خوابوں کا بنجارہ، عنایت اللہ ضیا

تحریر: روخان یوسفزئی

ان کے خیال میں پختون لکھاریوں کے ہاتھوں میں جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بجائے صرف قلم رہ گیا ہے جس سے مقابلہ کرنا ممکن نہیں، ترقی پسند ادب کا اعتراف کرتے ہیں کہ اس نے تمام زبانوں کے ادب کو ایک نئی راہ دکھائی تاہم ترقی پسند نظریے کے اس وجہ سے مخالف ہیں کہ اسے ایک محدود دائرے میں مقید رکھا گیا اور اس نظریے نے پختونوں کوبہت بڑا نقصان پہنچایا ہے، اپنی زمین کی بوباس سے اٹھنے والے ادب کو سب سے زیادہ کارآمد اور ترقی پسند ادب کا نام دیتے ہیں

گندمی اور سیاہ رنگ کا حسین امتزاج، کھڑی ناک، ہر وقت اور ہر حالت میں مسکراتے ہوئے سنجیدہ ہونٹ، منہ میں سگریٹ، سفید گھنی داڑھی اور مونچھوں نے ان کے چہرے پر وقار، نوارنیت اور سنجیدگی قائم کر رکھی ہے۔ بات بات پر ہلکی ہلکی مسکراہٹ، قلندرانہ مزاج اور انداز، ہنستے ہیں تو دل کھول کر ہنستے ہیں، ملتے ہیں تو بھی کھل کر ملتے ہیں، پہلی ہی ملاقات میں آپ یوں محسوس کریں گے کہ وہ آپ کے نئے واقف کار نہیں بلکہ پرانے جاننے والے ہیں۔ چاہے دفتر میں ہوں یا اپنے حجرے میں انہیں آپ ہر جگہ اور ہر وقت افسر کی بجائے ایک کھرے پختون اور اچھا انسان پائیںگے۔ پشتو کے جدید افسانہ نگاروں میں اختصار اور جامعیت کے لحاظ سے ارباب رشیداحمدخان کے بعد عنایت اللہ ضیاء کے افسانے اپنے دیگر ہم عصروں سے بالکل الگ تھلگ ہیں جنہیں اگر کوئی تاش کے پتوں کی طرح دیگر پشتو افسانوں کے ساتھ بانٹ دے توان کا ہر افسانہ خود ہی پکار اٹھے گا کہ میں یہاں ہوں، ان کی نظم ونثر پڑھنے والے کو تھپکتی بھی ہے اور جھنجھوڑتی بھی ہے۔


پشتو زبان کے معروف شاعر، افسانہ نگار، ریڈیو پاکستان پشاور کے پروگرام منیجر، دو ماہی ”تاترہ” کے ایڈیٹر اور پشتو ادبی بورڈ کے جنرل سیکرٹری عنایت اللہ ضیاء نے پشاور اور چارسدہ کے درمیان مشہورگاؤں چغرمٹی میں4 مارچ 1954ء کو ایک صاحب جائیداد خان بھادر خان کے ہاں آنکھ کھولی تاہم ان کے گاؤں اور اردگرد ایک ایسا بدصورت ماحول اور بیمار معاشرہ تھا جس میں طرح طرح کی جان لیوا بیماریاں اور بدصورتیاں پائی جاتی تھیں جن میں غربت، افلاس، ناداری، غیرمنصفانہ تقسیم، جبر و جہل، رسم و رواج کی زنجیریں، فرسودہ روایات اور نفرتیں سرفہرست تھیں۔ ان کا تعلق پختونوں کے مشہور قبیلہ درانی کی شاخ الکوزئی سے ہے۔ اپنے پانچ بہن بھائیوں میں وہ سب سے بڑے ہیں۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے مڈل سکول سے حاصل کی اور میٹرک کے لیے گورنمنٹ ہائی سکول متھرا میں داخل کر دیے گئے۔ روزانہ چارمیل کا فاصلہ پیدل طے کیا کرتے تھے۔ گورنمنٹ ہائی سکول متھرا سے 1971ء میں میٹرک کیا۔ بچپن میں بہت زیادہ شرارتیں کیا کرتے تھے اور گھر سے نکلتے ہی اکثر اوقات چوپایوں کی طرح دونوں ہاتھ پاؤں سے چلتے تھے اور دیواروں کے سوراخوں میں ہاتھ ڈالتے تھے۔ نئی سے نئی شرارت کرنے پر انہیں اپنی مسجد کے پیش امام پیر سباق استاد شیطانوں کا باپ کہا کرتے تھے جن سے انہوں نے قرآن پاک پڑھا۔ گاؤں کے روایتی کھیلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے تاہم گاؤں سے لے کر سکول اور کالج تک کسی بھی کھیل میں نہ اچھے کھلاڑی رہے اور نہ ہی کبھی سکول کالج میں تقریری مقابلہ جیتا۔


