کورونا عطیات، پیسہ کہاں ہے؟

پاکستان تحریک انصاف حکومت کی نااہلیوں، کوتاہیوں اور غفلتوں سے متعلق انکشافات کا سلسلہ جاری ہے، آئے روز نئے نئے سکینڈلز الگ سے اخبارات کی زینت بن رہے ہیں، لیکن افسوس کہ یہ سلسلہ میڈیا تک ہی محدود ہے۔ اب حالیہ انکشاف کورونا وباء کیلئے جمع عطیات کے بارے میں ہوا ہے جس کا ایک دھیلہ بھی تاحال مقررہ مد میں خرچ نہیں کیا جا سکا ہے۔ اس سے قبل کورونا ہی کے ساز و سامان میں خوربرد کا انکشاف ہوا تھا، اس کا کیا بنا، اس حوالے سے مکمل خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ بہرکیف قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی دستاویز کے مطابق وفاقی حکومت نے تاحال کرونا وباء کے لئے جمع عطیات میں ایک پیسہ بھی عوام پر خرچ نہیں کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی تفصیلات کے مطابق جمع ہونے والی چار ارب،84 کروڑ 24 لاکھ26 ہزار121 روپے کرونا کے سدباب کے لئے اندرون و بیرون ملک عوام کی جانب سے جمع کئے گئے ہیں۔

ان عطیات میں ایک ارب چھ کروڑ34 لاکھ 8 ہزار414 روپے بیرون ملک سے پاکستانیوں نے بھجوائے تھے جبکہ باقی ماندہ رقم درد دل رکھنے والے ملکِ عزیز کے شہریوں کی جانب سے دی گئی ہے۔ لیکن حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ابھی اتک اتنی خطیر رقم کو بروئے کار نہیں لایا جا سکا ہے۔ پوری دنیا میں اگر ایک طرف ریاستیں اپنی رعایا کے تحفظ اور ان کے علاج معالجے یا حفاظتی تدابیر کے لئے بھرپور رقم جمع اور خرچ کر رہی ہیں تو دوسری طرف کرونا وباء ہی کی وجہ انفرادی اور اجتماعی طور پر کئی ممالک مالی لحاظ سے برباد ہوگئے ہیں تو اس لئے کئی ممالک نے اپنی عوام کی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لئے ان کو ماہانہ خرچ کے لئے رقم بھی دی۔ اگرچہ پاکستانی حکومت نے بھی اس سلسلے میں ضرورتمندوں کو معمولی یا برائے نام رقم جاری کی ہے مگر سوال پھر بھی یہی پیدا ہوتا ہے کہ ان جمع شدہ عطیات پر کس کا کنٹرول ہے اور یہ رقم کیوں لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ نہیں ہوئی؟ بدقسمتی سے پاکستانی عوام کو آج کل کئی مسائل کا سامنا ہے۔

ایک تو حکومت کی نااہلی ہے جس کی وجہ سے روزمرہ کی اشیاء میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے کو ملا اور یہ سب کچھ ایک ایسے دور میں ہو رہا ہے جب پوری دنیا عوام کو ریلیف دینے کیلئے مختلف تجاویز پر سوچ بچار کر رہی ہے مگر پاکستان میں کیس بالکل الٹا ہے۔ بدقسمتی ہماری یہ بھی ہے کہ کرونا وباء پاکستان تحریک انصاف کی ناکام حکومت کے دور میں آئی جس کی وجہ سے حکمران جماعت کے تو اوسان خطا ہو گئے۔ اسی ڈر، بدحواسی یا پھر خالی خولی دعوؤں اور بھڑکوں کے عین درمیان نہ تو حکومت نا وزراء اور نہ ہی این ڈی ایم اے نے اس رقم کو بروئے کار لانے کا سوچا۔ حکومت کو چاہئے کہ اس رقم سے عوام کے لئے حفاظتی اقدامات یا مہنگائی اور بے روزگاری کے اس دور میں ان کے لئے کوئی موثر منصوبہ سامنے لائے تاکہ عوام کی تکالیف کا مداوا ہو سکے۔ چونکہ عوام اور ریاست کے مابین عمرانی ماہدہ میں یہ تمام باتیں شامل ہوتی ہیں کہ مشکل گھڑی میں ریاستی اہلکار عوام کے لئے آسانیاں پیدا کریں گے اس لئے حکومت کو اب دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ کورونا وباء کو بھی سنجیدہ لینا ہو گا۔ مگر یہاں پر تو ماچس کی ڈبیہ پر ٹیکس تو ریاست وصول کیا جاتا ہے مگر اس کے بدلے میں بنیادی انسانی حقوق یا تو غصب اور یا پھر مکمل طور پر ندارد۔

یہ بھی پڑھیں

Khanzeb

قومیت کا انتشار ۔۔۔ مولانا خانزیب

قومیت کی تعریف میں دیگر بنیادی اکائیوں کے ساتھ اقتصادی اور معاشی اشتراک کسی قوم …