اندھیروں میں روشنی کی تلاش (چودہواں حصہ)

آج پیر زکوڑی بھی اُسی کنویں میں پڑا ہوا ہے جو اُنہوں نے کبھی ہمارے لئے کھودا تھا۔ یہ جو پیر فقیر جیسے لوگ ہوتے ہیں یہ بے حد چالاک و عیار اور کرتب والے ہوتے ہیں۔ جب اُنہوں نے جیل میں مجھ کو دیکھا تو جیل سپرانٹنڈنٹ سے کہہ دیا کہ میں تو ویسے بھی یہاں اس جیل میں پڑا ہوا ہوں تو چاہتا ہوں کہ اس موقع سے فائدہ اُٹھاؤں اور یہاں پر ان سے (ولی خان سے) انگریزی زبان سیکھ لوں۔ اُنہوں نے پہلے سے بھی اپنے لئے راہ بنائی تھی۔ یہاں جیل کے عملے اور افسروں کیلئے تعویذ گنڈا کیا کرتے تھے۔ کسی کو اولاد نرینہ پیدا کرنے کیلئے تو کسی کو شادی اور منگنی کیلئے تعویذ دیا کرتے تھے تو اُس نے (سپرانٹنڈنٹ نے) آسانی سے اجازت دے دی۔ جب وہ میرے پاس آئے تو میں نے پہلے دن اُن کو اپنے سامنے بٹھا کر کہا کہ پیری اور مریدی کے آداب سے تو آپ پہلے سے واقف ہیں مگر یہ بتائیں کہ استادی اور شاگردی کبھی کی ہے؟ شاگردی کے آداب سے بھی آگاہ ہیں کہ نہیں؟ اُستاد کے حقوق کیا ہوتے ہیں، وہ جان لو اور یاد رکھو، وہ سارے پورے کرو گے اور پھر میں نے کہا کہ چلو اب نکال لو قاعدہ کہ انگریزی کی ABC شروع کریں مگر وہ بے چارہ تو سبق لینے کیلئے نہیں آیا تھا۔ مجھ سے کہنے لگا کہ جب شام کو یہ لوگ مجھے اپنے چکی میں بند کرتے ہیں اور یہ تالا لگتے وقت ”کڑپ“ کی آواز لگتی ہے تو ادھر میرا دل بھی ”کڑپ“ کرنے لگتا ہے، بہت تکلیف ہوتی ہے۔ چند دن بعد جب میرے ساتھ قدرے بے تکلف ہوا تو مجھ سے کہنے لگا کہ آپ کے یہ دوسرے ساتھی تو سب عمر رسیدہ بوڑھے ہیں مگر تم تو ابھی بالکل نوجوان ہو۔ تو تمھاری زندگی کی یہ چند بہاریں ہیں اور وہ بھی تم اس جیل کے دروازے کے پیچھے گذار رہے ہو تو اس زندگی کا کیا فائدہ؟ جب ہم سب ساتھی شام کے کھانے پر اکٹھے ہوئے تو میں نے اُن سب سے یہ واقعہ شریک کیا اور اُن سے یہ بھی کہا کہ یہ پیر لگتا ہے اور چلنے والا نہیں ہے۔ اس نے پنا بوریا بستر باندھ کے رکھا ہے۔ قاضی صاحب نے کہا کہ یہ پیر فقیر اور مولوی ٹائپ کے لوگ بہت زیادہ شہوت پرست ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انہیں یہی تکلیف ہے۔ یہ ملک بھی عجیب ہے اور اس کا قانون بھی عجیب ہے۔ قاضی صاحب حیدر آباد جیل میں تھے تو انہوں نے وہاں سے حبس بے جاکی درخواست کی تھی اور اُس درخواست کی پیروی حسین شہید سہروردی صاحب کر رہے تھے۔ اُس درخواست کو سندھ ہائی کورٹ نے یہ کہہ کر کچہ میں نامنظور کی کہ یہ تو صوبہ سرحد کا سرکاری قیدی ہے۔ اسے وہاں درخواست دینی چاہیے۔ اُدھر پشاور میں عوامی لیگ کے ورکرز نے ارباب عبدالغفور اور پیرزکوڑی کیلئے درخواست دے دی تو جوڈیشل کمشنر نے فیصلہ دے دیا کہ یہ چونکہ دوسرے صوبے میں نظر بند ہیں اور عدالت ہذا کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں لہٰذا یہ عدالت ان درخواستوں کو سننے کی مجاز نہیں ہے۔ پیر زکوڑی نے جب ہماری حالت زار کو دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ ہم سب سالہا سال سے اس جیل میں پڑے ہوئے ہیں تو اُنہیں بھی اپنی جوانی کی اُن چند بہاروں کی فکر دامن گیر ہوئی۔ اب چونکہ عدالتی راستے تو بند تھے تو چند دن بعد پتہ چلا کہ موصوف نے تیس ہزار کی نقد ضمانت داخل کی اور جیل سے نجات حاصل کی مگر جیل سے رہا ہو کر بھی رہا نہ ہوئے اور گھر کو سب جیل قرار دے کر نظربند کر لئے گئے۔ یہ ہے مسلم لیگ کے قائدین کا حال۔ میں نے اور قاضی صاحب نے 1950کے نوٹس پر حبس بے جاکی درخواست دائر کی اور اس کے نتیجے میں چند مہینے بعد ہم کو سبی جیل چالان کردیا گیا۔ اُدھر جوڈیشل کمشنر انگریز کے سامنے پیش ہوئے۔ قاضی صاحب نے ساری بحث کا موضوع پہلا نوٹس بنایا۔ اُنہوں نے کہہ دیا کہ مجھے 27 جون کو پکڑا گیا ہے جبکہ اس کا آرڈیننس چار جولائی کو پاس ہوا ہے تو جو آرڈیننس میری نظر بندی کے بعد پاس ہوا اُس کا اطلاق میرے اوپر کیسے ہو سکتا ہے؟ جو ڈیشل کمشنر نے کہا کہ میں تو آپ کی موجودہ درخواست پر غور کرسکتا ہوں۔ اُس نوٹس پر تو آپ کو اُس وقت درخواست دینی چاہیے تھی۔ کافی دیر تک بحث مباحثہ ہوا مگر کچھ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ دراصل قاضی صاحب اُس نوٹس سے اس وجہ سے چپکے ہوئے تھے کہ اُس نوٹس کے تحت اُن کی جائیداد بھی ضبط کی گئی تھی تو یہ توقع کر رہے تھے کہ اگر اُس نوٹس کو اُڑانے میں کامیابی ہوئی تو جائیداد بھی واگذار ہو جائے گی۔ اُس کے بعد جوڈیشل کمشنر میری طرف متوجہ ہوئے اور مجھ سے سوال کیا تو میں نے کہا کہ صاحب میں تو وکیل نہیں ہوں اور نہ ہی اُس نوٹس اور اس نوٹس پر بحث کی پوزیشن میں ہوں ورنہ مجھے تو پندرہ جون کو گرفتار کیا گیا۔ قاضی صاحب سے بھی دو ہفتے پہلے۔ میں تو بس اس عدالت سے اتنا پوچھنا چاہتا ہوں کہ مجھے میرا جرم بتا دیا جائے کہ میں نے ملک کا کون سا قانون توڑا ہے یا پھر سرکار کے خلاف کوئی تقریر کی ہے اور یا پھر میں نے سرکار کے کسی حکم کو ماننے سے انکار کیا ہے؟ جب میں نے یہ کہا تو اس وقت ہمارے صوبے کے ایڈوکیٹ جنرل چودھری محمد علی آف ہزار ہ فوراً اُٹھ کھڑے ہوئے اور عدالت سے مخاطب ہوئے کہ اس قانون کے تحت یہ عدالت مجھ کو اس بات پر مجبور نہیں کر سکتی کہ میں مجرم کو اُس کا جرم بتادوں۔ مطلب یہ کہ Ground of detention ظاہر کروں۔ میں نے خود کو اُس فرنگی افسر کے سامنے اور بھی سادہ لوح ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ صاحب میں تو یہ نہیں کہتا کہ مجھ کو آزاد کر دیں۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ مجھے اپنا جرم بتا دیا جائے کہ میرا قصور کیا ہے؟ چودھری محمد علی ایک بار پھر اُٹھ کھڑئے ہوئے اور کہنے لگے کہ I seek the protection of the court”میں اس عدالت سے حفاظت کا طلبگار ہوں“ میں نے اس پر کہا کہ جناب یہ تو عجیب کھیل ہے۔ جیل میں دو سال سے میں پڑا ہوں۔ جائیداد میری ضبط ہو چکی ہے۔ میرے اور میرے بچوں کو سرکار کی طرف سے ایک دمڑی بھی نہیں دی جاتی۔ گھر میرا لوٹا گیا ہے تو اب عدالت کی طرف سے Protection مجھے چاہیے یا پھر اس ظالم سرکار کو؟

یہ بھی پڑھیں

فاٹا انضمام ایک درست عمل!

خیبر پختونخوا کے نئے اضلاع میں فی الوقتی طور پر حکومت وقت کی نااہلی اور …