زمانہ طالب علمی میں اپنی کلاس کی سطح پر ادبی سوسائٹی کے صدر بھی رہے۔ چوں کہ دریائے شاہ عالم ان کے گھر کے قریب ہے اس لیے گرمی کے موسم میں دن میں کئی بار اس دریا میں نہایا کرتے تھے۔ انہیں تیرنا خوب آتا ہے۔ اکثر اوقات دریا میں نہانے اور شام کو گھر دیر سے آنے پر والدہ کے ہاتھوں خوب مار بھی کھانا پڑتی تھی۔ والد نے صرف ایک بار اس وقت خوب پٹائی کی تھی جب عنایت اللہ ضیاء گاؤں میں منعقدہ میلادشریف میں شریک ہو کر رات کو گھر دیر سے آئے تھے۔ انہیں اس بات کا بہت افسوس ہے کہ جب والد اور والدہ کی محبت اور ان کی شفقت سے استفادہ کرنے کی عمر میں پہنچے تو وہ دونوں باری باری اس دنیا کو چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے انہیں داغِ مفارقت دے گئے۔ بچپن اورلڑکپن دونوں میں غلیل اور بندوق سے پرندوں کا خوب شکار کیا اور ایک مانے ہوئے نشانہ باز رہے ہیں۔ پرندے کو مار کر اس کا خون اپنی غلیل پر مل دیا کرتے تھے تاکہ مزید شکار بھی ہاتھ آ جائے۔ شکار کی غرض سے جاتے وقت اگر اپنے ساتھ چاقو یا چھری لینا بھول جاتے تو شکار کیے ہوئے پرندے کی گردن کھینچ کر اس پر اللہ اکبر کہہ کر اسے ذبح کر لیا کرتے تھے۔ زمانہ طالب علمی میں فلم دیکھنے پشاور آیا کرتے تھے۔ محمد علی، وحید مراد اور ندیم کی فلمیں شوق سے دیکھا کرتے تھے۔ مار دھاڑ اور ایکشن کی فلموں سے انہیں سخت نفرت ہے۔ موسیقی سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔ لڑکپن میں اپنے لیے رباب بھی خریدا تھا تاہم سیکھنے میں ناکام رہے۔ راہ چلتے وقت پشتو کے لوک گیت گنگنایا کرتے تھے۔


عنایت اللہ ضیاء کو بچپن میں دو چیزوں نے بہت زیادہ متاثر کیا۔ ایک حفیظ جالندھری اور صوفی تبسم کی نظموں نے اور دوسرا ان کے گاؤں کے قریب واقع مشہور اصحاب بابا کا مزار جہاں روز سکول کالج کے طلبہ حاضری دینے آیا کرتے تھے اور دعائیں مانگتے تھے کہ اے اللہ ہمیں اپنی اس ہستی کے طفیل سالانہ امتحان میں امتیازی نمبروں سے پاس فرما۔ یہ منظر دیکھ کر عنایت اللہ ضیاء دل میں کہا کرتے تھے کہ کاش میں بھی شاعر بن جاؤں اور لوگ میری نظمیں اور غزلیں پڑھ کر مجھے یاد کریں۔ اس کے علاوہ ان کے دل میں یہ خواہش بھی سر اٹھاتی تھی کہ کاش وہ بھی ایک ایسے ہی ولی اللہ بن جائیں جن کے مزار پرلوگ حاضری دینے آئیں اور طرح طرح کی منتیں مانگ کر مزار پر شمعیں جلائیں۔ اب تک بطور شاعر ان کی ایک آرزو تو پوری ہو گئی ہے۔ دوسری کے بارے میں خدا بہتر جانتا ہے۔ اگرچہ گزشتہ کئی سالوں سے وہ مذہب اور تصوف کے مسائل اور مباحث میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں تاہم کامل صوفی یا ولی اللہ بننے کے لیے جن کٹھن راستوں اور مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ان سے تاحال عنایت اللہ ضیاء کوسوں دور نظر آتے ہیں۔


انہوں نے شاعری کی ابتدا اپنے سکول کے نصاب میں شامل نظموں سے متاثر ہو کر کی، میٹرک کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج پشاور میں داخلہ لیا اور 1972ء میں ایف اے کرنے کے بعد کالج کو خیرباد کہہ دیا۔ 1977ء میں شادی اپنے خاندان میں گھر والوں کی مرضی سے کی۔ انہیں اب تک اللہ تعالیٰ نے چار بیٹیوں اور دو بیٹوں سے نوازا ہے۔ وہ اپنی ازدواجی زندگی سے بے حد مطمئن ہیں۔ چوں کہ انہیں لڑکپن سے پروڈیوسر بننے کا بہت شوق تھا جس کے لیے انہوں نے پرائیویٹ طور پر پہلے بی اے اور بعد میں ایم اے پشتو کی ڈگری حاصل کی اور1981 ء میں ریڈیو پاکستان میں پشتو نیوز سیکشن میں بطور مترجم بھرتی ہو گئے۔ اپنی خداداد صلاحیتوں اور محنت کے بل بوتے پر 1986ء میں ان کی دیرینہ خواہش پوری ہو گئی اور انہیں ترقی دے کر پروگرام پروڈیوسر جب کہ 2005ء میں پروگرام منیجر بنا دیا گیا۔ پشاور کے علاوہ راول پنڈی، اسلام آباد اور کوئٹہ ریڈیو سٹیشن میں بطور پروگرام پروڈیوسر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں اردو اور پشتو کے ڈرامے پروڈیوس کر چکے ہیں۔


عنایت اللہ ضیاء نے اپنا پہلا افسانہ اپنے بھائی کی حادثاتی موت پر لکھا۔ اب تک ان کی شاعری اور افسانوں پر مشتمل پانچ کتابیں منظرعام پرآئی ہیں جن میں ”مازیگری سیوری”، ”د سحر زیری”، ”ٹالونہ”، ”ریخمین ریخمین ریخم”، ”لیونے پہ شیش محل کے” شامل ہیں۔ ان کے فن اور شخصیت پر مختلف ادیبوں اور دانشوروں کے مقالات پر مشتمل کتاب ”د ضیاء فکر و فن” بھی چھپ چکی ہے۔ لطائف شوق سے سنتے اور سناتے بھی ہیں۔ ویسے تو وہ بہت شائستہ طبیعت کے مالک ہیں مگر بھوک ان کے غصے کے لیے جلتی پر تیل کا کام کرتی ہے جس کے باعث پھر وہ مخاطب کو دل ہی دل میں کوستے بھی ہیں۔ سفید رنگ ان کی کم زوری ہے جس کی وجہ سے انہیں آپ ہر وقت سفید لباس میں ملبوس پائیں گے۔ مکیش، طلعت محمود، محمد رفیع، مہدی حسن، احمد رشدی، خیال محمد ان کے پسندیدہ گلوکار ہیں۔


وہ خدائی خدمت گار تحریک کے بانی خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کے گفتار اور کردار دونوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور باچا خان کو پختون قوم کے لیے سب سے بڑا مصلح قرار دیتے ہیں جنہوں نے پختون جیسی جنگجو قوم کے ہاتھوں میں تلوار اور بندوق کی بجائے قلم اور عدم تشدد کی کتاب تھما دی۔ موسم کا ہر پھل اور صاف اور ستھری خوراک جو بھی ہو شوق سے کھاتے ہیں۔ سیاحت سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ قدرتی مناظر میں دشت و صحرا اور پہاڑ کو دیکھ کر اس میں کھو جاتے ہیں۔ وہ شہر کی بجائے گاؤں کے ماحول میں زیادہ خوش رہتے ہیں کیوں کہ انہیں اپنے افسانوں کے لیے یہاں سب سے زیادہ حقیقی کردار اور واقعات ملتے ہیں۔ فارغ وقت میں حجرے میں دوستوں کے ساتھ خوش گپیاں لگاتے ہیں۔ مطالعہ بالکل چھوڑ دیا ہے تاہم اخبارات اور ٹیلی وژن کی خبریں باقاعدہ پڑھتے اور سنتے ہیں۔ نسوار کے علاوہ سگریٹ نوشی بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے 1999ء میں داڑھی رکھی جسے وہ چوبیس گھنٹے کی سنت کا نام دیتے ہیں۔ صبح سویرے اٹھتے ہیں۔ خزان کے موسم سے خوب لطف اٹھاتے ہیں اور بہار کے موسم کی کم عمری پر افسوس کرتے ہیں۔ دس دنوں کا چاند ان کے لیے بہت دلکشی رکھتا ہے جس پر انہوں نے ڈھیرساری نظمیں بھی لکھی ہیں۔ حسن چاہے جہاں بھی ہو اور جس شکل میں بھی ہو انہیں متاثر کرتا ہے تاہم سب سے زیادہ انسان کے باطنی حسن، حسن اخلاق اور حسن کردار کے قائل ہیں۔


گاؤں کے قریبی دوستوں کے ساتھ روزانہ اپنے حجرے سے لے کر شاہ عالم دریا تک واک کرتے ہیں۔ ادبی شخصیات میں امیر حمزہ خان شنواری اور قلندر مومند کو اپنے دل اور جگر سے تعبیر کرتے ہیں۔ امیر حمزہ شنواری کو پشتو کے قدیم اور جدید ادب کے درمیان پل اور قلندر مومند کو پختونوں کا ہمدرد اور بہت بڑے انسان قرار دیتے ہیں۔ عشق و محبت سے عاری زندگی کو تلخ اور کانٹوں سے بھری زندگی گردانتے ہیں۔ اپنے لیے کپڑے جوتے گھر کے لیے سودا سلف اور دیگر ذاتی استعمال کی چیزیں خود خریدتے ہیں۔ سال میں صرف ایک بار سکول کی چھٹیوں کے دوران بیوی بچوں سمیت سیر کرنے جاتے ہیں۔ گھر میں دوستانہ ماحول قائم کر رکھا ہے اور اب تک ان کے ہاں مشترکہ خاندانی نظام برقرار ہے۔


انہیں بہترین کارکردگی پر ریڈیو پاکستان نے ایکسی لینس ایوارڈ سے نوازا ہے اور ان کے افسانوں پر مشتمل کتاب ”لیونے پہ شیش محل کے” نے اباسین ادبی ایوارڈ حاصل کیا ہے۔ دوران سفر نیم کلاسیکی موسیقی انہماک سے سنتے ہیں۔ عہد شباب میں اداکاری کے دل داد ہ تھے اور فلموں میں کام کرنا چاہتے تھے، تاہم خاندان اور روایات کی وجہ سے اس طرف نہیں جا سکے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے پشتو زبان اور ثقافت پر بیرونی تہذیبی یلغار کو خطرناک قرار دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں پختون لکھاریوں کے ہاتھوں میں جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بجائے صرف قلم رہ گیا ہے جس سے مقابلہ کرنا ممکن نہیں۔ ترقی پسند ادب کا اعتراف کرتے ہیں کہ اس نے تمام زبانوں کے ادب کو ایک نئی راہ دکھائی تاہم ترقی پسند نظریے کے اس وجہ سے مخالف ہیں کہ اسے ایک محدود دائرے میں مقید رکھا گیا اور اس نظریے نے پختونوں کوبہت بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ اپنی زمین کی بوباس سے اٹھنے والے ادب کو سب سے زیادہ کارآمد اور ترقی پسند ادب کا نام دیتے ہیں۔ گلوبلائزیشن کو چھوٹی قوموں کی زبان اور تہذیب کے لیے موت اور پس ماندہ اقوام اور ممالک کی گردن میں ایک نئی غلامی کا طوق سمجھتے ہیں۔

ٹی وی چینلوں کے بڑھتے ہوئے سیلاب میں ریڈیو کے مستقبل سے بے حد مطمئن ہیں۔ ریڈیو کو ایک ایسی توانا آواز سمجھتے ہیں جو ہر جگہ اور ہر حالت میں سنی جا سکتی ہے۔ آج کل پورے ملک کی جو حالت ہے وہی حالت ریڈیو سٹیشنوں کی بھی قرار دیتے ہیں۔ ریڈیو کو معلومات اور تعلیم کا آسان ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ پرائیویٹ ایف ایم ریڈیو چینلز کو ریڈیو پاکستان کے لیے کوئی خطرہ نہیں سمجھتے۔ ان کی سب سے بڑی خواہش ہے کہ وہ ایک ایسا کارنامہ سرانجام دیں جس سے ملک و قوم کی فلاح اور اجتماعیت کا پیغام اور درس ملے۔ ملک میں رائج سیاست کو تجارت اور ذاتی مفادات کا کھیل سمجھتے ہیں۔ بطور سیکرٹری انہوں نے پشتو ادبی بورڈ میں نئی جان ڈالی اور کئی تحقیقی اور تاریخی کتابیں شائع کروائیں۔ پختونوں کی موجودہ معاشی بدحالی کی وجہ ان کے آپس کے اختلافات اور کدورتوں کو قرار دیتے ہیں۔ انہیں اپنے قریبی ادبی دوست خوابوں کا بنجارہ اور سوداگر بھی کہتے ہیں اور وہ خود بھی بڑے فخریہ انداز میں اپنے آپ کو خواب دیکھنے اور خواب بانٹنے والے تخلیق کار کہتے ہیں اور خوابوں کو اپنے فن کا ایک اہم منصب گردانتے ہیں تاہم اس نظریے کے ساتھ کہ
زندگی خواب دیکھتی ہے مگر
زندگی زندگی ہے خواب نہیں

یہ بھی پڑھیں

Sultan

LNG کوئی گاجر مولی نہیں؟

غلط اور تاخیر سے فیصلوں کی وجہ سے قومی خزانے کو 122 ارب روپے کا …