی۔ اس …

%d bloggers like this: